بوٹ بیسن پارک بھی تجارتی استعمال کے لیے نجی فرم کے سپرد

69

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) کلفٹن میں واقع بے نظیر بھٹو شہید پارک ( بوٹ بیسن پارک ) کو یوم آزادی کے موقع پر تجارتی کم تفریحی مقاصد کے لیے استعمال کی خلاف قانون اجازت دے دی گئی، جس کے نتیجے میں پارک میں لگے درخت و پودے اور گھاس خراب ہونے لگی ہے۔ یادرہے کہ پارکوںمیں کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمی خلاف قانون ہے۔ گزشتہ سال اس پارک میں کے ایم سی جانب سے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی پر کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بلدیہ کراچی کے2 ڈائریکٹرز سمیت 6 افسران کے خلاف مقدمات درج کرائے تھے جبکہ حکومت نے ان افسران کو معطل بھی کردیا تھا جو تاحال معطل ہیں،مگر اب کے ڈی اے نے ازخود اس پارک کا غیر قانونی استعمال شروع کردیا۔ اس پارک میں14 اگست سے پاکستان چائنا لینٹرن فیسٹیول کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس میلے کی تیاری کی غرض سے پارک میں عام افراد کا داخلہ بند کردیا گیا ہے جس سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔بوٹ بیسن کے قرب و جوار کے لوگ پارک میں داخلے پر پابندی پر سخت احتجاج کررہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ تجارتی کم تفریحی میلے کے لیے “کے این امیوزمینٹ ” کو بھاری فیس کی بنیاد پر پورے پارک کا قبضہ دے دیا گیا ہے، جس کے بعد پارک میں خطرناک جھولوں کی تنصیب کے ساتھ غیرقانونی تعمیرات بھی شروع کی جارہی ہیں جو خلاف قانون ہے۔ اس ضمن میں جسارت نے کے ڈی اے کے متعلقہ محکمے سے معلومات حاصل کیں تو انہوں نے بوٹ بیسن پارک کسی بھی فرم کے حوالے کرنے سے انکار کیا حالانکہ مذکورہ فرم نے پارک کے دروازے پر ہی میلے کا تشہیری بورڈ آویزاں کیا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ قانون کے تحت پارکوں کا تجارتی بنیاد پر استعمال ممنوع ہے لیکن عسکری پارک کی طرح بے نظیر بھٹو شہید پارک کو بھی میلے وغیرہ کے لیے دے دیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھی اس پارک میں فوڈ میلے کا انعقاد کیا گیا تھا جس کا پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور سابق وزیر اعلیٰ مراداد علی شاہ نے بھی دورہ کیا تھا۔ دریں اثنا ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے سمیع صدیقی نے جسارت کے استفسار پر وضاحت کی ہے کہ بے نظیر بھٹو شہید پارک میں فیسٹیول کا مقصد پاکستان اور چین کی ثقافت اور وہاں کی عمارتوں سے آگاہی دینا ہے۔ میلے میں داخلے کی کوئی فیس نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ میلہ کے ڈی اے گورننگ باڈی کی جانب سے چند سال قبل کیے جانے والے فیصلے کے نتیجے میں عارضی بنیاد پر لگایا جارہا ہے۔ اس مقصد کے لیے فرم سے معاہدہ بھی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات کو مستحکم کرنے کی غرض سے اس طرح کے خصوصی پروگرامز کی خصوصی اجازت معاشرے پر مثبت اثرات کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کوئی خلاف قانون کام نہ کیا جارہا ہے نہ ہی اس کی کبھی اجازت دی جا سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ