آئی ایم ایف نے ناقابل قبول شرائط رکھیں تو قرض نہیں لیں گے،وزیر خزانہ 

140

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے ناقابل قبول شرط رکھی تو معاہدہ نہیں کریں گے، پاکستان نے آج تک آئی ایم ایف سے قرض کے 18 معاہدے کیے، جن میں سے 7فوجی حکومتوں اور باقی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ادوار میں ہوئے، ہمارا جاری کھاتوں کا خسارہ ہر ماہ 2 ارب ڈالر جا رہا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر گرتے جارہے ہیں، ستمبر 2018ء میں زرمبادلہ کے ذخائر 8ارب 40کروڑ ڈالر پر آگئے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے تجارتی خسارہ بڑھا ، ایران پر پابندیاں درآمدات میں اضافے کا باعث بنیں، ایسی صورت حال میں کسی نہ کسی سے بیل آؤٹ ناگزیر تھا، ہم نے آئی ایم ایف سے بات چیت میں تاخیر نہیں کی، اس معاملے پر سب سے مشاورت کرنی ہوتی ہے، آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات عمران خان نے کی ہو گی میں نے نہیں کی۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے ہفتے کو وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا جس میں ان کے الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا پر پرانے بیانات دکھائے گئے جن میں انہوں نے آئی ایم
ایف اور دیگر ذرائع سے بیل آوٹ پیکج کی حمایت کی تھی۔وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ میں نے کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات نہیں کی۔وفاقی وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 18 مرتبہ آئی ایم ایف سے معاہدے کیے ہیں لیکن جو باتیں ہوئیں اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ شاید ہم نے آئی ایم ایف کے پاس جاکر کوئی انوکھا کام کیا ہے۔ایک سوال پر وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)اورفوجی حکومتوں نے آئی ایم ایف سے رابطے کیے۔وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ میرے بارے میں سینیٹر میاں رضا ربانی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کل رات ہی واپس آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل کہ صحافی سوال کریں میں ایک وڈیو دکھاتا ہوں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ میں وہ تقریر ڈھونڈ رہا ہوں جس میں، میں نے کہا ہو کہ آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا، عمران خان نے کسی وقت ضرور کہا ہوگا کہ آئی ایم ایف میں نہیں جائیں گے، مگر اس الیکشن کے تناظر میں میں نے کبھی یہ نہیں کہا، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے مئی،جون اور جولائی3 ماہ مسلسل کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ رہا ہے،مشاورت کے بعد آئی ایم ایف کے پاس گئے ہیں اور ہم نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ بیل آؤٹ کے لیے نہیں جائیں گے، آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بیان کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں 600پوائنٹ اضافہ ہوا ہے۔اسد عمر نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے دوست ممالک کے پاس گئے، سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے کوئی ناقابل قبول شرائط نہیں رکھیں، آئی ایم ایف نے پیکج کے لیے قومی سلامتی سمیت اگر کوئی بھی ناقابل قبول شرائط سامنے رکھیں تو سمجھوتانہیں کریں گے، آئی ایم ایف کے پاس جانے کا چینی قرضوں سے کوئی تعلق نہیں، امریکی دفتر خارجہ کا آئی ایم ایف کے پاس جانے کا ذمے دار چینی قرضوں کو قرار دینا 100 فیصد غلط ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بنیادی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی خسارہ ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے تجارتی خسارہ بڑھا، امریکا کی ایران پر پابندیوں کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، عالمی منڈی میں بے یقینی کی صورتحال ہے، تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کا تجارتی توازن متاثر ہوا اور آگے بھی خطرات نظر آرہے ہیں ، روپے کی قدر میں کمی اسٹیٹ بینک نے کی ہے، دیگر ممالک نے اپنی کرنسی کی قدر میں ہم سے بھی زیادہ کمی کی ہے۔دوسری جانب انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کے مطابق پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 15 ارب ڈالر کا پروگرام کرے گا۔آئی آئی ایف کے مطابق 3 سالہ پروگرام پر اس سال کے آخر تک معاہدہ ہوجائے گا اور بجٹ خسارہ کم، شرح تبادلہ میں لچک اور سخت مانیٹری پالیسی اگلے پروگرام کی شرائط ہوں گی۔آئی آئی ایف کا کہنا ہے کہ 2017ء سے روپے کی 24 فیصد گراوٹ نے روپے کو حقیقی قدر دے دی ہے جس کے بعد روپے کی قدر سے مصنوعی اضافہ ختم ہو گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ