خلاف قانون 33منظور نظر ملازمین ڈیڑھ سال سے عہدوں پر براجمان

59

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )اکاؤنٹنٹ جنرل آف سندھ نے دوسرے محکمے کے69ملازمین کو انکے اصل محکموں میں واپس تو بھیج دیا مگردیگر محکموں کے33منظور نظر ملازمین18ماہ گزر جانے کے باوجود اے جی سندھ میں اب بھی اپنے عہدوں پر براجمان ہیں جنہیں محکمے کے اعلی افسران کی پشت پناہی حاصل ہے ،حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ان 33ملازمین میں سے13کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے جن کی بھرتیاں مشکوک بتائی جاتی ہیں۔ اے جی سندھ کے سابق سینئر آڈیٹر ریاض احمد جوکھیو نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اسلام آباد،ڈائریکٹر جنرل نیب اورسیکرٹری اسکول ایجوکیشن کو تفصیلی خط لکھ کر ان حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اے جی سندھ نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے ملازمین کو ان کے اصل اداروں میں واپس بھیجے جانے کے احکامات کے دھجیاں اڑا دی ہیں۔ اکاؤنٹنٹ جنرل آف سندھ کراچی آفس نے 69افسران و ملازمین کو اپنے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا مگر 33 منظور نظرنان کیڈر افسران و ملازمین کو اپنے اصل محکمے میں بھیجنے سے انکاری ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اے جی سندھ کراچی میں ان افسران و ملازمین کو اپنے عہدوں پر برقرار رکھتے ہوئے ترقیاں بھی
دی گئی ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ اے جی سندھ میں دیگر محکموں کے 33ملازمین میں سے13کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے جوتاحال اپنے عہدوں پر براجمان ہیں ۔دستیاب دستاویزات کے مطابق ان میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس شرقی کراچی کے ذیشان انور، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس وسطی فی میل کے محمد شبیر خان، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس شرقی کراچی کے معراج احمد، ڈائریکٹریٹ آف اسکولز ایجوکیشن کراچی کے محمد علی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل شرقی کراچی تحسین احمد خان، ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ کے طیب احمد، ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے شفیق احمد، ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ گورنمنٹ سندھ کے ریاض احمد، سب ڈویژن ایجوکیشن آفس شرقی فی میل کے محمد کامران ، سب ڈویژن ایجوکیشن آفس لانڈھی کورنگی سے تعلق رکھنے والے عبد المتین ، مڈل اسکول پروجیکٹ کراچی کے ایس مجاہد حسین ، سر سید گورنمنٹ گرلز کالج ناظم آباد کے وقار احمد خان، گورنمنٹ کالج آف ویمن سے تعلق رکھنے والے سید اقبال احسن بھی شامل ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ 19فروری 2018ء کو قومی احتساب بیورو نے سیکرٹری اسکول ایجوکیشن سے ان 13ملازمین کی مکمل تفصیلات طلب کی تھی جس پر سیکرٹری اسکول ایجوکیشن نے ان بھرتیوں کو مشکوک قرار دیا تھا مگر اس معاملے کو دبا دیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ شعبہ تعلیم کے13 ملازمین میں سے بعض نے بھرتیوں کی تصدیق اسکول کے ہیڈ ماسٹرز سے کر وا کر جمع کرائی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ریاض احمد جوکھیو نے خط میں کہا ہے کہ جب اِن کی تصدیق متعلقہ ڈی ای او ایجوکیشن شرقی انیسہ بوگھیو سے کروانے کا کہا گیا تو مذکورہ ملازمین و افسران نے متعلقہ اسکول کے لیٹر ہیڈ پر ہیڈ ماسٹر سے تصدیق کروائی ہے جبکہ ڈسٹرکٹ لیول پر یا ڈائریکٹریٹ سطح پر اِن ملازمین و افسران کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ اِن افسران و ملازمین میں 13کے 13جعلی ہیں یا کچھ افسران اپنی حیثیت کو ثابت نہیں کرسکے‘ اِن افسران وملازمین کے حوالے سے نیب کراچی انکوائری کررہا ہے۔
اے جی سندھ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.