روس نے شام کو مزائل نظام کی فراہمی شروع کردی

163
نیویارک: ایس 300 دفاعی نظام کی فائل فوٹو‘ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف پریس کانفرنس کے دوران شام کو میزائل سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کررہے ہیں
نیویارک: ایس 300 دفاعی نظام کی فائل فوٹو‘ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف پریس کانفرنس کے دوران شام کو میزائل سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کررہے ہیں

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ شام کو میزائل نظام کی فراہمی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے ذیل میں ایک صحافی کے جواب میں کہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شام میں ہم جو بھی اقدامات کریں گے، ان کا مقصد وہاں موجود ہمارے فوجیوں کی 100 فیصد سلامتی اور حفاظت یقینی بنانا ہے اور ہم ایسا کرکے رہیں گے۔ خیال رہے کہ زمین سے ہوا میں مار کرنے والا روسی ایس 300 میزائل نظام اسد فوج کی صلاحیتوں میں بہتری کا باعث بنے گا۔ اس میزائل نظام کی شام کو منتقلی پر اسرائیلی حکومت نے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ماسکو حکومت نے اسے نظر انداز کر دیا ہے۔ دوسری جانب یہ دفاعی نظام بنانے والی روسی کمپنی ریڈیو الیکٹرونکس ٹیکنالوجیز کے ترجمان ولادیمیر میخییف نے کہا ہے کہ شام میں روس کے دستے ملکی فضائی دفاعی آلات کی حفاظت کریں گے اور دشمن کے حملوں کو ناکام بنائیں گے۔ ادھر بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ روس اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پائے جانے والے ادلب معاہدے کے 4 نکات کی تشریح کے حوالے سے فریقین میں اختلاف پایا جا رہا ہے۔ باخبر ذرائع نے عرب اخبار الشرق الاوسط کو تصدیق کی ہے کہ ادلب کے حوالے سے سوچی معاہدے کی تشریح میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان
کے درمیان اختلاف رائے موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلا اختلاف غیر فوجی علاقے کی وسعت سے متعلق ہے، جو 15 سے 20 کلو میٹر اندر تک ہے۔ ماسکو نے ادلب اور دیگر مرکزی شہروں کو علاقے میں شامل کرنے کی کوشش کی، جب کہ انقرہ اس کو مسترد کر چکا ہے۔ دوسرا اختلاف یہ ہے کہ روس رواں سال کے اختتام سے قبل حلب لاذقیہ اور حلب حماہ کے کے درمیان 2 قومی شاہراہوں کو اسد حکومت کو واپس کرنا چاہتا ہے، جب کہ ترکی ان دونوں راستوں کو انقرہ اور ماسکو کے زیر نگرانی رکھنے پر مُصر ہے۔ تیسرا مزاحمت کاروں کے انجام سے متعلق ہے۔ ترکی ان کو کردوں کے علاقوں میں منتقل کرنے کا خواہش مند ہے، جب کہ روس ان میں موجود غیر ملکیوں کے ساتھ لڑائی کے آپشن پر ڈٹا ہوا ہے۔ فریقین کے درمیان اختلاف کی چوتھی وجہ سوچی معاہدے کی مدت ہے۔ ماسکو اس معاہدے کو عارضی نوعیت کا رکھنا چاہتا ہے، جب کہ انقرہ اسے مستقل صورت میں دیکھنے کا خواہاں ہے۔ انقرہ اور ماسکو کو امید ہے کہ آیندہ ماہ روس، ترکی، فرانس اور جرمنی کے درمیان ہونے والا سربراہ اجلاس ادلب کے حوالے سے اختلافات حل کرنے میں کردار ادا کرے گا۔ سوچی معاہدے کا متن شمالی شام میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک غیر فوجی علاقہ قائم کرنے کا کہتا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے میں آیندہ ماہ کی دس تاریخ سے علاقے سے بھاری ہتھیاروں کو ہٹا لینے اور 15 تاریخ سے عسکریت پسندوں سے خلاصی حاصل کرنے کے ٹائم ٹیبل بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ماسکو نے تہران، دمشق اور انقرہ کو آگاہ کر دیا ہے کہ ان دونوں باتوں کو اپنے وقت پر پورا نہ کیا گیا تو فوری طور پر فوجی آپریشن اور بم باری شروع کر دی جائے گی۔
روس/ میزائل نظام

Print Friendly, PDF & Email
حصہ