حجاب باوقار معاشرے کی پہچان ہے

43

حجاب آغاز اسلام سے لے کر ایک طویل عرصے تک بلاتفریق تمام مسلم خواتین کی بنیادی شناخت تھا۔ تاہم انگریزوں کے دورِ حکومت میں غلامانہ ذہنیت کے تحت حکمران قوم کی ثقافت اپنانے کی جو دوڑ شروع ہوئی اس کی زد میں جہاں دیگر شعائر دین آئے وہیں عورت کی فطری حیاداری کا مظہر حجاب بھی آگیا اور ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ بے پردگی کو خوبی اور ترقی اور برقعے کو جہالت اور پسماندگی کی علامت سمجھا جانے لگا اور ایک محدود دیندار طبقے کے علاوہ جس گھر میں بھی چار پیسے آگئے، اُس گھر سے حجاب رخصت ہوگیا۔ اہل مغرب نے اسلامی معاشرے پر مساواتِ مرد وزن کا کھوکھلا نعرہ مسلط کرنے کی کوشش کی اور مغرب کی پیروی میں سوشل میڈیا کی بلاقید و حدود فراوانی نے بے شمار کچے ذہنوں کو خدا کے بجائے شیطان کے آگے سرنگوں ہونے پر مجبور کردیا۔ وطن عزیز پر نظر ڈالیں تو یہاں خواتین کو اسلامی اقدار کے مقابلے میں جاہلی اقدار عزیز ہوگئی ہیں، پھر معاشرے سے شکوہ ہے کہ معاشرے کا رویہ ان کے ساتھ درست نہیں ہے۔ خواتین کے حقوق کو بحال کرنے کے لیے آئے دن نئے نئے قوانین بنائے جارہے ہیں لیکن معاشرے میں ناانصافی اور نامناسب رویوں میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ اس بگاڑ کی اصل وجہ خدائی ہدایت سے انحراف ہے۔ اسلام میں مرد و زن کے مخلوط بیٹھنے اور گھومنے پھرنے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ لیکن آج زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں موجودہ تہذیب نے مرد و عورت کے ایک ساتھ عمل دخل کو لازم نہ کردیا ہو۔ گھر کے ادارے سے لے کر کاروبار اور تعلیمی اداروں اور ہر جگہ یہ اختلاط نظر آتا ہے۔ اگر اس کا سدباب نہ کیا گیا تو آج عورت ایک بار پھر اُسی طرح غیر محفوظ ہوجائے گی جس طرح اسلام سے قبل اس کی حیثیت تھی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جس طرح اہل ایمان کو نماز، روزے کا حکم دیا ہے اسی طرح عورت کو حجاب کا بھی حکم دیا گیا ہے اور اس کی وجہ بھی بیان فرمائی۔
سورۃ الاخراب میں ارشاد ہوتا ہے ’’اے نبیؐ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تا کہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے‘‘۔ (آیت 59)
اسلام نے مسلمانوں کو مکمل ضابطہ حیات بخشا ہے۔ اس کے احکام ہر دور میں قابل عمل رہے ہیں کیوں کہ ان قوانین کو بنانے والا کوئی اور نہیں بلکہ خود ربّ کائنات ہے جو اپنی تمام مخلوقات پر یکساں مہربان اور شفیق ہے۔ چناں چہ آج اگر عورت معاشرے میں عزت اور اعلیٰ مقام چاہتی ہے تو وہ اسلام آج سے چودہ سو سال پہلے انہیں عطا کرچکا ہے۔ وہ عزت و احترام جو بحیثیت عورت ’’قیمتی آبگینہ‘‘ کہلائی‘ بحیثیت بہن و بیٹی جنت کے حصول کا ذریعہ تو بحیثیت بیوی دنیا کی بہترین متاع اور بحیثیت ماں اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی۔ اس سے بڑھ کر باعث عزت و قدر اور کیا بات ہوسکتی ہے۔ وہ عزت اور مقام جو ہماری اسمبلی اور لاتعداد قوانین اور بہت ساری این جی اوز مل کر بھی اس کو نہیں دلا سکتیں۔ قانونِ حجاب قرآن و سنت کی رہنمائی میں عورت کے لیے انعام اور مسلم معاشرے کی ترقی و بقا کا ذریعہ ہے۔ اسلام عورت کو اس کے پورے دائرہ کار میں آزادی، سہولتیں اور تحفظ فراہم کرتا ہے جب کہ حجاب کے ساتھ نکلنے پر اس کی عزت و توقیر میں اضافہ کرتا ہے۔ تو آئیے ہم حجاب کی تحریک کے دست و بازو بنیں تا کہ عورت کو تحفظ ملے، ہمارا خاندان مستحکم ہو، معاشرہ محفوظ ہو اور ہم ایک باوقار قوم بن کر اقوام عالم میں ممتاز مقام حاصل کرسکیں۔
نسیم بیگم، عجب خان کالونی، نارتھ ناظم آباد

Print Friendly, PDF & Email
حصہ