ملک میں معاشی عدم استحکام حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے،ہارون میمن

51

سکھر (نمائندہ جسارت) آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے چیئرمین حاجی محمد ہارون میمن نے کہا ہے کہ ملک میں جاری معاشی عدم استحکام حکومت کی ناقص اور غیر مقبول پالیسیوں کا نتیجہ ہے، ملک کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کی معاشی پالیسیوں کے تحت چلانے کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے، حکومت نے آئندہ آنے والے بجٹ میں بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے ساتھ ساتھ تاجروں پر نئے ٹیکس عائد کرنے کا جو عندیہ دیا ہے وہ تاجروں اور عوام کے لیے باعث تشویش ہے، حکومت نے جبری ٹیکس عائد کیے تو تاجر برادری ملک گیر سطح پر احتجاج اور شٹر ڈائون ہڑتال کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاجر سیکرٹریٹ شاہی بازار سکھر میں تاجروں کے نمائندہ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خواجہ جلیل احمد، بدر رفیق قریشی، حاجی صابر، سید محمود علی، صابر کپتان، فیاض خان، حاجی انور وارثی، لالا عابد کھوکھر، مولانا عثمان فیضی، برکت سولنگی، گلزار بھٹو، عطا محمد قریشی، حاجی یامین اور دیگر بھی موجود تھے۔ حاجی محمد ہارون میمن کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے اور صدر، وزیر اعظم، گورنر، وفاقی و صوبائی وزرا، ارکان پارلیمنٹ کی مراعات کم کرنے کے بجائے قرضوں کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے اور ملک میں مہنگائی ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ حکومت نے تاجروں اور عوام کو پریشان کرنے کا سلسلہ ترک نہ کیا تو اس کے لیے مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ تاجر برادری پہلے ہی مختلف ٹیکس ادا کررہی ہے اور مزید ٹیکس لگانے کے نتیجے میں عام آدمی پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا، جو غریب عوام برداشت نہیں کرسکیں گے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں پر قرضے لینے کے نتیجے میں ڈالر بڑھے گا اور روپے کی قدر مزید کم ہوجائے گی، جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی بحران مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر اور عوام دشمن پالیسیاں کوئی محبت وطن برداشت نہیں کرسکتا۔ عالمی مالیاتی اداروں کی ایما پر بجٹ بنانے کے بجائے معاشی ماہرین اور تاجروں کی مشاورت سے بجٹ تیار کیا جائے اور حکومت جو بھی معاہدے عالمی مالیاتی اداروں سے کررہی ہے وہ کھل کر پارلیمنٹ میں اور عوام کے سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی مراعات کم کرکے بچت کے رجحان کو فروغ دیں اور حکومتی سطح پر غیر ضروری اخراجات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔