الحمدللہ، ہم ایٹمی طاقت ہیں!

497

سید محمد اشتیاق

ہمارے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کی وطن عزیز سے محبت اور شبانہ روز محنت کی وجہ سے قیام پاکستان کے 51سال بعد، ایٹمی دھماکے کرکے ساتویں ایٹمی قوت والی مملکت کہلائے۔ وطن عزیز کے حکمرانوں اور مقتدر اداروں نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک وطن عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی اندرون و بیرون ملک ہر محاذ پر لڑ کر، جس طرح دل و جان سے حفاظت کی ہے، اس کا معترف ایک زمانہ ہے۔ اس وقت اقوام عالم میں پاکستان اور پاکستانی قوم کا ڈنکا جس زور و شور بج رہا ہے، اس کی پشت پر وہ محیر العقول حکمت عملی اور فیصلے ہیں، جن کو اپنانے کی جرات کوئی ریاست اور قوم نہیں کرسکتی۔ الحمدللہ، قیام پاکستان کے بعد ہر شہری اپنی شناخت رکھتا ہے، کوئی پنجابی ہے اور کوئی سندھی، بلوچی، پختون اور کو ئی اردو سمیت دیگر زبان بولنے والا، کوئی سنی ہے تو کوئی شیعہ، کوئی بم بارود والا تو کوئی دم درود والا، الحمدللہ، سب اس نئی شناخت پر خوش اور مطمئن ہیں، اور اس شناخت کے تحفظ کے لیے لڑنے مرنے کو بھی تیار، ایسی ریاستوں اور قوموں کی نظیر فی زمانہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔
ایٹمی قوت بننے کی دھن میں مگن ہمارے حکمران اور ریاستی ادارے، اگر کچھ بنیادی ضروریارت اور حقوق، جو ہر ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو فراہم کرے، اب تک نہیں کرسکی ہے تو اس پر واویلا مچانا درست نہیں ہے۔ چند ناہنجار اور سر پھرے اہل قلم و دانش اور نام نہاد انسانی حقوق کے دعوے دار، ان بنیادی ضروریات اور حقوق کی آڑ میں ہرزہ سرائی اور وطن دشمنی میں ہمیشہ سے سرگرداں رہے ہیں۔ ان عقل کے اندھوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر آج پینے کا صاف پانی ہر شہری کو ملنے لگے اور گیسٹرو کی وجہ سے معصوم بچوں کی ہلاکت کا سلسلہ رک جائے، تو وطن عزیز کی آبادی کہاں سے کہاں پہنچ جائے گی، سائنس پڑھی ہو تو کچھ پلے بھی پڑے کہ سائنسی طریقے سے آبادی کو محدود کرنے کا، اس سے کامیاب و مجرب نسخہ کسی بھی ریاست نے اب تک نہیں اپنایا ہوگا۔ اسی طرح تعلیمی نظام و نصاب کے حوالے سے روز نت نئے سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ حکومت کی آئینی ذمے داری ہے کہ سولہ برس تک ہر بچے کو مفت و لازمی اور یکساں تعلیمی نظام و نصاب کے تحت تعلیمی سہولتیں فراہم کرے۔ یہ ناہنجار سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر یکساں تعلیمی نظام و نصاب نافذ ہوجائے اور ہر بچہ تعلیم جیسی فضول دولت سے ہمکنار ہوجائے، تو ہر شہری میں شعور پیدا ہوجائے گا اور آج جو ہر شہری اپنی علیحدہ شناخت پر نازاں ہے، اس سے ہاتھ دھونا پڑجائے گا۔ سوشل میڈیا بھی معمولی معمولی سی باتوں کو لے کر قوم کو گمراہ کرنے کے مشن میں لگا ہوا ہے، کبھی قصور ویڈیو اسکینڈل، کبھی زینب زیادتی و قتل کیس، کبھی مردان کی اسماء زیادتی و قتل کیس کو لے کر ڈھنڈورا پیٹنے لگتا ہے۔ اسی لیے وزیر اعلی خیبر پختون خوا نے معاملے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے، تاریخی بیان دیا کہ اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں یعنی سوشل و الیکٹرونک میڈیا زیادہ شور و غل سے پرہیز کرے۔ اسی طرح نقیب اللہ قتل کیس کو بھی لے کر سوشل میڈیا اتاولا ہوا ہوا ہے، اس معاملے میں بھی سابق صدر نے قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹھنڈے دل سے ماورائے عدالت قتل کیس پر غور کریں، ایس ایس پی راؤ انوار ایک بہادر بچہ ہے۔ سابق صدر کے اس بیان پر تو قوم کو فخر کرنا چاہیے کہ کیا پتے کی بات کی ہے، کیا کسی بھی ملک کا سابق صدر ایسا معرکتہ الآراء بیان دے سکتا ہے؟
صحت اور طبی سہولتوں کی فراہمی سے متعلق بھی میڈیا، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے، اگر طبی سہولت اور صحت کی مد میں مختص رقم میٹرو، اورنج ٹرین اور سڑکیں بنانے میں لگائی گئی ہے، تو حکومت کہ پاس یقیناًاس کی کوئی ٹھوس وجہ رہی ہوگی، بظاہر تو یہی نظر آتا ہے کہ نئی سڑکوں، میٹرو اور اورنج ٹرین کی تعمیر سے مریض جلد از جلد منزل مقصود پر پہنچ جائے گا۔ ایسے ہی عدالتوں میں پڑے زیر التواء اور جعلی مقدمات کا رونا بھی رویا جاتا ہے، اگر مقدمات جلد نمٹا دیے گئے، تو عدالتوں کی رونق ماند پڑجائے گی اور قوم کو بلاقیمت جو تفریح میسر ہے، اس سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ قوم کو چاہیے کہ نام نہاد اہل قلم و دانش، میڈیا اور نام نہاد انسانی حقوق کے علم برداروں کی باتوں پر بالکل بھی کان نہ دھریں، اگر کوئی زیادہ شور مچائے یا بہکانے کی کوشش کرے تو ترنت جواب دے دیں کہ ان چھوٹے موٹے مسائل کی ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ الحمدللہ، ہم ایٹمی طاقت ہیں!