فتح کے لیے قربانی ناگزیر

150

حقیقتاً اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگی طاقت کاکوئی مقابلہ ہی نہیں۔ اسرائیل جدیدترین خطرناک اسلحہ سے لیس جبکہ حماس تقریباًنہتے لیکن بھرپورجذبہ شہادت کی ایک مرتبہ پھرناقابل یقین مثال کے ساتھ میدان میں موجود تھی۔ گیار روزہ جنگ کاخاتمے کے لیے خوداسرائیل کوغیرمشروط جنگ بندی کااعلان کرناپڑالیکن حماس نے اس وقت تک آمادگی ظاہرنہ کی جب تک ان کی تمام شرائط تسلیم نہیں کرلی گئیں۔ اس سے حماس کے جذبہ شہادت اورپختہ عزم کی برتری ظاہرہوتی ہے اوراس چیزکابھی اظہارہوتاہے کہ فتح اورکامیابی حاصل کرنے کے لیے قربانیاں دینا ناگزیر ہے۔ جنگ کے نتیجے میں دونوں طرف ہونے والی ہلاکتوں کے تناسب میں بھی کافی فرق رہاچنانچہ اسرائیل کے صرف12 شہری ہلاک ہوئے جبکہ غزہ(فلسطین)میں شہادتوں کی تعداد243بتائی گئی ہے،جن میں وہ66بچے بھی ہیں جن کی لاشوں کے ٹکڑے اٹھانے کے لیے صرف ان کے ضعیف بزرگ باقی بچے ہوئے تھے۔ اسرائیل کی اندھا دھند بمباری کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پرجوتباہی ہوئی اوراملاک کاجونقصان ہواہے، اس کاتواب تک اندازہ نہیں لگایاجاسکا تاہم اب بھی اسرائیلی بمباری کامنہ بولتاثبوت سیکڑوں رہائشی عمارتیں، اسکول، اسپتال اورپناہ گزیں کیمپس آج بھی کھنڈرات کی شکل میں مغرب اورامریکاکے انسانی حقوق کے چہرے پرایک بدنماداغ بنے نوحہ کناں ہیں۔
اسرائیل حماس حالیہ جنگ کے نتیجے میں اہل فلسطین کوبہت سے فائدے حاصل ہوئے ہیں۔عالمی تجزیہ نگاراب بھی اورآئندہ کافی دنوںتک ان کا تجزیہ کرتے رہیں گے۔مثال کے طورپر اپنوں ہی کی بے وفائی سے قضیہ فلسطین پسِ پشت چلاگیاتھا،اس جنگ کے نتیجے میں وہ پھرابھر گیاہے۔ عالمی سطح پرفلسطین کے حمایتی ممالک میں اضافہ ہواہے۔تمام ممالک میں اسرائیل کے خلاف اورفلسطین کی حمایت میں زبردست مظاہرے ہوئے ہیں۔اسرائیل اپنی درندگی،حیوانیت اوردہشتگردی کے سبب اقوامِ عالم میں مبغوض ٹھہراہے اور اس کے خلاف بین الاقوامی نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ڈپلومیسی پوری دنیامیں کمزورہوئی ہے۔ اسرائیل کوناقابلِ تسخیرسمجھے جانے کامفروضہ غلط ٹھہرا،اور حماس کوایک قابلِ لحاظ طاقت تسلیم کیاگیاہے۔اسرائیل کی اقتصادیات پرکاری ضرب لگی ہے،اس لیے کہ حماس کے راکٹوں کوروکنے کے لیے اسرائیل کے آئرن ڈومز سے فائرکیے جانے والے راکٹس کی قیمت کااندازہ کروڑوں ڈالرمیں لگایاگیا ہےاس طرح متعددپہلوؤں سے اہل فلسطین کواسرائیل پر سیاسی، عسکری اورنفسیاتی برتری حاصل ہوئی ہے۔
یہود سے متعلق قرآن کریم کا فرمان ہے:
’’اِن سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصوص ہے، تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو، اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہوO یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنا نہ کریں گے، اس لیے کہ اپنے ہاتھوں جو کچھ کما کر انہوں نے وہاں بھیجا ہے، اس کا اقتضا یہی ہے (کہ یہ وہاں جانے کی تمنا نہ کریں) اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہےO تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤ گے حتیٰ کہ یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے، حالانکہ لمبی عمر بہرحال اُسے عذاب سے تو دور نہیں پھینک سکتی جیسے کچھ اعمال یہ کر رہے ہیں، اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہےO(البقر:94۔ 96)
چنانچہ حماس کی طرف سے جیسے ہی راکٹ داغے جاتے تھے،پورے اسرائیل میں سائرن بج اٹھتے تھے اور یہود آبادی کی غالب اکثریت بنکروں میں جاچھپتی تھی۔ روز روزکی اس صورتحال سے اسرائیلیوں پرکتنے گہرے منفی نفسیاتی اثرات پڑے ہیں،اس کابخوبی اندازہ ایک امریکی ماہر نفسیات کی اس رپورٹ سے لگایاجاسکتاہے کہ اس جنگ کے بعدکئی افریقااوردیگرممالک سے آئے ہوئے یہودیوں نے اسرائیل کوچھوڑکردوبارہ واپسی کارخت سفرباندھ لیاہے اوردرجنوں کی تعدادمیں یہودی اب واپس اپنے ان گھروں کوجانے کے لیے تیارنہیں جن کے گردوپیش میں حماس کی طرف سے راکٹ برسائے گئے تھے جبکہ اسرائیل کے بموں سے غزہ کی کوئی رہائشی عمارت زمیں بوس ہوتی تھی تواس کے مکین ملبے پربیٹھ کراللہ اکبرکانعرہ بلندکرتے اورفتح کانشان بناتے تھے اوراب دوبارہ اپنے گھروں کے ملبے کی صفائی کے بعدان کورہائش کے قابل بنانے کے لیے میدان عمل میں موجودہیں۔
عصر حاضر میں ’’وطنیت‘‘ کی بنیادیں اتنی گہری کردی گئی ہیں کہ دنیابھرکے مسلمانوں نے اپنے فلسطینی بھائیوں کی کچھ مدد کرنی چاہی توبھی نہیں کرسکے۔اس موقع پرانہوں نے ان کے حق میں دعائیں کی ہیں اورزبان وقلم اورسوشل میڈیاکے ذریعے ان کے حق میں آوازبلند کی ہے۔ مسلم ممالک بہت کچھ کرسکتے تھے،لیکن وہ بھی اپنے اقتدارکومحفوظ رکھنے کے لیے مذمتی قراردادوں سے آگے نہیں بڑھ سکے لیکن غزہ کے مجاہدوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرکے امت کی لاج رکھ لی ہے۔اللہ ان کی قربانیوں کوقبول فرمائے۔ان کی
جدوجہدسے ثابت ہوگیا کہ فتح وکامرانی صرف زبانی جمع خرچ سے نہیں حاصل ہوسکتی،بلکہ اس کے لیے قربانیاں ناگزیرہیں۔
افغانستان میں20سال تک امریکااپنے تین درجن اتحادیوں ،نیٹوکی افواج اورجدیدترین اسلحہ اورٹیکنالوجی کے زورپر بدترین ظلم وستم کے بعدبدترین شکست وپسپائی کے ساتھ رخصت ہوگیاہے جواس بات کی دلیل ہے کہ سپرپاورصرف میرے رب کی ہے۔وہ اپنے بندوں کوآزماتاہے کہ کون اس کی محبت میں ثابت قدم رہتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ افغانستان اس صدی میں تین سپرطاقتوں کاقبرستان بن چکاہے۔سب سے پہلے برطانیہ کی دنیابھرمیں نوآبادیوںکوآزادی کی نعمت حاصل ہوئی اوراس کے بعدسوویت یونین کے بطن سے 6 مسلمان ریاستوں کا وجودعمل میں آیااوراب ہزاروں میل دورسے آئے ہوئے ظالم جارح کواپنے اتحادیوں سمیت 6 کھرب ڈالرکے خطیرنقصان کے ساتھ ہزاروں فوجیوں کے تابوت اندھیرے میں واپس اپنے ملک میں لے جا کر نئے قبرستان آبادکرنے پڑے ہیں۔بے شک رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔