آباد اور سندھ حکومت میں بلڈنگ این او سی کے فوری اجرا پر اتفاق ہوگیا

70
نگراں صوبائی وزیر اطلاعات جمیل یوسف کو آباد کے چیئرمین محمدعارف جیوا شیلڈ پیش کررہے ہیں
نگراں صوبائی وزیر اطلاعات جمیل یوسف کو آباد کے چیئرمین محمدعارف جیوا شیلڈ پیش کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے نگراں وزیر اطلاعات ،قانون اور ماحولیات جمیل یوسف اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) میں بلڈرز اور ڈیولپرز کی تحفظ ماحولیات سندھ میں این او سی کے لیے جمع کرائی گئیں درخواستوں کے عمل میں تیزی لانے اور این او سی کے فوری اجرا پر اتفاق ہوگیا ہے۔ یہ فیصلہ آباد ہاؤس میں صوبائی وزیر اور آباد کے چیئرمین محمدعارف جیوا کے درمیان ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں آباد کے سینئر وائس چیئرمین فیاض الیاس،چیئرمین سدرن ریجن الطاف تائی، تحفظ ماحولیات سندھ کے ایڈیشنل سیکرٹری ممتاز ایچ سومرو ،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل تحفظ ماحولیات سندھ نعمان مغل اور ڈائریکٹر ٹیکنیکل وقار پھلپوٹواور آباد کے ممبران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔اس موقع پر نگراں وزیر جمیل یوسف نے چیئرمین آباد عارف یوسف کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی نوکر شاہی کی جانب سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں سے بخوبی آگاہ ہیں ،یہی وجہ ہے کہ انھوں نے متعلقہ افسران کے ہمراہ آباد ہاؤس کا دورہ کیا تاکہ بلڈرز اور ڈیولپرز کو این او سیز کے فوری اجرا میں رکاوٹیں دور کی جاسکیں۔ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ کاروباری افراد کو قوانین کے مطابق این او سی فوری جاری کی جائے،کاروباری افراد اپنا کثیر سرمایہ کاروبار میں لگاتے ہیں اس لیے وہ این او سیز کے لیے طویل مدت تک انتظار نہیں کرسکتے۔صوبائی وزیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افسران اپنے فرائض انجام دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے ،تاہم نئے تعینات ہونے والے ایڈیشنل سیکرٹری ممتاز سومرو محکمے میں ہونے والے کاموں میں بہتری لانے کے لیے سخت محنت کررہے ہیں۔
جمیل یوسف نے موقع پر موجود متعلقہ افسران کو احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام درخواستوں پر فوری عمل اور اپنی ذمے داریاں قواعد و ضوابط کے مطابق مقررہ وقت پر پوری کی جائیں۔نگراں صوبائی وزیر نے آباد کی تجویز سے اتفاق کیا کہ سیپا ایکٹ کے سیکشن17(4) کے مطابق این او سی کے اجرا کا مقررہ وقت مقرر کردہ فارم پر درج ہونا چاہیے۔جمیل یوسف نے آباد کی تجویز سے اتفاق کیا کہ بلڈرز اور ڈیولپرز کی این او سیز کے لیے تمام درخواستیں آباد کی جانب سے تحفط ماحولیات سندھ کو بھیجی جانی چاہئیں جس کے تحت آباد اپنے ممبران اور محکمہ تحفظ ماحولیات کے درمیان معاون کا کردار ادا کرے گی۔قبل ازیں آباد کے چیئرمین محمد عارف یوسف جیوا نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ این او سیز کے اجرا کا مقررہ وقت ہونے کے باوجود محکمہ تحفظ ماحولیات سندھ کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں جس کے باعث بلڈرز اور ڈیولپرز شدید پریشانی سے دوچار ہیں کیوں کہ این او سیز نہ ہونے کے سبب بلڈرز اور ڈیولپرز کے تعمیراتی منصوبے التوا کا شکار ہوجا تے ہیں ۔انھوں نے تجویز پیش کی کہ این او سیز کے اجرا کا مقررہ وقت مقرر کردہ فارم پر درج ہونا چاہیے تاکہ درخواست گذاراس مقررہ وقت کے مطابق اپنی ذمے داریاں پوری کرسکیں۔عارف جیوا نے کہا کہ محکمہ تحفظ ماحولیات سندھ کو چاہیے کہ وہ درخواست گذاروں کو اکنالجمنٹ جاری کریں۔انھوں نے کہا کہ این او سی کے لیے آباد کے ممبران درخواست گذاروں اور محکمہ تحفظ ماحولیات ایجنسی کے مابین مسائل حل کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہے۔آباد این او سیز کے لیے تمام درخواستیں وصول کرکے تحفظ ماحولیات سندھ کو بھیجنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے مسلسل تعاون کے لیے آباد اور سیپا کے فوکل پرسن مقرر کیے جانے چاہئیں۔نگراں صوبائی وزیر نے اس تجویز کو منظور کرتے ہوئے کہا کہ 2 ممبران سیپا اور 2 ممبران آباد کے این او سی سے متعلق تمام عمل کی نگرانی کریں گے۔آخر میں آباد کی جانب سے نگراں وزیر جمیل یوسف اور ایڈیشنل سیکرٹری سیپا ممتاز سومرو کو شیلڈز پیش کیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ