ورکرز کنونشن میں ہزاروں نوجوانوں کی شرکت ،سراج الحق نے یوتھ چارٹر کا اعلان کر دیا۔کراچی کے مسائل حل کرانے کا عزم

355
کراچی : امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق جے آئی کنونشن سے خطاب کررہے ہیں
کراچی : امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق جے آئی کنونشن سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے ورکرزکنونشن میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کی‘ سراج الحق نے یوتھ چارٹر کا اعلان کیا اور کراچی کے مسائل حل کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم آج کراچی یوتھ الیکشن کا اعلان کر رہے ہیں‘ نوجوان کو ایک نئی قوت اور طاقت اور بھرپور توانائی کے ساتھ آگے لائیں گے اور نوجوان کراچی کے عوام کے مسائل حل کرائیں گے‘ عوام 2018ء کا الیکشن کرپٹ عناصر کے لیے یوم احتساب بنا دیں گے‘ جماعت اسلامی کی جنگ کسی فرد یا جماعت نہیں بلکہ ظلم اور کرپشن کے نظام کے خلاف جنگ ہے‘زندگی کے آخری لمحے اور خون کے
آخری قطرے تک اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھیں گے‘ اسلامی وخوشحال پاکستان ہی عوام کے مسائل کا حل ہے‘ ہم عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم کراچی کو اس کا کھویا ہوا مقام دلائیں گے‘ کراچی کو عزت اور نجات دلوائیں گے‘ پر امن اور پرسکون کراچی صرف اہل کراچی نہیں بلکہ پورے ملک کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے نشتر پارک میں تاریخی کراچی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، جے آئی یوتھ کراچی کے صدر حافظ بلال رمضان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ کنونشن میں کراچی کی تاریخ کے حوالے سے مباحثہ ہوا جس میں ججز کے فرائض خورشید احمد، سلیم مغل اور محمد اسلام نے انجام دیے۔ محمد عتیق نے ’’کراچی کا نوجوان آج بھی بیدار ہے‘‘ پر قرارداد پیش کی جسے شرکا نے منظور کیا۔ علاوہ ازیں کنونشن میں ایک اور قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں اسٹیل مل کے ملازمین کی 6 ماہ کی تنخواہیں اور واجبات فی الفور ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج نشتر پارک میں یہ عظیم الشان کنونشن اہل کراچی و پورے ملک کے عوام کے لیے امید کی شمع اور پیغام ہے‘ سینیٹ الیکشن کے نتائج سے سندھ کے دولت مند تو خوش ہیں لیکن کراچی کے عوام نے جن کو اپنا نمائندہ بنایا تھا وہ فروخت ہوگئے اور ناکام ہوگئے ہیں‘ اب وقت آگیا ہے کہ کراچی کے عوام چوکو ں اور چوراہوں پر ان بکنے والوں کے خلاف عدالتیں لگائیں اور ان سے پوچھیں کہ انہوں نے سینیٹ کے انتخابات میں یہ کیا کیا؟ آج ان نمائندوں نے کراچی کا کیا حشر کیا ہے‘ وڈیرے جیت گئے‘ دولت جیت گئی‘ کراچی ہار گیا اور سیاست کو شکست ہوگئی‘ کراچی منی پاکستان اور عالم اسلام کا ایک اہم شہر ہے‘ کراچی نے ہمیشہ امت کا ساتھ دیا ہے اور اتحاد امت کا اظہار کیا ہے‘ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں نے کراچی پر حملہ کیا‘ نفرتوں کو عام کیا‘ خون کو بہایا‘ عوام کو لڑایا‘ نوجوانوں سے تعلیم کا حق چھین لیا گیا‘ وکلا اور مزدوروں کو جلادیا گیا‘ کراچی کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کراچی کے نمائندے ایک دوسرے پر کرپشن اور مال بنانے کے الزامات لگا رہے ہیں‘ ان کے آپس کے اختلافات اور لڑائی ذاتی مفادات کی جنگ ہے‘ ایسی سیاست سے کراچی کے عوام کو کچھ نہیں مل سکتا‘ کراچی کے رہنے والوں نے اسلام کے لیے ہجرت کی‘ پاکستان کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑا‘ آج ہم اس پاکستان کی تلاش میں نکلیں ہیں‘ اہل کراچی آج سے نئے عزم اور حوصلہ کے ساتھ تجدید عہد کریں اور اسلامی اور خوشحال پاکستان کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں‘ موجودہ نظام ظلم وجبر اور استحصال کا نظام ہے‘ ہم اس نظام سے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں اور عوام سے کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ چلیں اور اس نظام کو جڑ سے اٹھا کر پھینکنے کی جدوجہد میں شریک ہوں‘ ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں عوام اور خواص برابر ہوں‘ حکمران عوام کے خادم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج نئے عزم کے ساتھ خوشحال، پر امن، روشن اور تابناک کراچی کی جدوجہد کا آغاز کریں اور نوجوان اس جدوجہد میں ہر اول دستہ کا کردار ادا کریں‘ نوجوان مظلوموں کا سہارا بنیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کراچی کے ہر ضلع میں یونیورسٹی بنے‘ کراچی میں مزید کالجز کھولے جائیں‘ تعلیم ہر نوجوان کا حق ہے اور تعلیم مفت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح آج خیبر پختونخوا میں کامیابی کی خوشخبری ملی ہے‘ اسی طرح کراچی سے ضرور خوشخبری ملے گی اور عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں گے۔ اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ آج کا عظیم الشان کنونشن اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کا نوجوان بیدار ہے‘ پاکستان کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا‘ 2018ء کا الیکشن ایک چیلنج ہے‘ ہم اسے قبول کرتے ہیں‘ کراچی کے نوجوان اور عوام ثابت کریں گے کہ کراچی جماعت اسلامی کا شہر ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مشتاق احمد خان سینیٹ میں جماعت اسلامی کے صرف ایک ہی امیدوار تھے اور الحمدللہ وہ کامیاب ہوگئے ہیں‘ اب سینیٹ میں وہ سراج الحق کے ساتھ مل کر عوام کو بتائیں گے کہ صرف 2 افراد بھی کس طرح نمایاں اور مثالی پارلیمنٹرین کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ کراچی ہجرت کرنے والوں اور محبتیں بانٹنے والو ں کا شہر ہے‘ یہ شہر منی پاکستان ہے‘ اس کے اندر پورے ملک کے افراد رہنے والے ہیں‘ یہ شہر امت کا ترجمان ہے اور پوری امت کے لیے آواز اٹھانے والا شہر ہے‘ امت کے لیے تاریخی ملین مارچ کرنے والوں کا شہر ہے‘ عوامی اور نظریاتی تحریکوں کی قیادت کرنے والوں کا شہر ہے‘ اس کے دشمن پاکستان اور پوری امت کے دشمن ہیں‘ ان دشمنوں نے کراچی کو تقسیم درتقسیم، لسانیت اور عصبیت کی آگ میں دھکیلا ہے‘ اصل میں تقسیم ظالم اور مظلوموں کی ہے‘ ظالموں نے مظلوموں کو غلام بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کا تحفظ اور حقوق صرف اتحاد اور یکجہتی سے مل سکتا ہے اور اسلام کے دامن میں پناہ لینے سے سارے مسئلے حل ہوجائیں گے‘ آج سے جدوجہد کا نیا دور شروع ہو رہا ہے‘ ہم سب کو متحد کریں گے‘ کراچی کے مینڈیٹ کا دعویٰ کرنے والے کہاں ہیں؟ وہ آپس میں لڑ رہے ہیں‘ ان کی تقسیم در تقسیم ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی کروڑ کی آبادی کے شہر میں65 فیصد نوجوانوں میں اور عالمی سطح پر کراچی دوسرے نمبر نوجوانوں کا شہر ہے‘ اب کراچی کے نوجوانوں کو کوئی ورغلانہیں سکے گا‘ جماعت اسلامی آج کراچی کے اندر یوتھ الیکشن کا آغاز کر رہی ہے اور یوسی کی سطح پر نوجوانوں کو آگے لائیں گے اور عوام کے بنیاد ی مسائل حل کرائیں گے‘ میئر کراچی26 ارب روپے کا بجٹ لے کر بھی کہتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے‘ ہم نہیں کہہ رہے ہیں فاروق ستار کہہ رہے ہیں کہ میئر کراچی 5 ارب روپے کھا گئے ہیں‘ اب میئر کراچی بتائیں کہ فاروق ستار نے کتنے کھائیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے اور اس کو ایم کیو ایم مل گئی ہے‘ سینیٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی کو کامیاب کرا کر لوٹ مارکی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پبلک ایڈ کمیٹی کے ذریعے عوامی مسائل کو اٹھایا ہے‘ اب ہم نوجوانوں کو منظم اور متحرک کر کے یوتھ لیڈر شپ کو سامنے لائیں گے‘ اب یوتھ لیڈر شپ عوامی مسائل حل کرے گی‘ جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک اور نادرا کے خلاف تاریخی اور مثالی جدوجہد کی جس کے نتیجے میں عوام کو ریلیف ملا ہے‘ ہم نے تحریک حقوق کراچی شروع کردی ہے‘ جماعت اسلامی وہ واحد فریق اور پارٹی ہے جو کے الیکٹرک کے ٹیرف میں اضافے کے سامنے ایک رکاوٹ ہے اور جماعت اسلامی کی جدوجہد کی وجہ سے نیپرا ٹیرف میں اضافے کی ہمت نہیں کر رہا ہے۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ آج نشتر پارک میں اس ورکرز کنونشن نے اعلان کردیا ہے کہ یہ شہر قومیت، لسانیت یا عصبیت کا پروردہ نہیں بلکہ اسلام سے محبت کرنے اور پوری امت کو ایک جسد واحد سمجھنے والوں کا شہر ہے‘ ماضی میں اس شہر کو تقسیم در تقسیم کرکے تباہ و برباد کردیا گیا لیکن اب یہ شہر زندہ اور بیدار ہے‘ یہاں کے نوجوان ایک قوت ہیں اور کراچی کی سابق حیثیت اور تشخص کو بحال کرائیں گے‘ کراچی یوتھ الیکشن کے بعد نوجوان عوام کے مسائل حل کرائیں گے ۔ حافظ بلال رمضان نے کہا کہ کراچی امن وامان کا شہر اور روزگارفراہم کرنے والا شہر تھا‘ یہ پاکستان کا دل تھا اور آج بھی پاکستان کا دل ہے لیکن ایک اسکرپٹ کے تحت اس شہر کو تباہ و برباد کیا گیا اور لسانیت اور عصبیت کی سیاست کر کے شہر کے اندر قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا لوگوں کو اس میں لڑایا گیا‘ اس شہر کا اسٹیک اپنے ہاتھوں میں رکھنے والوں نے ہی شہر کو ویران کیا‘ تعلیمی اداروں کا ماحول خراب کیا اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر ان کا مستقبل تباہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے لسانیت اور عصبیت کا مقابلہ بڑی قربانیاں دے کر کیا‘ جماعت اسلامی آج بھی مسائل کے حل کی جدوجہد کر رہی ہے‘ جے آئی یوتھ کی صورت میں کراچی کے نوجوانوں کے لیے ایک بہترین متبادل پلیٹ فارم موجود ہے ‘ہم نوجوانوں کو ایک قوت اور طاقت بنائیں گے‘ کراچی یوتھ الیکشن مہم کا آج سے آغاز کردیا گیا ہے اور اپریل تک یہ مہم جاری رہے گی‘ کنونشن میں چودھری ذوالفقار علی کی قیادت میں جٹ برادری اور آرائیں برادری، پختون یوتھ کے اسرار آفریدی، عدنان محمد خان، شہباز خان اور دیگر قبائلی یوتھ کے بصیر زمانی، اکبر خان خروٹی، سلطان علی، نصیر احمد، لیاری ہنگورہ یوتھ کے فرحان ہنگورہ دیر اور باجوڑ، سوات قومی اتحاد کے علی شاہ، نیک زادہ، زاہد سوتی اور دیگر مؤثر افراد نے بھی جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ