پروپیگنڈے کے باوجود دنیا میں پھیلتا اِسلام 

217

15/اپریل2014ء کوامریکاکے تمام بڑے اخبارات بشمول نیویارک ٹائمز،واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ہیڈ لائنز میں یہ خبرشائع کی تھی کہ امریکا کے شہرنیویارک کی پولیس کے نئے کمشنرولیئم بریٹن نے مسلمانوں کی خفیہ نگرانی کرنے والے محکمے کوبند کرنے کا اعلان کیا۔2003ء سے امریکی حکومت اپنے شہریوں کی اورخاص طور پر امریکا میں بسنے والے مسلمانوں کی خفیہ نگرانی کرتی رہی ہے۔ ڈیموگرافکس یونٹ نامی اس سرکاری پروگرام کاکام مسلمانوں کے بارے میں معلومات جمع کرنااوران کی حرکات وسکنات کی خفیہ طورپرنگرانی کرناتھا۔اس یونٹ کے اہلکارمسلمانوں کے رہائشی علاقوں میں جاکرلوگوں کی خریداری،ان کے کھانے پینے کی عادات،کام کاج،دلچسپیاں اورمشاغل سمیت ان کی نمازوعبادات کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کرتے تھے۔یادرہے کہ اس خفیہ یونٹ کے وجودکے بارے میں ہمیشہ سرکاری طورپرتردیدہوتی رہی،اس کابھانڈا بیچ بازارپھوٹ گیااورخودکوسول لبرٹی(شہری آزادیوں)کاچمپئن کہلانے والاملک امریکابہادرکایہ چہرہ ایک مرتبہ پھردنیاکے سامنے آہی گیا۔
راقم السطوریہ خبرپڑھ رہاتھاتو آج سے چندسال پہلے رونماہونے والے واقعات نے ذہن وقلب کا گویا میرامحاصرہ کرلیا۔ معمول کا مشاہدہ ہے کہ نمازجمعہ سے نمازی فارغ ہوتے ہیں تومسجدکے باہراوردالان میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے اظہار میں بڑے پرتپاک اندازمیں گلے ملتے نظرآتے ہیں۔ ایمان واخوت کوجلادینے کایہ خوبصورت اوردلکش منظرآنکھوں کوبہت بھلااور دل کی طمانیت کے لیے فرحت بخش ہوتا ہے۔ نماز جمعہ سے فراغت کے بعدابھی مسجد سے باہرنکلنے ہی والاتھا کہ کچھ لوگوں سے ملاقات کا اہتمام ہوا۔ تھوڑی دیربعدمیرے دوست کے ساتھ تین افرادتشریف لائے۔ ان افراد کے چہرے کسی خاص یقین کے ساتھ چمک رہے تھے۔ بغل گیرہونے کے بعدپہلاتعارفی کلمہ یہ سننے کوملا کہ یہ تمام مجاہد بدنام زماں گوانتاناموجیل کے ایکسرے کیمپ میں اپنی زندگی کے کئی سال گزارچکے ہیں۔ ہم سب مسجدکے ایک کونے میں بیٹھ گئے اورمجھے سمجھ نہیں آرہا تھاکہ گفتگوکاآغازکہاں سے کروں۔ جب یہ برطانوی مسلمانوں کاپہلاگروپ رہاہوکر وطن لوٹ آیا تھا تو مشہور اخبار گارڈین نے ان کے تاثرات پرمبنی تفصیلات شائع کی تھیں۔ مہذب دنیاکے سب سے بڑے ملک کی انسانی حقوق کوپامال کرنے کی داستان جس نے بھی پڑھی،حیرت ومایوسی سے ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
خوبصورت تیکھے نقوش والاجمال الحارث، جس کاچہرہ خوبصورت ڈاڑھی کے ساتھ کچھ زیادہ ہی حسین وجمیل لگ رہاتھا، نے میرے سوال کے جواب میں بتایاکہ اسے کیمپ میں روزانہ 15گھنٹے اس طرح بیڑیاں لگاکرپنجرے میں بندرکھاجاتاتھاکہ اس کے اعضاحرکت تک نہ کرسکتے تھے۔ گارڈز اور اسٹاف کا قیدیوں کوجسمانی ایذا ئیں پہنچانا روز کا معمول تھا۔ ذراغورکیجئے کہ ان قیدیوں کو نفسیاتی طورپرریزہ ریزہ کرنے کے لیے انکل سام کی ہدایات پرکن کن اوچھے حربوں کااستعمال عمل میں لایاجاتاتھا؟کس طریقے سے ان کے انسانی حقوق پامال کیے جاتے رہے؟ کتنے کرب میں ہوں گے اس کیمپ کے قیدی کہ جن کوجنیواکنونشن اوردیگربین الاقوامی قوانین کے تحت جومعمولی حقوق اورسہولیات حاصل تھیں،ان سے بھی انہیں محروم رکھاگیا۔
جمال ا لحارث کے ساتھی جمال الدین جس کاتعلق مانچسٹرسے ہے،انہوں نے مجھے بتایاکہ میں نے ایک دن انسانی حقوق کی اس قدرپامالی دیکھنے کے بعدکیمپ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ ہم قیدیوں کوکم ازکم وہ حقوق ہی دے دیں جوامریکامیں جانوروں کو بھی حاصل ہیں مگربے سود۔ انہوں نے مجھے مزیدیہ بھی بتایاکہ انہیں چالیس دفعہ بارہ بارہ گھنٹے کی تفتیش کا سامنا کرنا پڑا، جس کے دوران ہرطرح سے موصوف کونفسیاتی دباؤسے زیرکرنے کی کوششیں کی گئیں۔ ان کے تیسرے دوست حمادنے ظلم وستم کی وہ داستانیں سنائیں کہ مجھے اپنا سارا وجود گھومتاہوانظرآنے لگا۔ حمادنے جب یہ کہا کہ جب ہم پرظلم وستم کے پہاڑتوڑے جاتے تھے،تو میں اپنے تصورکی دنیامیں کھوکرحضرتِ بلالؓ اورحضرت خبابؓ کی قربانیوں کو یاد کرتا۔ مجھے یوں محسوس ہوتاتھا کہ ابھی کسی وقت میں اب اپنے رب کے سامنے حاضرکیا جاؤں گااور میرے ان زخموں کی گواہی میرے رب کو راضی کرنے کے لیے شاید کافی ہوں گی۔
کیوبا کا گوانتا نامو ہویاخودامریکا،برطانیہ کی سرزمین،مسلمانوں کو ایک مشکوک کمیونٹی اوراسلام کو ایک مشکوک مذہب بنا دیا گیا ہے۔ 11ستمبر کے حادثات کے بعداسلام اورمسلمانوں کے خلاف ایک فسادی تحریک مسلسل چلائی جارہی ہے اورجس کوسرکاری اورغیرسرکاری دونوں سطحوں پرمسلم بیزارقوتوں کی پذیرائی حاصل ہے۔ نائن الیون سے پہلے کھلے عام کسی مذہب یاشخص کے خلاف نفرت نہیں پھیلائی جاسکتی تھی مگراس معماتی حادثے کے بعد یہ سلسلہ نہ صرف جاری وساری ہے بلکہ اس کی ہلاکت آفرینیاں روز افزوں جاری ہیں، جس کی ایک ترین چند ماہ قبل ہی کی ہے کہ جب کینیڈامیں پاکستانی خاندان کو ایک یہودی نوجوان نے کچل کررکھ دیا۔اسی نفرت وعداوت کی بھٹی میں جلنے والے صلیبی اورصیہونی آئے دن اسلام اورمسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی بیان داغ دیتے ہیں۔ کبھی خاکم بدہن پیغمبر اسلام ﷺکے حوالے سے یہ سیاہ دل کے حامل گستاخانہ کارٹون شائع کرکے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کر تے ہیں،کبھی امریکاکے ناہنجارپادری ٹیری جونز سرعام قرآن کریم کے ساتھ ابلیسی دست درازی سے خود اپنے لیے دائمی آگ کاسامان جمع کرگیا، کبھی مسلمانوں کی مساجد پرگنبدوں پراعتراض کر کے ان پرپابندی عائد کراوئی، کبھی عفت مآب بیٹیوں اوربہنوں کے حجاب کوقانونا ًمنوع قرار دلوایااوربغیرکسی تکلف کے آئے دن مسلمانوں کودہشتگردی کے الزامات میں گرفتارکرکے،ان کی رسواکن تشہیرالیکٹرانک اور پریس میڈیامیں کرکے ایک طوفان کھڑاکردیاجاتاہے لیکن جب تحقیق وتفتیش کے بعد ان پرکوئی جرم ثابت نہیں ہوتاتوخاموشی کے ساتھ ان کورہاکردیاجاتاہے اوروہی یک چشمی میڈیاان کی رہائی کودانستہ طورپرنشرنہیں کرتا۔
مغرب میں جیری فالویل سے لے کراین کولٹر (امریکی خاتون) تک آئے دن کوئی نہ کوئی مسلمانوں کے خلاف زہراگلتارہتاہے۔ مسلمانوں کے سول رائٹس کایہ حال ہے کہ انہیں یقینی بنانے کے لیے آئے دن عدالتوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ دو ہزار سے زائد مسلمان اب بھی امریکی قیدخانوں میں بند ہیں۔ متعددپراب تک کوئی مقدمہ قائم نہیں کیاجاسکا اورکئی ایسے بھی ہیں جن کواس بات کابھی علم تک نہیں کہ انہیں کس جرم میں گرفتارکرکے جیل وزندان میں ڈال دیا گیا ہے۔ فلوریڈا کے ممتازفلسطینی پروفیسرسمیع بھی جنہیں کسی زمانے میں وائٹ ہاؤس میں مدعو کیاجاتاتھا،کئی سال جیل میں رہے جہاں انہیں کسی بھی قانونی مشیرسے رابطہ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔یہی معاملہ ملت کی بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے ساتھ پیش آیا۔بہرحال کسی نہ کسی ریڈیویاٹی وی اسٹیشن پرآئے روزایسی بے ہودہ کلامیاں کی جاتی ہیں جن کالب لباب اسلام مخالف اندھے جذبات کابے معنی غصہ اور مسلمانوں کی دلآزاری اورکردارکشی ہوتاہے۔کئی باربہت ہی سفلی قسم کے الزامات کاپلندہ نشرکرکے اپنے نامہ اعمال کوسیاہ ترکیاجاتاہے۔اس کے ردِعمل میں مسلمانوں کومتعلقہ اداروں کوشکایتیں کرناپڑتی ہیں کہ یہ کیااندھیرنگری ہے۔ مثلاایک الزام یہ بھی لگایا جاتاہے کہ مسلمان یہودیوں کوقتل کرناچاہتے ہیں۔
ایک مربوط اورمنظم مخالفانہ مہم ہے جو مسلمانوں کے خلاف پورے مغرب بالعموم اورامریکامیں بالخصوص چلائی جارہی ہے لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیایہ مہم اپنے اہداف حاصل کرپا رہی ہے؟ میرے خیال میں یہ ناروااورکاذبانہ مہم بعض جگہوں پرمقامی سطح پرتوشایدکامیاب ہوئی ہومگرمجموعی طورپراس مہم کے نتائج اس کے بنیادی مقاصدکے بالکل برعکس نکل رہے ہیں۔ وہ اس طرح کہ نائن الیون کے بعدتمام منفی پروپیگنڈے کی بدترین سونامی کے باوجودامریکامیں اسلام قبول کرنے والوں کی تعدادمیں چارگنااضافہ ہوا ہے۔ اسلام کوجاننے اوراس کے متعلق پڑھنے والوں کی تعدادمیں ہوشربااضافہ ہواہے جس کااندازہ اسلام کے متعلق لکھی جانے والی علمی وفکری کتابوں کی اشاعت کے بعد فوراًسے پیشترمارکیٹ میں ان کی غیرمعمولی آمدنی سے لگ سکتا ہے۔ ایک عام امریکی بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ اسلام کے متعلق سوال پوچھتادکھائی دیتا ہے۔ اس کے سامنے اسلام اگرچہ ڈارکیولائی شکل و صورت میں پیش کیاجاتاہے مگروہ حقائق کی ٹوہ میں قرآن، حدیث ،تاریخ،سیرت طیبہ ﷺ کے انبارکھنگالنے لگ جاتاہے تاکہ خودمطالعہ کی بنیاد پراسلام کے بارے میں ایک حقیقت پسندانہ متوازن رائے قائم کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی صحیح تصویراجاگرکرنے کے ضمن میں اس وقت ایسی ویب سائٹس کی تعدا میں روزافزوں اضافہ ہورہاہے، جن کی وساطت سے اسلام کے بارے میں مستندکتب کے علاوہ دوسری سچی معلومات کاحصول ممکن ہواہے اور متعدد امریکیوں نے انٹرنیٹ ہی کی سہولت کے ذریعے اسلام کی ابدی وازلی روشنی تک رسائی حاصل کی ہے۔
مغرب کی اسلام مخالف زیربحث مہم اورنفرت پرمبنی پروپیگنڈے کاایک اورلازمی اورفطری نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں نے پہلی دفعہ اپنے آپ کو دعوتی اورسیاسی سطح پرمنظم کرناشروع کردیا ہے۔ آپ نے پہلی دفعہ دیکھا ہوگا کہ امریکی اورمغربی ممالک کے انتخابات میں مسلمانوں نے اپنی اجتماعی سیاسی قوت کواستعمال کرناشروع کردیا ہے۔اس صورتحال میں سفیدفام امریکی اوربرطانوی نہایت متفکرہیں جوآبادی کے لحاظ سے بھی اپنی فیصلہ کن پوزیشن آہستہ آہستہ کھوتے جارہے ہیں۔رائے شماری کے اندازوں کے مطابق2030ء تک ان کی موجودہ اکثریت خاصی حدتک کم ہوجائے گی۔ ہسپانوی اورایشیائی لوگوں کی تعداد میں تین گنااضافہ ہوجائے گا۔صرف ہسپانوی لوگ آبادی کاایک چوتھائی بن جائیں گے جن کی تعداد36ملین سے103ملین تک جاپہنچے گی اوران کاتناسب6۔12 فیصد سے 4۔24ف یصدتک ہوجائے گا۔ یوں مسلمانوں کی عددی قوت بڑھ جائے گی۔یہ توتھی امریکاکی صورتحال۔ کیااسلام کے خلاف چلائی جانے والی اس مہلک وشیطانی مہم کوبین الاقوامی سطح پربھی کوئی پذیرائی حاصل ہورہی ہے؟
اس کاجواب یہ ہے کہ کسی مقامی سطح پرتوشایدیہ مہم اسلام کاتاثراوراس کی اصل شکل (العیاذ باللہ )بگاڑنے میں کامیاب رہی ہومگر مجموعی طورپریہ مہم ناکام ہی ناکام ہے۔ فرانس اور جرمنی میں عورتوں کے حجاب اوڑھ لینے کے معاملے پراس قدرشدید ردِعمل ہوا کہ ان خواتین نے بھی اسکارف اوڑھنے شروع کردیے جنہوں نے کبھی یہ تصوربھی نہیں کیاتھابلکہ سارے یورپ میں مسلمان خواتین نے تیزی کے ساتھ حجاب کواپناشعاربنالیاہے۔لاس اینجلس ٹائمزکی ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی میں مساجدکے میناراب کثرت سے دکھائی دیتے ہیں جہاں صرف ان چندسالوں میں میناروں والی مساجد میں تین گنااضافہ ہوگیاہے اورامریکامیں اب تک 5987مساجدتعمیرہوچکی ہیں۔حیرت انگیزبات تویہ ہے کہ2 ہزارسے زائد مساجدنائن الیون کے بعدوجودمیں آئی ہیں جہاں اکثریت نو مسلم امریکی مسلمانوں کی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ایک عشرے میں 74فیصدمساجدکااضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں دوہزارسے زائدرجسٹرڈ مساجد ہیں، جہاں مسلمان بچو ں اوربچیوں کی اسلامی تعلیمات کے علاوہ غیرمسلم افرادکوبھی اسلام کی معلومات اور لٹریچر فراہم کیاجاتاہے۔
امریکاکے سب سے بڑے اتحادی برطانیہ ہی کو دیکھ لیجیے، جہاں اسلام نہ صرف عوام میں تیزی سے پھیل رہاہے بلکہ اشرافیہ میں بھی16823 سفید فام اب تعداد میں تین گناہوچکے ہیں۔ برطانوی شہری دھڑادھڑاسلام قبول کررہے ہیں اوردلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں برطانوی اسٹیبلشمنٹ کے لوگ بھی شامل ہیں۔ مثلاًسابق ہیلتھ سیکرٹری فرینک ڈابسن کے بیٹے احمد ڈابسن، بی بی سی کے سابق ڈائریکٹرجنرل لارڈبرٹ کے صاحبزادے یحیی برٹ جواسلام پرخاصی ریسرچ میں مصروف ہیں اورسابق برطانوی وزیراعظم ہربرٹ ایسکیوتھ جوپہلی جنگِ عظیم کے موقع پربرطانوی رہنما تھے، کی پڑپوتی ایماکلارک جوپرنس آف ویلز کے لیے ایک اسلامی باغ بھی ڈیزائن کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سابق ڈپلومیٹ چارلس ایٹن کی اسلام کے متعلق محققانہ تحریریں برطانوی عوام کواسلام کے سمجھنے میں خاصی ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں۔ ایک نجی ٹی وی کی سابق میزبان کرسٹیان بیکر اورسابق وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیرکی اہلیہ شیری کی بہن لورین بوتھ بھی اسلام قبول کرکے پاکستانی مسلمان سہیل کوزندگی کاساتھی بناچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ارل آف یاربروجولنکن شائرمیں28ہزارایکڑاراضی کے مالک ہیں،اسلام کی روشنی اوردائرہ ایمان میں آکراپنانام عبدالمتین رکھ چکے ہیں اورقرونِ اولی کے مسلمانوں کی وضع قطع سے خودکوسجارکھاہے۔ ان ناقابل تردیدحقائق سے اندازہ ہوتاہے کہ اسلام کو پابند کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی جارہی ہیں،اسلاموفوبیا جیسی اصطلاح کاجس قدرپروپیگنڈا کیاجائے، وہ نہ صرف ناکام ہو رہاہے بلکہ اسلام کی نشرواشاعت میں اضافے کاسبب بن رہا ہے۔
’’اتناہی ابھرے گاجتناکہ دبادوگے‘‘۔