وزیر اعظم صاحب! مایوسی بڑھ گئی ہے

115

عمران خان کی حکومت رفتہ رفتہ ناکامی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ ایک جانب ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے اعلان کیا ہے کہ بجٹ کو پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہونے دیں گے ،اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی نے بھی بجٹ کو مسترد کردیا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی طلب کردہ کل جماعتی کانفرنس میں بھی کچھ اسی طرح کے اعلانات متوقع ہیں تو دوسری جانب حکومت نے بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے جن پتوں پر تکیہ کیا تھا ، وہ پتے اب ہوا دینے لگے ہیں ۔ آئی ایم ایف نے اپنی تمام تر شرائط منوانے کے باوجود ابھی تک 6 ارب ڈالر کے قرض کی پاکستان کے لیے منظوری نہیں دی ۔بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے عمران خان کی کابینہ کے دو ارکان خسرو بختیار اور عبدالحفیظ پاشا نے اعلان کیا تھا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 3.6 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دے دی ہے ۔ اس اعلان کی تردید چھٹی والے دن اتوار کو ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایک اخباری بیان کے ذریعے کی ۔ ایشائی ترقیاتی بینک کے اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ایشیائی ترقیاتی بینک کے وفد کو قرضے کی منظوری کا اختیار ہی نہیں ہے ۔مذکورہ وفد محض سفارشات دے سکتا ہے جبکہ قرضے کی منظوری بینک کا بورڈ ہی دینے کا مجاز ہے ۔ اس منظر نامے کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے دن عمران خان کے لیے مشکل ہیں ۔ سب سے پہلے تو انہیں بجٹ کی منظوری کے لیے ہی پارلیمان کا پہاڑ سر کرنا پڑے گا۔ موجودہ حالات میں اس کی منظوری آسان نہیں دکھائی دے رہی ۔ جماعت اسلامی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف پہلے ہی عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع کرچکی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام بھی میدان میں اترنے کا اعلان کرچکی ہیں ۔ جمعہ کو پیپلزپارٹی نے اپنا پہلا مورچہ زرداری کے آبائی علاقے نوابشاہ میں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ن لیگ پنجاب اور جمعیت علماء اسلام خیبر پختون خوا کا محاذ سنبھالیں گے ۔ جماعت اسلامی بھی گزشتہ اتوار کو لاہو رمیں مال روڈ پر اپنا رنگ دکھا چکی ہے اور اس کا دوسرا جلسہ آئندہ اتوار کو فیصل آباد میں ہوگا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر بھی اور باہر بھی حالات قطعا ًموافق نہیں ہیں ۔ اگر نادیدہ قوتوں کی مدد سے عمران خان کسی طرح بجٹ کی منظوری پارلیمنٹ سے کروا بھی لیں تو بھی آنے والے دن ان کے لیے آسان نہیں ہوں گے کیوں کہ بجٹ کا تقریبا نصف حصہ خسارے پر مبنی ہے جسے پورا کرنے کے لیے عمران خان کو لازمی طور پر قرض درکار ہے ۔ قرض دینے والے غیر ملکی اداروں اور بینکوں کو بھی اس امر کا احساس ہے کہ ان کی پوزیشن کتنی مضبوط ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر شرائط بلا چوں وچرا مان لینے کے باوجود ان کی شرائط کی فہرست روز طویل ہوتی جارہی ہے ۔ اس وقت عمران خان کی ذاتی مقبولیت پاکستان میں کم ترین سطح پر ہے ۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ہر ایک کے کس بل نکال دیے ہیں ۔ عمران خان نے انتخابات سے قبل جتنے بھی وعدے کیے تھے ، ان سب سے وہ تائب ہوچکے ہیں ۔ عوام کو امید تھی کہ عمران خان سابقہ ادوار میں لوٹے گئے کھربوں روپے ملک میں واپس لائیں گے جس سے ملک میں خوشحالی آئے گی ، مجرموں کو بلا امتیاز کیفرکردار تک پہنچائیں گے جس سے بدعنوانی کا سدباب ہوگا ، ملک سے سفارش کلچر کا خاتمہ ہوگا اور میرٹ پر تمام امور انجام پائیں گے ۔یہ بھی فرمایاتھاکہ اتنے ڈالر آئیں گے جو گنے نہیں جا سکیں گے۔ زمینی حقائق ان تمام توقعات کے برعکس ہیں جس سے عوام میں مایوسی پھیل چکی ہے ۔ اس پر مستزاد عمران خان کا اسلامی تعلیمات اور ناموس رسالت کی جان بوجھ کر تضحیک کرنا ہے ۔ عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی مدینہ کی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی مگر اب کوئی دن ایسا نہیں جاتا جس میں اسلامی شعائر کی تضحیک نہ کی جاتی ہو ۔ ہندو مت کے بارے میں حقیقت بیان کرنے پر تو وزیر کو مستعفی ہونا پڑتا ہے مگر اسلامی شعائر اور ناموس رسالت کی تضحیک پر جواز پیش کیے جاتے ہیں ۔ اس سے عوام میں عمران خان کی رہی سہی مقبولیت بھی ختم ہوچکی ہے ۔ صورتحال کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ معاملات اب ایوان میں نہیں بلکہ سڑکوں پر طے ہوں گے ۔ معاملات کے ایوان سے نکل کر سڑکوں پر آنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اب ملک میں کوئی قاعدہ قانون نہیں رہا ۔ احتجاج کو دبانے کے لیے نہ تو سرکار شہریوں کے حقوق کا کوئی خیال کرے گی اور نہ ہی احتجاجی عوام کسی قانون کو خاطر میں لائیں گے۔ اس صورتحال کے نتائج کو سمجھنے کے لیے سوڈان کے موجودہ حالات کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس پوری صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس کا تمام تر نقصان صرف اور صرف پاکستان کو ہوگا ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان سمجھداری سے کام لیں اور ان تمام کاموں سے یو ٹرن لے لیں جن سے عوام ناراض ہیں ۔ عمران خان کو جاننا اور سمجھنا چاہیے کہ ان کی اصل قوت عوام ہی ہیں ۔ اگر وہ سچے دل سے توبہ کرلیں کہ شعائر اسلام اور رسول پاک ﷺ کی توہین نہیں کریں گے اور دشمنان اسلام کی سرکوبی کے لیے اپنی قوت صرف کریں گے تو یہی پاکستانی عوام ان کے پشتیبان ہوں گے۔ اگر وہ آئی ایم ایف کے املا پر چلنے کے بجائے سود کے خاتمے کے لیے کوششیں کریں تو انہیں آئی ایم ایف کی بلیک میلنگ سے چھٹکارا مل جائے گا ۔ شرط خلوص نیت کے ساتھ عملدرآمد کی ہے ۔ اگر وہ اسی طرح اسلام دشمنوں کے ہاتھوں کھیلتے رہے تو پھر انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ذلت ہی ان کا مقدر ہوگی ۔