امریکا کا مستقبل غیر یقینی؟

225

جب انسان کا حال بربادی کی تصویر بن چکا ہو اور اس کے پاس مستقبل کو لے کر کوئی خاطرخواہ امید موجود نہ ہو تو وہ ماضی میں پناہ ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے۔ ماضی کی یادوں کو اپنی خواہشات پر ترتیب دیتے ہوئے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور ان کے ذریعے اپنی تلخ حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے۔ 2008ء کے معاشی بحران کے بعد جنم لینے والی سیاسی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی کیفیت کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔ امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں دائیں بازو کے پاپولسٹ لیڈروں کا ابھار نظر آتا ہے جو ماضی کی خوبصورت اور مبالغہ آرائی پر مبنی منظر کشی کرتے ہوئے مستقبل کے ایسے سہانے خواب دکھاتے ہیں جو، اَب اس نظام کے اندر ممکن ہی نہیں ہیں۔ 1929ء کے گریٹ ڈیپریشن کے بطن سے جنم لینے والے انقلابی حالات اور سوویت یونین کی موجودگی سے خوف زدہ ہو کر امریکی حکمران طبقے نے وقتی طور پر نام نہاد ویلفیئر اسٹیٹ کو اپنایا تھا۔ کئی دہائیوں تک نسبتاً خوشحالی کا دور دیکھا گیا، لیکن آج کی سرمایہ داری میں یہ سب ممکن نہیں ہے۔ ایسے میں 2008ء کے بحران کے بعد پیدا ہونے والا برنی سینڈرز کا ڈیموکریٹک سوشلزم اور اس کی گرین نیو ڈیل درحقیقت وہی سوشل ڈیموکریسی ہے جو 1984ء میں اپنا عروج دیکھ کر ختم ہو چکی ہے۔ دوسری طرف ہمیں ٹرمپ جیسوں کی صورت میں ایک اور رحجان نظر آتا ہے جو ’امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے‘ کے خیال کے ذریعے قوم پرستی کے کھنڈرات میں مستقبل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سرمایہ داری کے موجودہ بحران میں دولت ہر بدلتے دن کے ساتھ چند لوگوں کے ہاتھوں میں مجتمع ہوتی جا رہی ہے۔ شرح منافع گراوٹ کا شکار ہے، لہٰذا سرمایہ کاری پیداواری شعبے کے بجائے رئیل اسٹیٹ اور اسٹاک مارکیٹ میں کی جا رہی ہے، جو نیاروزگار جنم دینے سے قاصر ہیں۔ سماج کے اندر بیروزگاری اپنے عروج پر کھڑی ہے اور حقیقی اجرتیں مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں۔ موجودہ عہد کا حکمران طبقہ ماضی کی طرح سو سو سال کی منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اب مسلسل بحرانات اور ان سے جنم لینے والے واقعات کے ردعمل میں صرف وقتی ”کرائسز مینجمنٹ“ کرنے پر مجبور ہے۔ جو بائیڈن کا حالیہ 1.9 ٹریلین ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج اسی عمل کی عکاسی کرتاہے جس میں ایک خاص سطح سے کم آمدنی والے لوگوں کو اگلے چند مہینوں تک ماہانہ 1400 ڈالر دیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ چائلڈ کیئر کی مد میں مزید 300 ڈالر دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے معیشت میں پیسہ انجیکٹ کر کے اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بائیڈن کے اس عمل پر لبرل بغلیں بجاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں لیکن اس سے اصل بحران کی صحت پر کچھ فرق نہیں پڑنے والا، بلکہ اس کے برعکس یہ سارا عمل اسی کنزیومرازم کی بلا کو خوراک فراہم کرے گا جو ماحولیاتی تباہی کی ماں ہے اور جس کی وجہ سے حالیہ وبا جیسی قدرتی آفات پھوٹ رہی ہیں۔
امریکی سماج اور محنت کش طبقہ اس وقت بدترین پولرائزیشن کا شکار ہے، جو سیاسی افق پر تین بڑے سیاسی رجحانات میں اپنی عکاسی کر رہی ہے۔ ایک رجحان وائٹ کالر پروفیشنل کارپوریٹ ورکنگ کلاس کا ہے جو امریکا کے سب اربن علاقوں میں مجتمع ہے اور جو بائیڈن جیسے کارپوریٹ ڈیموکریٹوں یا نیو لبرل ازم میں اپنا سیاسی اظہار ڈھونڈتی ہے۔ دوسرا رجحان محنت کش خاندانوں کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اور کسی حد تک منظم بلیو کالر ورکنگ کلاس کا ہے جو برنی سینڈرز کی طرف مائل ہوئے اور آنے والے دنوں میں زیادہ بنیاد پرست رجحانات کی طرف جھکاؤ اختیار کر سکتے ہیں۔ تیسرا رجحان اس طبقے کا ہے، جو امریکا کی ان ریاستوں میں موجود ہے جو نیو لبرل معاشی پالیسیوں کے تحت ہونے والی آؤٹ سورسنگ کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ یہ رجحان ٹرمپ کو اپنا نجات دہندہ سمجھتا رہا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد امریکا کی جنوبی ریاستوں کی وہ مڈل کلاس بھی شامل ہے، جنہیں حالات بہتر ہونے کی امید نے ٹرمپ جیسوں کی حمایت پر مجبور کیا ہوا ہے۔ دوسری طرف امریکا کا حکمران طبقہ ہے جو پہلے ٹرمپ کی حمایت کر کے اسے اقتدار میں لائے لیکن ٹرمپ کے طرز عمل اور طریقہ کار، جو پورے نظام کے لیے عدم استحکام کا باعث تھا، کی وجہ سے ایک دفعہ پھر بائیڈن جیسے اپنے قابل اعتبار نمائندے کو اقتدار میں واپس لانے پر مجبور ہوئے۔ یوں اس کورونا بحران کی تمام تر ذمے داری ٹرمپ پر ڈال دی گئی جو بنیادی طور پر امریکا کے پرائیویٹ صحت کے نظام کی ناکامی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ لبرل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کو چھیڑنے کی کوشش کی گئی تو ٹرمپ جیسی بلائیں ان کی گردنوں پر چڑھ جائیں گی، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ امریکی حکمرانوں نے ٹرمپ کو ہمیشہ کے لیے بے دخل کر دیا ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال حالیہ الیکشن میں ٹرمپ کا اقتدار منتقل کرنے سے انکار اور اپنے حامیوں کے ذریعے پارلیمنٹ پر حملہ کروانے کے باوجود اس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہ ہونا ہے، جبکہ اگر یہی حرکت کسی اور مخالف سیاست دان کے حامیوں یا بلیک لائیوز میٹر کے کارکنوں نے کی ہوتی تو امریکی ریاست انہیں عبرت کا نشان بنا دیتی۔
اس سب کے ساتھ ساتھ ایک اور بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ آج کے ”پوسٹ ماڈرن حکمران“ حقائق کو ماننے ہی سے انکاری نظر آتے ہیں۔ مثلاً ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں اوباما کی تقریب سے کم لوگوں نے شرکت کی لیکن ٹرمپ اس بات پر بضد تھا کہ ایسا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ٹرمپ کی ایک ترجمان نے آ کر ”آلٹرنیٹ فیکٹس“ (متبادل حقائق) نامی ایک اصطلاح ایجاد کرتے ہوئے اپنا موقف ثابت کرنے کی کوشش کی۔ آج سوشل میڈیا بنیادی طور پر لوگوں کے گرد ایک ”ایکو چیمبر“ کھڑا کر دیتا ہے جس میں انہیں صرف اپنی آواز ہی سنائی دیتی ہے۔ ٹرمپ کی سپورٹ بھی اسی طرح کے ایکو چیمبر میں پھنس چکی ہے جن کی اس حقیقی دنیا سے باہر اپنی ایک دنیا ہے جہاں ٹرمپ ایک مسیحا ہے جو ساری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لڑ رہا ہے۔ رائٹ ونگ کے سازشی نظریہ دان مسلسل اس دنیا کی تعمیر کرتے رہتے ہیں اور جو بھی وہ کہتے ہیں ٹرمپ کے حامی اسے سچ سمجھ کے قبول کر لیتے ہیں۔آنے والے دنوں میں ہم اس پورے عمل کو پھیلتا ہوا دیکھ سکتے ہیں جہاں دن بدن سچ کو جھوٹ سے الگ کرنا مشکل ہوتا چلا جائے گا۔
یہ قدرت کا قانون ہے کہ سماجی نظام تاریخ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں، اپنا عروج دیکھتے ہیں اور پھر ایک نئے نظام کو پیدا کرتے ہوئے مٹ جاتے ہیں۔ سامراج کے گڑھ امریکا کی موجودہ صورت حال اس نظام کے گہرے بحران کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اوباما، ٹرمپ، بائیڈن یا برنی سینڈرز سب اسی متروک نظام کے اندر کوئی نہ کوئی جگاڑ ڈھونڈنے کی کوشش کر تے ہیں۔ دوسری طرف امریکا کا نچلا طبقہ جہاں ان کو بار بار موقع دے رہا ہے وہاں وہ سیکھ بھی رہا ہے اور آنے والے دنوں میں وہ ان سب کو مسترد کرنے کی طرف بھی جا سکتا ہے۔ ایسے میں ناگزیر طور پر نئے سیاسی مظاہر دیکھنے میں آئیں گے۔ چنانچہ امریکا میں نئی نسل کے انقلابیوں کو اس انقلابی اوزار کی تعمیر کے عمل کو تیز کرنا ہو گا جسے استعمال کر کے امریکی عوام سرمایہ داری کا خاتمہ کر سکے۔