طالبان سے صرف فوجی انخلا ،نہیں جامع امن منصوبے پربات کررہے،امریکا

109

دوحا،واشنگٹن(خبر ایجنسیاں)امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ محض افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر بات چیت نہیں کر رہا بلکہ مذاکرات کا محور ایک جامع امن منصوبے پر اتفاقِ رائے ہے۔امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ مجوزہ امن معاہدے کے چار حصے ہیں جو تمام ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدہ جن نکات پر مشتمل ہوگا ان میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق یقین دہانی، غیر ملکی فوج کا انخلا، افغان فریقین کے مابین مذاکرات اور اس کے نتیجے میں کسی سیاسی سیٹ اپ پر اتفاقِ رائے اور ایک جامع اور مستقل جنگ بندی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے اس فریم ورک کو افغان طالبان بھی قبول کرچکے ہیں اور اسی پر فریقین کے درمیان بات چیت ہورہی ہے۔زلمے خلیل زاد نے یہ وضاحت بظاہر افغان طالبان کے اس بیان کے ردِ عمل میں کی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات کے دوران امریکا افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا اور مستقبل میں افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر راضی ہوگیا ہے۔افغان طالبان کے قطر میں واقع سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے گزشتہ روز ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے طالبان کا مرکزی مطالبہ مان لیا ہے اور افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے اور افغانستان کے امور میں مداخلت نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔سہیل شاہین کے اس ٹوئٹ کے چند گھنٹوں بعد طالبان سے مذاکرات کرنے والے امریکی وفد کے سربراہ زلمے خلیل زاد کی یہ وضاحت سامنے آئی کہ امریکا طالبان کے ساتھ محض اپنی فوج کے افغانستان سے انخلا پر بات نہیں کر رہا بلکہ اس کی ترجیح ایک جامع امن منصوبے پر اتفاقِ رائے ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں خلیل زاد نے یہ بھی کہا ہے کہ جب تک تمام باتوں پر اتفاق نہیں ہوجاتا اس وقت تک یہ سمجھا جائے کہ کسی ایک بات پر بھی اتفاق نہیں ہوا ہے۔امریکا اور افغان طالبان کی جانب سے یہ متضاد بیانات ایسے وقت آئے ہیں جب دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا نیا دور رواں ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحا میں شروع ہو رہا ہے۔قطر میں دونوں فریقوں کے درمیان گزشتہ سال سے جاری مذاکرات کا یہ ساتواں دور ہوگا جسے مبصرین اور سفارت کار بہت اہم قرار دے رہے ہیں۔دریں اثناء افغان طالبان کے اعلیٰ سطحی وفد نے ایران کا دورہ کیا ہے جہاں اس کی ایرانی حکام سے بات چیت ہوئی ہے۔ افغان طالبان کا وفد اس سے قبل چین کا بھی دورہ کرچکا ہے ۔ طالبان ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر امریکا سے ہونے والی بات چیت ناکام ہوتی ہے تو تحریک طالبان دیگر علاقائی قوتوں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔افغان طالبان کے وفد کے دورے کی تصدیق یا تردید ایرانی حکام کی جانب سے نہیں کی گئی ہے لیکن قطر میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے ذمہ دار ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے۔ غالب امکان ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان سات اور آٹھ جولائی کو مذاکرات ہوسکتے ہیں تاہم ابھی تک یہ تاریخ حتمی نہیں ہے۔دلچسپ امر ہے کہ طالبان کے دورہ تہران کے متعلق ایران کی جانب سے کوئی بات نہیں کی گئی ہے لیکن افغانستان میں متعین ایران کے سفیر کے حوالے سے یہ بات ضرور سامنے آئی ہے کہ طالبان کو اقتدار میں شریک کیا جائے۔