مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر سے قبل فوسز کا کریک ڈاؤن ،یاسین ملک سمیت کئی حریت رہنماء گرفتار 

68

سری نگر، نئی دہلی(اے پی پی+صباح نیوز)مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر سے قبل فورسز کا کر یک ڈاؤن ، یاسین ملک سمیت کئی حریت رہنما گرفتار۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 330 میگا واٹ کے کشن گنگا پن بجلی منصوبے کے افتتاح کے لیے(کل) ہفتے کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں گے تاہم مقبوضہ کشمیرمیں کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی وزیر اعظم کے دورے سے قبل پورے مقبوضہ علاقے میں سخت پابندیاں نافذ کردی
ہیں،بھارتی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بڑی تعداد کو پورے مقبوضہ علاقے خاص طورپر جموں اورسری نگر کے شہروں میں تعینات کیاگیا ہے،بھارتی فوج متعدد علاقوں میں گشت بھی کر رہی ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور جموں وکشمیر پیپلز لیگ کے چیئرمین مختار احمدوازہ کو گرفتار کر لیا۔ محمد یاسین ملک کو سری نگر کے علاقے حیدرپورہ میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی رہائش گاہ پر مشترکہ حریت قیادت کے ایک اجلاس میں شرکت کے بعد واپس اپنے گھر جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا جب کہ مختار احمدوازہ کو اسلام آباد قصبے سے گرفتار کیا گیا۔جموں وکشمیر پیپلز لیگ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ مختار احمد وازہ کو شہید میر واعظ مولوی محمد فاروق، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کی یاد میں میر واعظ فورم کے زیر اہتمام سری نگر میں ہونے والے ایک سیمینار میں شرکت کرنا تھی لیکن بھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ بیان میں مختار احمد وازہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کی گئی ہے۔قبل ازیں مقبوضہ کشمیر میں سینئر حریت رہنماؤں میر واعظ عمرفاروق ، محمد اشرف صحرائی اور محمد یاسین ملک نے بھارت کی طرف سے کشمیرمیں رمضان المبارک کے دوران جنگ بندی کے اعلان کو ایک نمائشی اقدام قراردیا ہے۔حریت رہنماؤں نے جمعرات کوسری نگر میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مصنوعی اقدامات اس وقت موثر ثابت نہیں ہو سکتے جب تک کہ تنازع کشمیر کے حل کے لیے جامع منصوبہ وضع نہیں کیاجاتا۔ سیمینار کا اہتمام میر واعظ عمرفاروق کی سربراہی میں قائم فورم نے معروف شہید آزادی پسند رہنماؤں میرواعظ مولوی محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا تھا۔علاوہ ازیں بھارتی عدالت عظمیٰ نے جموں کے علاقے کٹھوعہ کی ننھی آصفہ کی بے حرمتی اورقتل کے مقدمے کے گواہان کو تحفظ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عدالت نے جموں و کشمیرکرائم برانچ سے مقدمہ لے کر کسی اور تحقیقاتی ادارے کے حوالے کرنے سے بھی انکار کردیا ہے ۔ کیس کے3گواہان نے بتایا ہے کہ پولیس انہیں ہراساں کر رہی ہے اور انہوں نے عدالت عظمیٰ سے تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی۔ انہوں نے عدالت میں پیش کی گئی درخواست میں کہاکہ وہ پہلے ہی پولیس اور مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے ہیں تاہم پولیس انہیں دوبارہ پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرانے کا کہہ رہی ہے اور ان کے اہلخانہ پر دباؤ ڈالاجارہا ہے۔واضح رہے کہ 8 سالہ ننھی خانہ بدوش لڑکی آصفہ بانو 10 جنوری کو جموں کے علاقے کٹھوعہ سے لاپتا ہو گئی تھی بعدازاں اس کی لاش ایک ہفتے بعد ملی تھی۔پولیس نے کٹھوعہ کی ایک عدالت میں مقدمے میں 7ملزموں کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں