پاکستان زرعی ملک ہے، کسانوں کی سرکاری سرپرستی نا گزیر ہے، سراج الحق

126
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سکھر میں اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سکھر میں اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں

سکھر(نمائندہ جسارت) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان بے شمار مسائل کا شکارہے لیکن سندھ کے حالات انتہائی پریشان کن ہیں، پاکستان کے لیے سندھ کی بڑی اہمیت ہے۔ صوبہ سندھ پاکستان کے لیے ایک نظریاتی شہ رگ ہے،سندھ کو باب الاسلام ہونے کا شرف حاصل ہے جس کاپاکستان اور برصغیر کی تاریخ میں بڑامقام ہے، لیکن اس اہمیت کے باجود بھی سندھ کے باشندے گوناگو مسائل کا شکار ہیں، ان کے چہروں پر خوشی و اطمینان نہیں، زندگی کی بنیادی
ضرورت پانی ہے مگرسندھ کے باشندوں کوصاف پانی بھی میسر نہیں، جب تک سرکاری سطح پر زراعت اور کسانوں کی سرپرستی نہیں ہوگی پاکستان جو زرعی ملک ہے ترقی نہیں کر سکتا،اندرون سندھ ایک وقفے کے بعد دوبارہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے ۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ لاہور سے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں اجتماع ارکان اور بعد ازاں پریس کلب سکھر میں میٹ دی پریس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرامیرصوبہ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال،صوبائی جنرل سیکرٹری ممتاز حسین سہتو، عظیم بلوچ، عبدالحفیظ بجارانی، حافظ نصراللہ اورمولانا حزب اللہ جکھروبھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ تھرپارکر میں بچے مرتے ہیں اور خشک سالی کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں، ہرسال یہاں انسانی المیہ جنم لیتاہے ۔ تھرپارکر پر بات کرنے سے صوبہ سندھ کی حکومت پریشان ہوتی ہے، بچوں کی اموات بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں لیکن سندھ کے حکمران کہتے ہیں کہ غریب تو مرتے رہتے ہیں، صحافیوں نے بلاوجہ چھوٹے مسئلے کو بڑا مسئلہ بنادیا ہے ، غریب کے بچے مرتے ہیں تو معمول کا واقعہ سمجھا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ ہر انسان کی جان قیمتی ہے، حکومت کا فرض ہے کہ ہر شہری کو وہی سہولیات مہیا کرے جو حکمران اپنے بچوں کو مہیا کرتے ہیں، پاکستان کے وی آئی پی کلاس کے بینک بیلنس بنگلوں اور 7 پشتوں کے لیے دولت موجود ہے، لیکن یہاں اندرون سندھ 30 فیصد لوگ صاف پانی سے محروم ، 43 فیصد اسکولوں میں بجلی ،30 فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی ،31فیصد اسکولوں میں واش روم اور 44 فیصد اسکولوں میں باؤنڈری وال نہیں ہے، اس طرح پیپلز پارٹی بڑے دعوے کرتی ہے لیکن اب بھی اندرون سندھ 30 فیصد لوگ بیروزگار ہیں، مایوس پریشان ہیں ، تعلیمی سہولیات نہیں ،کیسے ترقی ہوگی۔واٹر اکارڈ میں سندھ کی زراعت کے لیے جو حصہ مقررکیا گیا تھا وہ نہیں دیا جا رہا ہے، سندھ کے کسانوں کو تاخیر سے پانی ملتا ہے اوروہ بھی پورا نہیں دیا جاتا ہے ،سندھ کاعام کسان محنتی ہے اس کوسلام پیش کرتا ہوں ان کی فصلوں کو مارکیٹ میں وہ مقام نہیں ملتا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت سندھ کے کسانوں کی سرپرستی نہیں کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کسان اپنے فصل کو جلانے پر مجبور ہو جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ جب تک سرکاری سطح پر زراعت اور کسانوں کی سرپرستی نہیں ہوگی ، پاکستان جو زرعی ملک ہے ترقی نہیں کر سکتا،ہم چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی میں سندھ ترقی کرے گا ، 70 سے آج تک سندھ کے لوگوں نے پی پی کو ووٹ او رسپورٹ دی او رمحبتوں سے نوازا ، عوام نے انہیں کندھوں پر بٹھاکر ایوانوں تک پہنچایا ، مگرحکمرانوں کی زندگی میں تو انقلابات آتے رہے لیکن غریب سندھی کی زندگی نہیں بدلی، انہوں نے کہا کہ عام آدمی مایوس ہوکر اب اس کو تقدیر کی لکیر سمجھ بیٹھا ہے،انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ عدل وانصاف کی حکمرانی چاہتا ہے، ریاست کے وسائل کسی وڈیرے ، خان یا جاگیردار کے نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہری کاان وسائل پر حق ہے، جو محنت کرتا ہے اس کو اجر نہیں ملتا ہے، کارخانے کے منافع میں مزدوراورکھیت کی پیداوار میں کسان کوشریک نہیں کیا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ سندھ میں عام آدمی کا معاشی استحصال طویل عرصے سے جاری ہے،جماعت اسلامی اس استحصالی نظام کے خلاف اپنی جدو جہد جاری رکھے گی۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت سے لوگوں کو توقعات ہیں خود انہوں نے اپنے اعلانات اور منشور میں ایسے وعد ے کیے ہیں،جن کی بنیاد پر ہر بیروزگار نوجوان سمجھتا ہے کہ اسے روزگار اور بے گھرکوگھر ملے گا، خود اس حکومت نے ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کاوعدہ کیا ہے 50 لاکھ لوگوں کو گھر دینے او رمدینے جیسی ریاست بنانے کاوعدہ کیا ہے ہم تمام وعدوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کوعملی جامہ پہنائے جانے کی توقع کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ حکومت نے آتے ہی فلاحی ریاست بنانے کے بجائے حکمرانی کا آغاز نت نئے ٹیکسوں کی بھرمار سے کیاہے، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ، گیس کی قیمتوں میں10 سے 143 فیصد تک اضافہ کیا حکومت نے ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے، گیس کی قیمت میں اضافہ ہر شے میں اضافے کا باعث بنتا ہے، حکومت نے 178 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے ہیں اس سے غریب عام آدمی متاثر ہوگا، انہوں نے کہا کہ یہ ستائی ہوئی قوم ہے ، لوگوں نے پی ٹی آئی کو تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے وہ تبدیلی قیمتوں میں اضافے کے لیے نہیں ۔مہنگائی ،بیروزگاری اور ظلم کے خاتمے کے لیے ہے لیکن محسوس ہوتا ہے کہ وہی پرانے لوگ ہیں جو اعداد و شمار کو تبدیل کر کے پرانی چیز کو نئے رنگ میں پیش کررہے ہیں، جماعت اسلامی نے کرپشن فری پاکستان مہم شروع کی تھی اس میں کامیابی ہو ئی ہے،ہر فردکرپشن کو پاکستان کابڑا مسئلہ سمجھتا ہے ،پاناما لیکس میں نواز شریف کے بعد ہمارا خیال تھا کہ اب دوسرے 436 افراد کابھی احتساب ہو گا، جماعت اسلامی نے ان کے احتساب کا مطالبہ کیا لیکن پراسرار خاموشی طاری ہے ، نیب ،عدالت عظمیٰ اور حکومت کسی نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا ہے، نیب میں 150 میگا اسکینڈل موجود ہیں، اب تک تیز رفتار کارروائی نہیں بلکہ چیونٹی کی رفتارسے کارروائی ہورہی ہے ، ، قوم تیز رفتاراحتساب چاہتی ہے، سودی نظام کا خاتمہ کیاجانا چاہیے، حکومت نے سودی نظام کے خاتمے کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں دیا ہے ۔ہم مطالبہ کرتے ہیں سودی نظام کے خاتمے کے لیے روڈمیپ دیا جائے، سی پیک کے لیے گردو غبار موجود ہے، حکومت ایک قدم آگے جا کر تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر سی پیک کی مکمل صورت حال سے آگاہی دے اسے پردوں میں چھپانے کے بجائے قوم کے سامنے رکھا جائے تاکہ ہر پاکستانی سمجھے کہ یہ میرا منصوبہ ہے، ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں صحافت نے بڑی جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی ہے میں صحافی برادری کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں، صحافی جیلوں میں گئے خون کا نذرانہ بھی پیش کیا ۔انہوں نے شہباز شریف کو حراست میں لیے جانے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں وزیر اعظم سے لے کر چوکیدار تک کوئی فرد بھی قانون سے بالا تر نہیں ہونا چاہیے ،قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے انصاف و ہ ہو جو نظر آئے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو نیب کو مطلوب ہیں جنہوں نے بینکوں سے قرض لے کر غیر قانونی طور پر معاف کرائے ہیں، قوم کا پیسہ ہڑپ کیا اوربیرون ملک منتقل کیا ہے ،ایمرجنسی اور جنگی بنیادوں پر ان تمام لوگوں کا محاسبہ پوری قوم کا مطالبہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ