یورپ میں مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی آبادی

348
جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث رواں برس تعمیر کی گئی نئی مسجد
جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث رواں برس تعمیر کی گئی نئی مسجد

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ایک امریکی تھنک ٹینک نے پیش گوئی کی ہے کہ یورپ میں مسلمانوں کی تعداد مستقبل میں بڑھے گی۔ ہجرت کو شامل کیے بغیر ہی امکان ہے کہ یورپ کی مجموعی آبادی میں اس صدی کے وسط تک مسلمانوں کی شرح 7.4 فیصد ہو گی۔ امکان ہے کہ اس صدی کے وسط تک یورپ میں مسلمانوں کی آبادی میں تقریباً 2 گنا اضافہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی تعداد اس براعظم کی مجموعی آبادی میں 10 فیصد ہو سکتی ہے۔ یہ انکشاف امریکا کے پیو ریسرچ سینٹر نے اپنی ایک تازہ تحقیق میں کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یورپ میں پچھلے چند برس کے دوران مسلمان ممالک سے لاکھوں پناہ گزینوں کی آمد کے تناظر میں قوی امکانات ہیں کہ یہ انکشاف امیگریشن کے موضوع پر ایک نئی بحث کا سبب بن سکتا ہے۔ یورپ میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی پیش گوئی آبادی میں معمول کے اضافے، مہاجرین کی آمد اور اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کے لیے ہونے والی امیگریشن کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر یورپ کی طرف ہونے والی غیر قانونی ہجرت فوری طور پر رک جائے، تو پھر بھی مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کا امکان ہے اور یہ 2050ء تک یہ 7.4 فیصد تک پہنچ چائے گی۔ یورپ میں 2016ء میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 4.9 فیصد بنتی تھی۔