انتخابی نظام کے ساتھ نیت بھی ٹھیک کریں

187

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپوزیشن سے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کرے اور اپوزیشن جیسا کہ اس کا کام ہی ہے اس نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ 1970ء کے الیکشن کے سوا ہر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات نے نتائج پر شکوک و شبہات پیدا کیے۔ اپوزیشن تعاون کرتے ہوئے موجودہ انتخابی نظام کی اصلاح میں مدد کرے۔

وزیراعظم کے خیال میں دھاندلی کے شور کا واحد حل الیکٹرانک ووٹنگ ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ کے الزامات کا حوالہ دیا کہ وہ اپنے الزامات ٹیکنالوجی کی وجہ سے ثابت نہ کرسکے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور انتخابی نظام اور ووٹنگ کے نظام نتائج جاری کرنے کے طریقہ کار وغیرہ کی اصلاح بھی بہت ضروری ہے، لیکن کیا اس سے مسئلہ حل ہوجائے گا۔

وزیراعظم کی پیشکش اور اپوزیشن کی جانب سے انکار میں دو پہلو پنہاں ہیں۔ ایک یہ کہ اگر وزیراعظم مذاکرات کی پیشکش نہ کرتے اور انتخابی نظام میں کوئی بھی اصلاح اپنی سمجھ کے مطابق کر ڈالتے تو اپوزیشن شکوہ کرتی کہ اعتماد میں نہیں لیا گیا، یکطرفہ فیصلے تھوپے جارہے ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیاجائے وغیرہ اور اب پیشکش ہوئی ہے تو اپوزیشن کی ایک لیڈر مریم نواز نے اسے فوری طور پر مسترد کردیا۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان زیادہ چالاک نہیں یہ الیکٹرانک ووٹنگ الیکشن چوری کرنے کا نیا منصوبہ ہے۔ ان کا خیال ایک حد درست ہے کہ معاملہ نیتوں کا ہے۔ اگر نیتیں ہی ٹھیک نہ ہوں تو کوئی بھی نظام اختیار کرلیا جائے چور راستے موجود ہوتے ہیں۔ صدر بش کے انتخاب کے خلاف بھی اعتراض کیا گیا تھا اور سب جانتے ہیں کہ ان کے بھائی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین لگوائی تھی اور اس کی ریاست میں سب سے بڑی دھاندلی کا الزام عائد کیا گیا تھا لیکن الزام سے آگے کچھ بھی نہیں ہوا۔ جو لوگ بش کو لانا چاہتے تھے وہ کسی الزام کو قبول کرنے پر تیار نہیں نہیں تھے، بالکل اسی طرح جس طرح عمران خان کو لانے والوں نے آنکھوں دیکھی مکھیاں نگلیں، یا مچھر چھانے گئے اور اونٹ یا ہاتھی نگل لیا۔ اصل بات یہ ہے کہ نظام سے زیادہ نیتوں کی اصلاح ضروری ہے۔

نیت ٹھیک نہیں ہوگی تو الیکٹرانک ووٹنگ مشین بھی آر ٹی ایس کی طرح کے نتائج دے گی۔ یہ مشین بھی تو انسان ہی کے کنٹرول میں ہوتی ہے۔ وزیراعظم تجویز تو ضرور دے رہے ہیں لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بعد دھاندلی نہیں ہوگی۔ کیوں کہ ملک کے انتخابی نظام حکومتوں کے بنانے بگاڑنے میں دلچسپی رکھنے والوں کی عادتیں تو ٹھیک نہیں کی گئیں۔ ان کی دلچسپیاں تو برقرار رہیں گی پھر کس طرح اصلاح ہوسکے گی۔ ویسے یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ وزیراعظم کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے یا اپوزیشن کے مشورے سے دونوں کو یا پھر یہ اختیار مکمل بااختیار آزاد الیکشن کمیشن کا ہے۔

 وزیراعظم اور اپوزیشن مل کر الیکشن کمیشن کے سامنے تجاویز رکھ سکتے ہیں، لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا الیکشن کمیشن بااختیار ہے؟ دوسرا پہلو مشورے، مذاکرات یا اعتماد میں لینے کا ہے۔

وزیراعظم نے انتخابی نظام کی اصلاح کی بات کی ہے بہت اچھی بات ہے لیکن اس سے پہلے اہم قومی امور میں بھی اگر وہ اپوزیشن کو یہی دعوت دیتے تو اچھا ہوتا۔ مثلاً ہم آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہتے ہیں، اپوزیشن سے اس مسئلے پر مل کر کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، وہ آئے اور مذاکرات کرے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا کسی نے اشارہ دیا اور حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے، گھٹنے ٹیک دیے، خود لیٹ گئے اور اب تو قوم کو لٹا کر ذبح کردیا۔

ان میں سے کسی چیز کے لیے مذاکرات نہیں کیے، پٹرول سستا ملتا ہے مہنگا فروخت ہوتا ہے اس پر مذاکرات کی دعوت بھی نہیں دی اور کوئی مشورہ نہیں کیا۔ مافیائوں پر ہاتھ ڈالنے کی بات کی گئی لیکن صرف یکطرفہ احتساب کیا گیا، اپوزیشن سے بھی مشورہ لیتے اور اپنی طرف کے چوروں پر بھی ہاتھ ڈالتے لیکن اس معاملے میں بھی مشورہ نہیں کیا گیا۔

سب سے اہم مذاکرات کشمیر کے مسئلے پر ہونے چاہیے تھے لیکن اس معاملے کو بھی حکومت نے اپنے بل پر خراب ہی کیا۔ یہ مسئلہ تو ایسا ہے کہ اس پر ہر ماہ ایک کل جماعتی کانفرنس ہونی چاہیے۔ کشمیریوں کے لیے موثر حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ ان کے محاصرے کو غذائوں اور دائوں کے ساتھ قافلہ لے جا کر توڑنا چاہیے، دیگر اسلامی اور پڑوسی ممالک کو ساتھ ملا کر آواز اٹھانی چاہیے لیکن حکومت نے اس پر بھی مذاکرات نہیں کیے۔

عام طور پر مذاکرات اس لیے بھی کیے جاتے ہیں کہ اس میں فیصلے کا بوجھ اکیلے اپنے سر نہیں لیا جاتا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب کا فیصلہ ہے پھر بھی اگر وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابی نظام کی اصلاح ہونی چاہیے تو صرف اپوزیشن کی دو جماعتوں کو پیش کش نہ کریں تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دیں، سب کی تجاویز سامنے لائیں ان پر طویل بحث کی جائے، سنجیدگی کا پیمانہ یہی ہے کہ صاف نظر آئے کہ حکومت کچھ چھوڑنے پر تیار ہے، اپوزیشن بھی کچھ چھوڑنے کو تیار ہے۔

ملک میں متناسب نمائندگی کے نظام پر بھی مشورے کی ضرورت ہے۔ کراچی کے ضمنی انتخاب کے نتائج تو یہی بتاتے ہیں کہ اکثریت نے جس کے خلاف ووٹ ڈالا وہی کامیاب قرار پایا۔ لہٰذا الیکٹرانک ووٹنگ ضرور لائیں لیکن انتخابی طریقہ کار بھی تبدیل کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر اس کی ضرورت ہے کہ حکومت، طاقتور ادارے اور اپوزیشن اپنی نیت کی بھی اصلاح کریں، اگر نیت قبضے کی ہے تو کوئی اصلاح کارآمد نہیں ہوگی۔ اپوزیشن خود فوج سے معاملات کرکے اقتدار میں آنا چاہتی ہے، اسے بڑے فخر سے سیٹنگ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کی قیمت پھر ملک اور قوم کو چکانا پڑتی ہے۔