عارف رمضان جتوئی

mm
9 بلاگ 0 تبصرے
عارف رمضان جتوئی روزنامہ جسارت میں نیوز سب ایڈیٹر اور نیوز کلیکشن انچارج ہیں ،مضمون و کالم نگاری بھی کرتے ہیں،مختلف رسائل و جرائد میں ان کے مضامین شایع ہوتے رہتے ہیں۔۔کراچی اپڈیٹس ڈاٹ کام کے بلاگ اور میگزین ایڈیٹر بھی ہیں۔

’’فجرولا بائیکاٹ‘‘ آخر ہے کیا بلا ؟

ندیم بھائی نے ’’فجرولا بائیکاٹ مہم‘‘ کا آغاز کیا تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ اب یہ فجرولا کیا بلا ہے۔ نام سننے میں...

سپنوں کا شہزادہ

مشرقی معاشرہ شرم و حیا ء میں صف اول میں ہے تاہم مغربی معاشرے کے اثرات مشرقی سرحدوں پر پڑ رہے ہیں۔ نوجوان غیر...

قلم کے آنسو

’’مسلمان ایک جسم کے ماند ہیں، اگر جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو جسم کے دوسرے حصے اس تکلیف کو برابر...

آئی ایم ناٹ ملالہ

ملالہ پاکستان پہنچی، جذباتی انداز میں خطاب کیا، وطن سے دوری پر رونا بھی آیا سب کو آتا ہے اگرچہ کچھ لوگوں نے اسے...

وا رے بے حسی

سڑک کنارے بوڑھا اور بڑھیا ایک ہاتھ میں لاٹھی اور دوسرے میں چھوٹی چھوٹی گٹھڑیاں بوسیدہ سے لباس میں چلتے جا رہے تھے۔ کچی...

بھروسہ

ناصر نے تیاری کی، ضروری سامان بیگ میں رکھا اور پھر ایک طویل سفر کے لئے نکل پڑا۔ دبئی میں روز گار کے لئے...

آپ کا اکاؤنٹ غیر محفوظ ہے، ہیکرز سے کیسے بچایا جا...

ہیک کرنے کا عمل دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ ماضی سے اب تک حساس ترین اداروں اور سرکاری اداروں کی ویب...

بلاگ کیا ہے؟

بلاگ دراصل ایک وارداتِ قلبی کا نام ہوتا ہے، جس کے مرکزی کردار آپ خود ہوتے ہیں۔ اگر اندازِ بیان واعظانہ کے بجائے دوستانہ...

تحصیل جتوئی کی تاریخی اور جغرافیائی پہچان

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی 4تحصیلوں میں سے ایک تحصیل جتوئی ہے۔ جتوئی کی16 یونین کونسلیں ہیں۔ بنیادی طور پر...

اہم بلاگز

پیرنٹس،ٹیچرزمیٹنگ ایسی بھی ہونی چاہیے

وہ صاحب روز اسکول آتے اور سارے اسکول کو سر پر اٹھا لیتے۔پرنسپل، وائس پرنسپل، کورڈینیٹر اور اردو کے ٹیچر بھی روز بیٹھ کر ان کی چیخیں سنتے رہتے۔ وہ استاد سمیت پرنسپل صاحب کو بھی صیح سے "رگڑے" دیتے، تمام مینجمنٹ انھیں سمجھانے کی ناکام کوشش کرتی اور پھر وہ چلے جاتے۔ تقریبا 3 دن بعد اسکول انتظامیہ کو ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ مجھے نہیں معلوم یہ قانون کہاں سے آیا ہے لیکن ہم نے اپنے بچپن سے اور ہمارے بڑوں نے اپنے بچپن سے یہی سنا ہے کہ لینگویج کے مضمون میں پورے نمبر نہیں دئیے جاتے ہیں اور اسی "غیبی قانون" کے تحتاردو کے ٹیچر نے بھی اس بچے کا آدھا نمبر پورا پیپر ٹھیک ہونے کے باوجود کاٹ لیا تھا اور وہ صاحب ہاتھ پاؤں دھو کر اس بات پر "لہو" ہوگئے کہ جب میرے بچے نے پیپر ٹھیک کیا ہے، اس کی خوشخطی بھی خوبصورت ہے تو یہ آدھا نمبر کس "خوشی" میں کاٹا گیا ہے؟ اور سب مل کر انھیں لینگویج والا "غیبی قانون" سمجھا رہے تھے۔  میرا خیال ہے کہ ان نمبروں کے جتنے بد اثرات بچوں پر مرتب ہوتے ہیں اساتذہ بھی ان کی زد میں آئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں اور اسی کو "مکافات عمل" کہتے ہیں۔میرا ماننا یہ ہے کہ اب پی – ٹی – ایم کے رائج الوقت طریقے کو بھی ختم ہونا چاہئیے۔  پی –ٹی –ایم کا مطلب یہ ہے کہ والدین یا تو بچوں کی شکایتیں سننے آئینگے یا پھر اساتذہ کی شکایتیں لگانے آئینگے۔پی- ٹی – ایم سے جتنے کوفزدہ بچے ہوتے ہیں میرا تجربہ ہے کہ اساتذہ بھی اس سے کم خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں کیونکہ اگر کسی استاد کے بارے میں والدین نے کوئی منفی تبصرہ کردیا تو پھر اس "استاد" کی شامت آکر رہتی ہے۔ مجھے تو بعض دفعہ یہ لگنے لگتا ہے کہ بچوں کے والدین اور اساتذہ کے درمیان دوکاندار اور گاہک والا تعلق ہے اور بچے وہ پروڈکٹ ہیں جن کی خریدو فروخت کے لئیے پی – ٹی –ایم کے نام پر بولی سجائی گئی ہے۔ ملائشیاء کے ایک اسکول نے پی – ٹی – ایم والے دن تمام بچوں کی ماؤں کو بلایا اور ایک بڑے سے لان میں انھیں کرسیوں پر بٹھا دیا گیا۔ سب کے سامنے پانی کے تب رکھ دئیے گئے اور ان کے بچوں کو حکم دیا گیا کہ اپنی ماؤں کے پاؤں دھلائیں یعنی پیڈیکیور کریں۔ خواتین کی خوش قسمتی تھی کہ انھیں پیڈیکیور کی سہولت مفت میسر آگئی اور بچوں کو یہ احساس بھی منتقل کردیا گیا کہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے"۔ کوئی پی –ٹی – ایم ایسی بھی ہونی چاہئیے کہ جس میں اساتذہ خاموش ہوں اور سہہ ماہی، ششماہی یا سالانہ بنیاد پر کئیے گئے کاموں کو بچے اپنے والدین کے سامنے خود پیش کریں۔ بچے اپنے والدین کو خود بتائیں کہ انھوں نے سال بھر کیا سیکھا؟ انھوں نے ایک سال میں کتنی نئی کتابیں پڑھیں، روزانہ کتنے صفحوں کا ہدف انھوں نے طے کر رکھا ہے جس کا وہ مطالعہ کرتے ہیں، انگریزی کے کتنے الفاظ نھوں نے...

سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات

موجودہ دور میں ملکی و غیر ملکی حالات سے باخبر رہنا اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا اتنا مشکل نہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو سمیٹ کر ہمارے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں دو سو کروڑ سے زیادہ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور 2021 تک یہ تعداد بآسانی تین سو کروڑ سے تجاوز کرجائے گی۔ سوشل میڈیا معلومات حاصل کرنے کا ایک قیمتی ذریعہ ہے۔ اساتذہ اور شاگردوں کے لیے یہ پلیٹ فورم یکساں مفید ہے۔ دنیا بھر کے حالات سے باخبر رہنا اور ملک سے باہر بیٹھے اپنوں سے بات کرنا پہلے کی طرح اب مشکل نہیں رہا۔  اس کے ذریعے مختلف ملکوں اور قوموں کی تہذیب و ثقافت سے واقفیت بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اپنی رائے کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی آواز اعلیٰ عہدیداران تک بھی پہنچائی جاسکتی ہے۔ حال ہی میں عاطف میاں کے مسئلے کو حل کرنے میں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔ واٹس اپ پر کورسز کا ٹرینڈ نہایت تیزی کے ساتھ مقبول ہورہا ہے۔جس کے ذریعے آپ نہ صرف گھر بیٹھے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے گھر بیٹھے پیسے بھی کما سکتے ہیں۔ مفتیانِ کرام سے فتویٰ لینے کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بیٹھے ڈاکٹرز کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اسکائپ و دیگر وڈیو کال سافٹ ویئرز کی بدولت قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ مختلف کورسز بھی کیے جاسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہوئے ملک و اسلام دشمنوں کی سازشوں کو روکا جاسکتا ہے۔ ملحدین و دیگر اسلام بیزار لوگوں کے خلاف سوشل میڈیا پر بہترین انداز میں کام ہورہا ہے۔ اسلامی، سیاسی، سماجی و دیگر حلقوں سے تعلق رکھنے والے احباب اپنے نظریات کی بخوبی پرچار کررہے ہیں۔ کاروبار کی تشہیر کرنا، نوکری تلاش کرنا، ادب کو فروغ دینا یا کسی غریب کی مدد کرنا سوشل میڈیا کی بدولت آسان بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے نقصانات کی فہرست بنسبت اس کے فوائد کے زیادہ ہے۔ نوجوانوں میں فحاشی و عریانی پھیلانا اسلام دشمن قوتوں کا مقصد ہے۔ ان کے اس مقصد کی تکمیل کے لیے سوشل میڈیا ایک اہم ہتھیار ثابت ہورہا ہے۔ دور بیٹھے احباب سے رابطہ تو آسان بن چکا ہے لیکن قریبی تعلقات دور ہوتے چلے گئے ہیں۔ بنا سوچے سمجھے تصاویر وغیرہ شیئر کرنے کے  کئی نقصانات سامنے آچکے ہیں۔ بے مقصد شہرت اور زیادہ لائیکس حاصل کرنے کے چکر میں اسلامی و اخلاقی اقدار کو روندا جاتا ہے۔ نازیبا تصاویر اور  وڈیوز شیئر کرکے کئی گناہوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ بواء فرینڈ اور گرل فرینڈ کلچر بھی سوشل میڈیا کی رہینِ منت ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کی بدولت خودکشی کو فروغ ملا ہے۔ ایک سروے کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک رپورٹ شیئر کی گئی کہ ہائڈروجن سلفائڈ کے ذریعے بآسانی خودکشی کی جاسکتی ہے۔ تھوڑے ہی عرصے بعد 220 لوگوں نے اس طریقے سے خود کو مارنے کی کوشش کی جن میں سے 208 کامیاب بھی ہوئے۔ اس کے علاوہ...

حجاز ریلوے سے حرمین ریلوے تک‬

؍گیارہ اکتوبر 2018ء کو مملکت سعودیہ عربیہ کی طرف سے مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ’’حرمین ریلوے‘‘ کے نام سے ایک ریلوے سروس شروع کردی گئی ہے ،جس نے حرمین شریفین کے ساتھ ساتھ حجاز کے ساحلی شہر جدّہ کو بھی ایک ٹرین نیٹ ورک سے منسلک کردیا ہے۔ اس طرح عازمین حرمین شریفین حج اور عمرے کے لیے ’’حرمین ریلوے ‘‘ استعمال کریں گے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لیے ٹرین سروس شاید پہلی مرتبہ شروع کی گئی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تاریخ میں تقریباً ایک سو دس سال قبل عازمین حج اور عمرے کے لیے ٹرین سروس قائم کی گئی تھی جو گردش زمانہ تلے آکر جلد ہی بند ہوگئی اور آج بہت کم لوگ اس ٹرین سروس کے بارے میں علم رکھتے ہیں جسے تاریخ کی کتابوں میں ’’حجاز ریلوے‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حجاز ریلوے: حجاز ریلوے حرمین شریفین کے ساتھ ساتھ عظیم ’’سلطنت عثمانیہ ‘‘ کی تاریخ کا بھی ایک روشن اور تابناک باب ہے۔ یہ وہ سروس تھی کہ جس نے زائرین حرمین کا دو ماہ کا سفر کم کر کے یکایک 55گھنٹوں تک محدود کردیا تھا اور اس مناسبت سے سفری اخراجات بھی دس گنا گھٹا دیے تھے۔ ’’حجاز ریلوے‘‘ کی تعمیر کا آغاز یکم ستمبر 1900ء میں عثمانی فرمانبردار سلطان عبدالحمید ثانی کے تخت نشین ہونے کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا اور آٹھ سال بعد اسی تاریخ یعنی یکم ستمبر1908ء کو دمشق سے مدینہ منورہ تک 1320 کلو میٹر طویل ریلوے لائن مکمل ہوئی اور پہلی ٹرین عثمانی عمائدین سلطنت کو لیے دمشق سے روانہ ہوئی۔ مکمل منصوبہ دمشق سے لے کر مکہ مکرمہ تک ریلوے لائن بچھانے کا تھا۔ مگر پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے یہ لائن مدینہ منورہ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ حجاز ریلوے کا پسِ منظر: دور جدید میں حجاج کرام کا حرمین شریفین کے لیے سفر جتنا آرام دہ اور پُرسکون ہے، دورِ قدیم کے حجاج اتنی سہولیات کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ دورانِ سفر بے شمار آزمائشیں حجاج کرام کی منتظر ہوتی تھیں۔ لق و دق صحرا، بپھرتے دریا، فلک پوش پہاڑ، لٹیروں کے گروہ، سامانِ خورد و نوش اور پانی کی کمیابی اور جنگلی جانوروں سے ٹکراؤ جیسی مشکلات سے نبردآزما ہو کر حجاج کے قافلے سفر حج مکمل کرکے جب گھر واپس لوٹتے تو اہل خانہ خوشیاں مناتے۔ سفر حج سے قبل اہل خانہ اور دوستوں سے معافی تلافی کروانے کا رواج اسی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ زمانہ قدیم میں اکثر اوقات بادشاہ جب اپنے کسی امیر سے نالاں ہوجاتا اور اس سے جان چھڑانے کا فیصلہ کرلیتا تو اسے حرمین کے سفر پر روانہ کردیتااور راستے میں ہی بادشاہ کے کارندے اس امیر کو قتل کرکے کسی ویرانے میں ڈال دیتے اور اس کے اہل خانہ اس کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے۔ (مغل شہنشاہ اکبر اعظم نے اپنے اتالیق بیرم خان سے یہی سلوک کیا تھا۔ ) زمانہ قدیم میں بلادِ عرب اور اس کے اطراف کے علاقوں سے حجاج کے قافلے شام کا رُخ کرتے اور...

جدید مغربی دنیا پر مسلمانوں کے علمی احسانات

اپنی 28 سالہ تخلیقی زندگی میں ہم نے ہزاروں موضوعات پر لکھا ہے، مگر ایک موضوع پر تقاضوں اور مطالبوں کے باوجود لکھنے سے گریز کیا۔ یہ موضوع ہے: جدید مغربی دنیا پر مسلمانوں کے علمی احسانات۔ اس موضوع پر لکھنے سے اجتناب کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی تہذیب میں سب سے بڑا اور سب سے اہم علم الٰہیات کا علم ہے۔ الٰہیات میں خدا کی ذات اور صفات کا علم بھی شامل ہے اور اس کے احکامات کا علم بھی۔ دنیا اور آخرت میں مسلمانوں کی کامیابی اسی علم کی رہینِ منت ہے۔ لیکن جدید مغرب کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے علم کو بلند ترین علم کا درجہ دے رکھا ہے، چنانچہ جیسے ہی ہم یہ گفتگو شروع کرتے ہیں کہ جدید مغرب کی ساری سائنسی اور تکنیکی ترقی مسلمانوں کی مرہونِ منت ہے تو ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کو غیر ضروری اہمیت دینے کے عمل کا آغاز کردیتے ہیں۔ اسلام سائنس اور ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں، مگر اسلام کی تہذیبی کائنات میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو ثانوی علم کا درجہ حاصل ہے۔ اسلام مادی دنیا اور مظاہرِ کائنات کے مطالعے کا قائل ہے، مگر اس کے نزدیک مادی حقائق اور کائناتی مظاہر کو ’’الحق‘‘ کی نشانیوں کا درجہ حاصل ہونا چاہیے، اور ان کے ذریعے انسان کو اپنے خالق اور مالک کے زیادہ قریب ہونا چاہیے۔ لیکن جدید مغربی سائنس خدا کو مانتی ہے نہ مذہب کی قائل ہے۔ چنانچہ جدید سائنس کو مسلمانوں کی علمی روایت سے منسلک کرنا خطرے سے خالی نہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایسے لکھنے والے موجود ہیں جو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو مغرب کی امتیازی شان باور کرتے ہوئے مسلمانوں کو کوستے بلکہ گالیاں دیتے رہتے ہیں، اور کہتے رہتے ہیں کہ مغرب کے سامنے تمہاری اوقات ہی کیا ہے؟ نہ تمہارے پاس سائنس ہے، نہ ٹیکنالوجی۔ نہ تم کچھ ایجاد کررہے ہو، نہ کچھ اختراع کررہے ہو، اوپر سے مغرب کو برا بھلا بھی کہتے رہتے ہو۔ تمہیں شرم نہیں آتی! ایسی تحریریں پڑھ کر ہمارا خون کھولتا رہا ہے، مگر چونکہ ہماری نظر میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی کوئی خاص اہمیت ہی نہیں ہے، اس لیے ہم اس موضوع پر گفتگو کو ٹالتے رہے ہیں، مگر جاوید چودھری، حسن نثار اور محمد بلال غوری نے اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کی توہین کی حد کردی ہے، اس لیے آج ہم زیر بحث موضوع پر قلم اٹھانے اور جدید مغرب پر مسلمانوں کے علمی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی احسانات کا ذکر کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ لیکن اصل موضوع پر گفتگو سے قبل ملاحظہ کیجیے کہ جاوید چودھری، حسن نثار اور محمد بلال غوری نے اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کی توہین کی کس سطح کو چھوا ہے؟ جاوید چودھری لکھتے ہیں: ’’آپ اسلامی دنیا کی بدقسمتی ملاحظہ کیجیے، ہم لوگ آج یورپی بندوقوں، ٹینکوں، توپوں، گولوں اور امریکی جنگی جہازوں کے بغیر خانہ کعبہ کی حفاظت بھی نہیں کرسکتے، ہماری تعلیم کا حال یہ ہے کہ دنیا کی 100 بڑی یونیورسٹیوں کی فہرست میں اسلامی دنیا کی ایک بھی یونیورسٹی نہیں آتی،...

لبیک اللھم لبیک

(جزیرۃ العرب سے عمرہ) سفرِ ِ سعادت ہمیں جزیرۃ العرب میں داخل ہوئے تیسرا دن تھا جب صاحب نے دفتر سے آتے ہی خوشخبری سنائی: ’’عمرہ کا پروگرام بن رہا ہے ان شاء اﷲ‘‘۔ کب، کیسے، کس کے ساتھ ؟؟ ایک ساتھ کئی سوال ذہن پر ابھرے، ہم نے فوراً تلبیہ پڑھنی شروع کر دی، آج تو گویا قسمت کھل گئی تھی۔ اگلے دو تین دن تیاریوں میں گزر گئے، یہ سفر مبارک بھی تھا اور عین سعادت بھی۔ نئے احرام خریدے گئے (حالانکہ پاکستان سے آنے والے سامان میں بھی ایک احرام خاص طور پر رکھا گیا تھا)، ہمیں آنے والی جمعرات کو ’’حملے‘‘ کے ساتھ جانا تھا، (’’حملہ‘‘ سعودی عرب میں بس کے ذریعے سفرِ سعادت کے لئے مستعمل ہے، شاید ہر عمومی سفر کے لئے بھی استعمال ہوتا ہو، ہم نے تو عمرے والی بسوں کے ہی عقب میں لکھے ہوئے دیکھا)، اور اس سفر کا خوشگوار پہلو یہ تھا کہ ہمارے نئے نئے دوست احباب ہمراہ تھے، یعنی اپنی کمیونٹی کے افراد اکٹھے عمرہ کرنے جا رہے تھے، ایک تو سفرِ شوق اور پھریہ قرآن کے تعلق سے جڑنے والوں کا سفربھی تھا، بس خوشی کے سارے لوازمات پورے ہو رہے تھے، اور جس کے نہ جانے کی خبر ملتی اس پر ہمیں بھی افسوس ہوتا۔ ۱۳ اکتوبر کو سفر شروع ہونا تھا، اس سے پہلے ہی ہم نے خوب زادِ راہ (جوسسز، پانی، پھل، کھانا، وغیرہ) اکٹھا کر لیا، بچے اور صاحب واپس آئے تو سب کچھ تیار تھا، انہوں نے جلدی جلدی تیار ہو کر سامان باہر رکھا، ایک ڈاکٹر صاحب ہمیں لینے آگئے اور دن ڈھائی بجے سے قبل ہم مقررہ مقام پر پہنچ گئے، تقریباً سبھی لوگ پہنچ چکے تھے، بس میں داخل ہوئے تو قدرے گرمی کا احساس ہوا، اس سفر مبارک کا آغاز ہی شکوے سے نہیں ہونا چاہئے، ہم نے خود کو دعا کی جانب متوجہ کیا، آہستہ آہستہ سب افراد سیٹوں پر بیٹھ گئے، اگلی سیٹوں سے آواز بلند ہوئی، گاڑی میں ٹھنڈک کافی کم ہے، ہمارے صاحب نے ہماری طرف دیکھ کر تائید چاہی، ہم دعا کی کتاب کو پنکھا بنائے ہوا لے رہے تھے، ڈرائیور بولا: ’’صاب بس سپیڈ پکڑے گی تو ٹھنڈک بھی ہو جائے گی‘‘، ہمیں گرمی کا احساس ہوتا تو کھڑکی سے جھانک کر سپیڈ کا اندازہ کرنا چاہتے، گاڑی فراٹے بھر رہی تھی، اور اسی رفتار سے پسینہ چوٹی سے ایڑی کا سفر طے کر رہا تھا، ہم نے پھر بے بسی سے دائیں بائیں دیکھا، سبھی گرمی سے بے حال نظر آئے، سوائے ڈرائیور کے، جسے یقین تھا کہ سفر شروع ہونے پر اے سی کام کرنے لگے گا۔ چھوٹے بچے بس کی رفتار پکڑنے اور اے سی کے تکنیکی تعلق سے بے خبر منہ کھول کر رونے لگے، اب انتظامیہ کو بھی احساس ہوا کہ دس گیارہ گھنٹے کا سفر اس تنور میں نہ ہو سکے گا، انہوں نے ڈرائیور کو ذرا درشتی سے اے سی تیز کرنے کو کہا، ڈرائیور نے اپنا بیان دہرانے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ اسے ڈانٹ کر بس روکنے کا حکم دیا، ڈرائیور نے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

جگتوں کی سر زمین ۔۔۔۔۔فیصل آباد 

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب 1962 کا آئین پیش کیا گیا تو ملک کے کونے کونے سے احباب فکرو ادب اور ارباب سیاست نے آئین پر تنقید کو اپنا حق سمجھتے ہوئے ایسے آڑے ہاتھوں لیا کہ جیسے رضیہ غنڈوں میں پھنس کر رہ گئی ہو۔بلکہ چائے کے کھو کھے پہ بیٹھنے والا وہ بندہ جسے گھر والے چولھے کے پاس بھی نہیں بیٹھنے دیتے وہ بھی کہتا پھر رہا تھا کہ ایوب خان نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔تنقید کی بڑی وجہ آئین کا صدارتی ہونا تھا کہ جس کے مطابق اختیارات کا منبع صدرِ محترم کی ذات کو خیال کیا گیا۔ایک سیاستدان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق صدر کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ اگر مرد کو عورت اور عورت کو مرد ڈکلئیر کردے تو آئینی اختیارات کی رو سے عوام کو اس آئینی حق پر تسلیم بجا لانا ہوگا۔اس آئینی اختیارات کے بارے میں جسٹس کیانی سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آئین میں صدر کو وہی حیثیت حاصل ہے جو فیصل آباد کے آٹھ بازاروں میں گھنٹہ گھر کو حاصل ہے‘‘گویا انگریزوں کے بنائے ہوئے اس گھنٹہ گھر کو شہرت دوام 62 کے آئین نے بخشی۔ویسے فیصل آبادتین باتوں کی وجہ سے اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے،نصرت فتح علی خان،جگت اور گھنٹہ گھر۔آٹھ بازاروں میں سے کسی ایک میں بھی قدم رنجہ فرما ہو جائیے گھنٹہ گھر ہر بازار سے منہ چڑاتا ہوا ایسے نظر آئے گا جیسے محبوب کے گھر کسی گلی سے بھی داخل ہونے کی کوشش کر لیجئے ایک خاص قسم کا مخصوص کھانسی والا بابا ہر بار آپ کے سامنے آ جائے گا۔بلکہ کبھی کبھار تو وہ پوچھ بھی لے گا کہ کاکا تیرا تیسرا چکر اے ایس گلی دا،سب خیر تے ہے نا۔فیصل آباد میں کسی بھی دکان میں تشریف لے جائیں ہر بندہ جگت کے لئے ہمہ وقت تیار ملے گا۔ایسے ہی اگرکسی بچے سے بھی نصرت کے بارے میں بات کر کے دیکھ لیں تو وہ گیان پہلے لگائے گا تعارف بعد میں کروائے گا۔ پرانی بات ہے کہ جب کمپیوٹر نیا نیا پاکستان میں متعارف ہوا تھا ،مجھے ڈیٹا کیبل کی خریداری کے لئے کچہری بازار جانے کا اتفاق ہوا۔ایک دکان سے کیبل لیتے ہوئے میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ بابا جی ذرا مضبوط سی ڈیٹا کیبل دینا،بابا جی معا میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے گویا ہوئے کہ’’بیرے توں ایہدے نال لیپ ٹاپ چلانا اے کہ کھوتا ریڑھی کھچنی اے‘‘یعنی تم نے اس کیبل سے لیپ ٹاپ چلانا ہے یا گدھا گاڑٰی کھینچنی ہے۔اس دن مجھے اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا کہ واقعی فیصل آباد میں اتنی فصل نہیں ہوتی جتنی کہ جگت ہوتی ہے۔یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ لفظ ’’بیرا‘‘ ویر کی بگڑی شکل ہے جو برادر یا بھائی کے معنی میں مستعمل ہے۔یہ لفظ فیصل آباد میں اس قدر بولا جاتا ہے کہ کبھی کبھار تو بیوی اپنے سکے شوہر کو بھی ’’بیرا‘‘ کہہ کر ہی مخاطب کر دیتی ہے،بیرے کے اس بے محل استعمال کے بعد اب ضلعی حکومت کو...

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

ایام جوانی میں جب ہم نے یہ شعر پڑھا تو تادیر یہی خیال کرتے رہے کہ اسے دو شاعروں غالب اور آتش نے مل کر لکھا ہے،بعد از عقد، یہ عقدہ کھلا کہ نہیںیہ دو نہیں بلکہ ایک ہی شاعر کی کارروائی ہے۔کیونکہ آتش لگانے کے لئے دو شاعر نہیں بلکہ ایک بیوی ہی کافی ہوتی ہے۔شاعر دو ہی کام کرتے ہیں خوبصورت گل اندام سے واسطہ ہو تو خود کو جلاتے ہیں اور ہم عصر شاعروں کا سامنا ہو تو انہیں جلاتے ہیں۔بقول جالب’’ؔ مجھے اتنا ٹارچر پولیس والوں نے نہیں کیا جتنا کہ شاعروں نے کیا‘‘ان شاعروں کے نام تو منظر عام پہ نہیں آ سکے البتہ جالبؔ کی شاعری سے جلنے والوں کی تعداد سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ حسد کی بوُ کتنی بد بو دار ہوتی ہے۔ایک بار میرا تحقیق کرنے کو دل چاہا کہ پتہ کیا جائے کہ غالبؔ اور آتشؔ میں سے کون قد آور شاعر ہے لیکن دونوں کی ایک ساتھ تصویر کی عدم دستیابی سے یہ تحقیق پایہ تکمیل نہ ہو سکی۔ویسے غالبؔ کی شخصیت کے حوالے سے جو بھی تحقیق کی جائے حاصل جمع کسمپرسی،افلاس اور لاچارگی ہی نکلتا ہے۔کیونکہ غالبؔ نے ساری زندگی نہ کچھ جمع کیا اور نہ حاصل۔آج کل کسی بھی اچھے شاعر کو اگر غالبؔ سے تشبیہ دی جائے تو وہ فوراً اپنا ظاہری حلیہ دیکھنا شروع کر دیتا ہے کہ شائد میں بھی غالبؔ کی طرح مفلس و لاچار نظر آتا ہوں۔غالبؔ کے ساتھ اصل میں گھر والوں نے کچھ ایسا ہاتھ کیا کہ اسے کسی حال کا نہ رہنے دیا یعنی نو عمری میں ہی ان کو شادی کی عمر قید سنا دی گئی جس کا تذکرہ وہ ہمیشہ اپنے خطوط میں کرتے رہے۔یعنی اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ پر کاٹ دیے غالبؔ کو اس بات کا افسوس ہمیشہ رہا کہ نوعمری میں ہی انہیں رشتہ ازدواج میں باندھ دیا گیا اور جب شادی کی عمر کو پہنچے تو شادی میں کوئی مزہ باقی نہ رہا۔اسی لئے انہوں نے اپنی شاعری سے یا تو دوسروں کو مزے دیے ہیں یا ہنستے بستے گھروں کو شاعری کی آتش میں ایسے جلایا کہ نہ’’ جنوں‘‘ رہا نہ’’ پری‘‘ رہی غالبؔ نے ساری زندگی مشاعرہ پڑھا ،کرایہ کے مکان میں مقیم رہے اور ایک ہی بیوی پہ قناعت و توکل رکھا،مزے کی بات یہ ہے کہ ساری زندگی نہ گھر کا کرایہ دیا اور نہ بیوی کو طلاق دی۔کہتے ہیں غالبؔ سے باوجود چاہنے کہ نہ بادہ خوری چھوٹی ،نہ بیوی۔خود پسندی غالبؔ کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،اتنا ہم عصر شعرا انہیں پسند نہیں کرتے تھے جتنا وہ اپنے آپ کو خود پسند کرتے تھے۔اپنے آپ کو نواب آف لوہارو خاندان کا چشم و چراغ بتاتے تھے۔صرف بتاتے ہی نہیں تھے عادات و شوق بھی نوابوں جیسے ہی تھے اسی لئے ساری زندگی کوئی کام نہیں کیا،ادھار پہ گزارہ کیا،جس سے لیا اسے واپس نہیں کیا،ہوئی نا ،نوابوں والی خصلت۔ شادی کے بعدمرد کو پتہ چلتا ہے کہ حقیقی خوشی کیا ہوتی ہے ؟اور عورت کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب اسے سہاگ رات کو...

ٹیکنالوجی اور ہم

تحریر: گل اندام خٹک ہماری والدہ ماجدہ جب بھی ہمارے ہاتھ میں موبائل فون دیکھتی ہیں انہیں وہ دن یاد آجاتے ہیں جب لوگ ہاتھ میں بٹیرے لئے گھوم رہے ہوتے تھے۔ یہ بٹیرے آپ کو آج کل ہر ایک کے ہاتھ میں نظر آئیں گے۔ کسی کے لیے دوسرے سے رابطے کا ذریعہ، کسی کے لئے مشغلہ، کسی کے لیے چلتا پھرتا کاروبار، تو کسی کے لیے ٹشن دکھانے کا سامان۔ دوسروں کے لیے اس کا کوئی بھی مطلب ہو، والدین کے لیے یہی بچوں کی بربادی کا ذمہ دار ہے۔ یہ اور بات ہے کے آج کل کے والدین خود اس مرض کے شکار ہیں۔ ایک دہائی کے اندر اندر ٹیکنالوجی کی دنیا میں آنے والی ڈرامائی تبدیلوں نے معاشرے کی سوچ اور طرز زندگی کی صورت پلٹ کے رکھ دی ہے۔ اس کے مثبت اثرات میں گھر بیٹھے کارونار کرنا، دور دراز کے علاقوں سے رابطہ اور خبردار رہنا، کام کی رفتار میں تیزی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے عوض ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہمیں ان گنت نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ ان میں سے ایک نقصان کا سامنا چند روز پہلے میرے بھائی کو ہوا۔ موصوف کو والدہ نے دن کے تقریباً 10 بجے سودا لانے کو کہا حضرت ’’ابھی جاتا ہوں‘‘ کہہ کر 2 گھنٹے تک موبائل کی اسکرین پہ نظریں جمائیں، کے پیڈ کو طبلے کی مانند پیٹتے رہے۔ جب اماں جان نے طیش میں آکے جوتے سے ڈرون حملہ کیا تب بھائی صاحب کو ہوش آیا، سودا لائے اور گھر میں کھانا بنا۔ رات کو ہاسٹل کا منظر کچھ یوں ہوتا ہے کہ کوئی فرش پہ بیٹھی دیوار سے ٹیک لگائے لائیو ڈرامہ دیکھ رہی ہے تو کوئی کونے میں بیٹھی سوشل میڈیا سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ کوئی سیڑھیوں پر بیٹھی واٹس ایپ پہ بات کررہی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ قابل رحم وہ لڑکیاں ہیں جو موبائل ہاتھ میں لیے سگنلز کی تلاش میں در در بھٹک رہی ہوتی ہیں تاکہ وہ ٹھیک سے بات کر سکیں پھر بھی وہ اکثر کہتی سنائی دیتی ہیں تو ’’کیا اب بھی آواز نہیں آرہی، اب کیا تمہارے لیے ٹاور پر چڑھ جاؤں‘‘۔ کسی روایتی پھپھو کے اندازے کے مطابق یہ بے چاریاں جیسے ہی ’’کیمرے سے پیا گھر‘‘ پہنچتی ہیں ان کے ساتھ’’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل‘‘ والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ایک بار ہم 3 دوست گول گپے کھانے گئیں۔ آڈر دیتے ہوئے غلطی سے منہ سے نکل گیا ’’کاکا! ہم 3 گول گپے ہیں‘‘۔ اس وقت تو بے چاری کا جو مذاق اڑا سو اڑا۔ ہاسٹل پہنچ کے واٹس ایپ دیکھا تو تیسری دوست نے اس بات کا اسٹیٹس بنا کر لگایا ہوا تھا۔ اب حالات ایسے ہیں کے لوگوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں اسٹیٹس کے نام پر بریکنگ نیوز نہ بن جائیں۔ تیزی سے بدلتے اس دور میں اگر نہیں بدلے تو وہ والدین ہیں۔ انہیں آج بھی اپنے بچوں سے شکایات ہیں حالانکہ آج کل کے بچے انتہائی امن پسند ہوگئے ہیں۔ شرافت سے اپنے لیپ ٹاپ اور فون لیے بیٹھے رہتے ہیں جب...

“دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ”

محکمہ آثارِ قدیمہ نے پاکستان میں ایک ایسی عجیب و غریب سیاسی جماعت کا ڈھانچہ دریافت کیا ہے جسے دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس سیاسی جماعت کے معدہ میں پائے گئے خوراک کے حنوط شدہ ذرات کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جماعت اپنے وقت کے فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھایا کرتی تھی اور اسی خوراک سے پل کر جوان ہوئی تھی۔ سیاسی جماعت کے ڈی این اے میں مکاری، عیاری، لوٹ مار، تکبر، انسانوں کی خرید و فروخت اور ذاتی خاندان تک محدود اقربا پروری کے جینز کثیر مقدار میں پائے گئے ہیں۔ سیاسی جماعت کی کھوپڑی کا لیبارٹری میں تفصیلی جائزہ لینے پر انتہا درجے کی منافقت کے واضح ثبوت دکھائی دیے جن سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت ماضی میں ایک طرف تو فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے اپنا وزن بڑھاتی رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ فوجی بوٹوں کا وزن کم کرنے کے لیے خوب زور لگاتی رہی جس اسے چنداں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ جب یورپ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے اس حوالے سے رائے لی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے کے لے اُس دور کی سیاسی جماعتیں کچھ لوگوں کو بوٹ چاٹنے پر مامور کر دیتی تھیں اور اسی جماعت کے کچھ لوگوں پر دور کھڑے ہو کے بوٹوں والوں پر بھونکنے کی زمہ داری لگا دیتی تھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بھاگا جا سکے۔ محکمہ سیاسی حیاتیات کے ماہرین نے بھی ڈھانچے کا معائنہ کیا اور اپنی مشترکہ رائے دیتے ہوئے رپورٹ میں لکھا کہ اقتدار میں آنے کے امکانات اس جماعت کی روح کا کام کرتے رہے ہیں اور جیسے ہی یہ روح غائب ہوئی، اس جماعت کا نام و نشان سیاسی روئے زمین سے مٹ گیا تھا۔ تقریباً دس سال تک یہ جماعت مینڈک کی طرح زیر زمین رہی لیکن پھر یہاں کی سیاسی وائلڈ لائف کی از سر نو حیات کاری کے لیے یورپ کے ایک مشہور ملک میں میثاق جمہوریت نامی معاہدہ طے پایا جس کے لیے بدبودار فوجی جرابیں خاص طور پر وہاں پہنچائی گئیں تاکہ میثاق جمہوریت کو توثیقِ بْوٹیت مل سکے اور سیاسی وائلڈ لائف کو پنپنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی کے ڈین نے ہمارے پوچھنے پر بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے ہم دیکھتے رہتے ہیں لیکن جس درجے کی انا پرستی اور بیوقوفی ہمیں اس ڈھانچے سے ملی ہے، وہ آج تک کسی اور سیاسی ڈھانچے سے نہیں ملی۔ ہم نے دلچسپی سے پوچھا کہ یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے :’’انا پرستی کے آثار ہمیں اس سے نظر آئے ہیں کہ یہ جن بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھاتے رہے ہیں، اسی چمڑے کے بوٹ خود پہننے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو کسی بھی بوٹوں والوں کو کبھی گوارا نہیں ہو سکتا‘‘۔ ایک طالب علم جو اس پراجیکٹ میں خصوصی دلچسپی لے رہاہے، یوں گویا ہوا کہ سیاسی آرکیالوجی ایک نیا فیلڈ ہے جس میں تحقیق کی کافی گنجائش موجود ہے،اس لیے ایسے ڈھانچوں کا دریافت ہونا ہمارے لیے علمی...

مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ،لال مرچ، کالی مرچ ،مرچی پودوں کی جنس شملہ مرچ سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کی ابتدا امریکہ سے ہوئی۔ مرچ کم از کم 7500 قبل مسیح سے لے کر امریکہ میں انسانی غذا کا ایک حصہ رہا ہے۔ دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے۔ جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ باریک مرچیں اور جنگلی مرچیں روز مرہ کے کھانوں میں عمومًا استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا اور باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ ان کو لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے ہرہیز کرنا چاہے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کریں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو وہ دور جانے کے بجاۓ قریب ہوجائیں۔ جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو بیلنس رکھنا ایک فن ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جاۓ تو سننے والے کو لطف آتا ہے۔ اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔یہ نصیحت خصوصاً خواتین کے لیے ہے۔ جو اکثر اپنی باتوں سے مرچ لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔ بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کے شوہر کے سامنے جاۓ ، شوہر موبائل میں مصروف ہوں اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکاۓ اگر شوہر اس میں کوئی خامی نکالے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ لہذا تمام شوہروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں۔ کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے سردی گرمی دنوں میں با آسانی لگائی جا سکتی ہیں۔ غنیمت جانے کے آپکی شادی ہوچکی ہے۔ ورنہ تو کہیں ایسا نہ ہو مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ نہ پڑجاۓ۔  

ہمارے بلاگرز