سوشل میڈیا۔۔۔ مگر اخلاقیات بھی ضروری ہے!

84

محمد اکرم ہزاروی

سوشل میڈیا یعنی فیس بک، ٹیوٹر، اسکائپ، وائبر، انسٹا گرام آج ہر چھوٹا بڑا بزرگ، خواتین استعمال کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ایک قلیل عرصے میں اپنی حیثیت منوائی ہے۔ سوشل میڈیا پیغام رسانی کا سب سے آسان اور فری سروس کاآلہ ہے۔ فیس بک کے استعمال میں ہر بڑھتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیس بک نے اردو میں بھی اپنی سروس کا آغاز کیا ہے۔ سو شل میڈیا ایک طاقت ور ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اگر ہم یوں کہیں کہ آج کئی حکومتوں کو گرانے میں سوشل میڈیا کا بڑا موثر اور تیز تر کردار رہا ہے۔ اس میں تو کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ یمن میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت سے شروع ہونے والی ’’عرب بہار‘‘ تحریک کئی دیہائیوں سے چلنے والی بڑی بڑی آمرانہ اور متکبرانہ حکومتوں کو بہالے گئی۔ جس سے یمن میں قائم علی بن زین العابدین کی حکومت کو ختم کیا گیا۔ اس تحریک سے کئی عرب ممالک خطرے کی زِد میں ہیں۔ اور شام میں بشار الاسد حکومت لڑ کھڑا رہی ہے۔ یہ تحریک صرف سوشل میڈیا سے اٹھی۔
اسی طرح آپ تحریک آزادی کشمیر کو دیکھ لیں۔ مظفر برھان وانی کی شہادت کے بعد جو ایک شدت اس تحریک میں آئی۔ اس میں سوشل میڈیا کا سب سے بڑا کردار رہا ہے اور رہے گا۔ آج کی نسل کا زیادہ وقت تو فیس بک اور دیگر سائٹس کے استعمال میں صرف ہورہا ہے۔
پاکستان میں بھی کئی مواقع پر ہمیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کا پتا چلا جب نواز لیگ حکومت نے 29فروری کو غازی ممتاز قادری شہید کو پھانسی دے دی اور ان کے جنازے کو کوریج نہ دینے میں تمام الکٹرونک و پرنٹ میڈیا کو پابند کر دیا۔ ان کے بعد پھر سوشل میڈیا تھا جس نے عوام کو باخبر رکھا۔ امریکا کے سامنے روشن خیالی کو ظاہر کرنے کے لیے نواز لیگ حکومت نے لاکھوں عاشقان رسولؐ کو اپنے سے دور کردیا اور نا راضی مول لی۔ جس کا خمیازہ وہ ان شاء اللہ 2018ء کے الیکشن میں بھگتے گی۔ نواز لیگ کے کرتا دھرتا مانیں یا نہ مانیں انہوں نے ممتاز قادری کو پھانسی دے کر پنجاب میں ایک ہلچل مچادی ہے۔ اس فیصلے سے اس کا اچھا خاصا ووٹ بینک متاثر ہوا ہے۔
اس فیصلے کے بعد نئی صورت حال سے جنم لینے والی تحریک لبیّک یا رسول کو آپ دیکھ لیں۔ جس نے اب ایک منظم پارٹی میں اپنے آپ کو ڈھال لیا ہے۔ بھر پور پزیرائی بھی ہورہی ہے۔ یوں تو ہر جماعت سوشل میڈیا پر موجود ہے لیکن تحریک لبیک پاکستان کا ’’سوشل میڈیا سیل‘‘ بھر پور طریقے سے کام کررہا ہے۔ ان کی میڈیا ٹیم کے پاس ڈرون کیمرے بھی موجود ہیں۔ تحریک لبیّک یا رسول کے ختم نبوت لانگ مارچ کی کوریج کرنے میں حکومت نے خاموش پابندی لگا رکھی تھی۔ سوشل میڈیا الیکٹرونک وپرنٹ میڈیا سے بھی زیادہ طاقت ور اور موثر ثابت ہوا۔
یہ تو تھا سوشل میڈیا کا مثبت پہلو مگر اس کا منفی پہلو بھی ہے۔ اگر ہم یوں کہیں مثبت سے زیادہ منفی استعمال کیا جارہا ہے۔ تو بے جانہ ہوگا۔ زیادہ تر تو منفی ہی استعمال کیا جارہا ہے۔ جو ایک خطرناک شرح ہے۔ مسلمانوں میں سے بعض بد نصیب تو ایسے ہیں جو اپنے نبی کی توہین سے بھی نہیں باز آتے۔ کیا آزادی اظہارِ رائے توہین کا حق دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر آکر جس کا جو جی چاہا پوسٹ کر دیا۔ آج کی نئی نسل غیروں کی کاسہ لیسی میں اس حد تک چلی گئی ہے کہ اسے اچھے اور برے، کیا کہنا او رلکھنا ہے اور کیا شئیر کرنا ہے کی تمیز نہیں رہی۔ اخلاقیات سے عاری ایک نئی نسل ہمارے معاشرے میں در آئی ہے۔ جسے یہ نہیں پتا کہ اخلاقیات بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ آزادی اظہاری رائے کی بھی حدود و قیود ہوتی ہیں۔ اظہار رائے کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ