پانی کی کمی کے باعث ملک کی فوڈ سیکورٹی متاثر ہو سکتی ہے، افتخار ملک

65

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سارک چیمبر آف کامرس کے سینئرنائب صدر اورفیڈریشن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فتخارعلی ملک نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ڈیموں کی تعمیر کے لیے عطیات کی اپیل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور تمام کاروباری برادری سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنی آئندہ نسلوں کو قحط سالی سے بچانے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم فنڈ میں دل کھول کر عطیات جمع کرائیں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ اس اقدام سے ملک کو خشک سالی اور پانی کی قلت سے نجات حاصل ہوگی کیونکہ آبی ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کا پانی سمندر میں گر جاتا ہے جبکہ اس سے سیلاب کی صورت میں جان و مال کو ہونے والے بڑے نقصان اور تباہی کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی فوری تعمیر کا آغاز پاکستان کو بھارتی آبی جارحیت سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مثبت اور بروقت اقدام ہے، اس سے سستی بجلی پیدا ہوگی اور ہماری آئندہ نسلوں کے لیے پانی کی قلت کے خطرات بھی کم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، تمام چیمبرز اور ان کے ساتھ منسلک تمام تجارتی و کاروباری تنظیمیں اس فنڈ میں دل کھول کر عطیات جمع کرائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہر ملک میں کم از کم 120 دن کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ضروری ہے جبکہ پاکستان میں یہ گنجائش صرف 30 دن کی ہے دوسری طرف زیادہ تر ترقی یافتہ ملکوں میں پانی کے ذخائر کی صلاحیت ایک سے دو سال ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کے لیے صرف 30 دن کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس سے زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور یہ جی ڈی پی میں 21.8 فی صد کمی کا باعث ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ