کیا ویب سائٹ پر بیماریوں کے علاج کی مطلوبہ معلومات درست ہیں؟

247

سرچ انجن گوگل کی وجہ سے بہت سی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں جبکہ کوئی بھی چیز معلوم کرنی ہو تو بس گوگل پر لکھا اور اپنی مطلوبہ معلومات کے ساتھ ساتھ دیگر اضافی معلومات بھی حاصل کرلیں۔

اب تو ہم بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے گوگل سرچ انجن کی خدمات حاصل کرنے لگے ہیں جبکہ ایسا کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتاہے، تاہم طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو کوئی بیماری، پریشانی، علامت یا تکلیف ہے تو وہ اس کے لیے گوگل نہ کرے کیونکہ اس عمل سے اس کی تکلیف کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتی ہے۔

اپنی جبلت کے لحاظ سے ہم ویسے ہی سُست ہیں، کسی بھی بیماری یا علامت کی زیادتی کے بعد ہی ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں۔

اس سے قبل ہم خود تشخیصی اور اپنا علاج آپ یعنی سیلف میڈیکیشن کی روش اپنائے رکھتے ہیں جبکہ بعض اوقات گوگل معمولی سے درد کی اتنی وجوہات بتادیتا ہے کہ آپ انہیں جان کر پریشانی اور اکثر ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

گوگل کرنے پر ملتی جلتی علامات والے لوگوں کی پریشان کن کہانیاں بھی سامنے آجاتی ہیں، آپ کو جو درد ہورہا ہوتا ہے وہ یہ سب پڑھنے اور سننے کے بعد مزید بڑھ جاتا ہےاور اس کے علاوہ گوگل کرنے پر علاج کی غرض سے سامنے آنے والی دوائیں ہر شخص کی تکلیف کے حساب سے مختلف ہوسکتی ہیں جبکہ ایک ماہر ڈاکٹر کی جانب سے دواؤں کی درست طاقتاور مقدار کا تعین مریض کے وزن اور اس کو لاحق دیگر امراض کے بعد کیا جاتا ہے۔