۔73 برس سے اسرئیلی مظالم کا شکار نہتے فلسطینی عوام

78

کسی قوم پر مظالم ڈھانےکی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ اس پر جنگ مسلط کردی جائے، نوجوانوں کو مار دیا جائے یا پابند سلاسل کر دیا جائے، عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم و بے آسرا کر دیا جائے۔ ان سب کے علاوہ دیگر صورتیں یہ بھی ہوتی ہیں کہ کسی قوم کواس علاقے سے بے دخل کر دیا جائے جہاں وہ صدیوں سے آباد ہو اور اس کے تمام وسائل پر قبضہ کر لیا جائے۔ اس کی بستیوں کو مسمار کر کے وہاں جارح قوم اور اس کے حمایتیوں کو آباد کیا جائے اور مظلوموں کو کسی ایسے علاقے میں دھکیل دیا جائے جہاں زندگی کی کوئی بنیادی سہولت میسر نہ ہو اور پھر چاروں طرف سے اس کا محاصرہ کرکے دنیا بھر سے رابطہ منقطع کر دیا جائے تاکہ انہیں خوراک اور علاج کی امداد بھی میسر نہ آ سکے۔ فلسطینی ایسی مظلوم قوم ہے، جس پر اسرائیل کی ناجائزریاست، 73 برس سے یہ تمام مظالم ڈھا رہی ہے۔ ہر آنے والی رات کو فلسطینی عوام کے ساتھ ظلم و جارحیت کا نیا کھیل کھیلا جاتا ہے اور ہر طلوع ہونے والی صبح کو ان پر قتل و غارت کا نیا حربہ آزمایا جاتا ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر رہنے والوں نے ظلم و ستم کی جو داستانیں دیکھی ہیں وہ اس کرہ ارض پرشاید ہی کسی اور قوم نے دیکھی ہوں۔ اب تک معصوم بچوں، جوانوں، عورتوں، اور بوڑھوں سمیت نہ جانے کتنے افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن عالمی ضمیر پھر بھی بے حس اورخاموش ہے۔ سامراجی طاقتیں ایک طرف اسرائیل کو مالی اور فوجی امداد مہیا کرکے موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ فلسطینیوں پر نہ ختم ہونے والی جنگ مسلط کرے، ان کی آبادیاں مسمار کرکے وہاں یہودی بستیاں بسائے اور دوسری طرف دنیا کو بیوقوف بنانے کے لیے آئے روز مذاکرات و امن معاہدات کا ڈھونگ رچاتی ہیں۔
برطانوی اور فرانسیسی سامراج نے پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد اس کے علاقوں پر تسلط قائم رکھتے ہوئےلیگ آف نیشنز کے ذریعے اس کےصوبوں کو قومی ریاستوں کی شکل دے دی تھی جو آج عراق، شام اور لبنان کی شکل میں موجود ہیں۔ برطانیہ نے فلسطین اور دریائے اُردن کے علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا ضروری سمجھا کیونکہ نہر سویز اور فلسطینی ساحل ایشیا اور افریقا کو مغربی دنیا سے جوڑتے ہیں اور یہ مشرقی اقوام کے سستے خام مال کی مغربی دنیا کی صنعتوں تک ترسیل کے لیے اہم گزرگاہ ہیں۔ اسی زمانے میں یورپ میں یہودیوں سے کی جانے والی نفرت اورمظالم اپنے عروج پر پہنچے اور ان کی اکثریت قتل و غارت سے تنگ آکر امریکا کی طرف نقل مکانی کرنے لگی۔ اس سلسلے کو روکنے کے لیے انہیں فلسطین کی سرزمین پر بسانے اور یہودی ریاست کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی تھاکہ یہ ریاست ہمیشہ مقامی باشندوں کے ساتھ حالت جنگ میں رہتے ہوئے مغربی طاقتوں کی محتاج رہے اورمغربی طاقتیں یہاں کےوسائل سے اپنے مفادات حاصل کرتی رہیں۔
پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ڈاکٹر وائز مین (یہودیوں کی قومی وطن تحریک کا روح رواں) نے لارڈ آرتھر جیمز بالفور سے ’’بالفور پروانہ‘‘ حاصل کیا تھا جس کے تحت انہیں فلسطین کی سرزمین پر فلسطینی عوام سے پوچھے بغیر آباد ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس وقت یہودیوں کی جو آبادی فلسطین میں بسائی گئی اس کی تعداد کل آبادی کا 5 فیصد بھی نہیں تھی۔ 1917ء میں یہودی آبادی 25 ہزار سے بڑھ کر 38 ہزار اور 1922ء سے 1939ء تک یہ تعداد ساڑھے 4 لاکھ تک پہنچ گئی۔ جنگ عظیم دوم کے زمانے میں ہٹلر کے مظالم سے بھاگنے والے لاکھوں یہودی فلسطین میں داخل ہوئے۔ صیہونی ا یجنسی کے ذریعے قائم کی گئی مسلح تنظیموں نے مار دھاڑ سے عربوں کو بھگانے اور ان کی جگہ یہودیوں کو بسانے میں جو مظالم ڈھائے وہ ان مظالم سے کم نہ تھے جو نازیوں نے یہودیوں پر کیے تھے۔
1947ء میں برطانوی حکومت نے فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کیا اور نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقسیم کی جو تجویز امریکی ہتھکنڈوں کے ذریعے پاس کرائی گئی، اس کی رو سے فلسطین کا 55 فیصد رقبہ 33 فیصد یہودی آبادی کو اور 45 فیصد رقبہ 67 فیصد عرب آبادی کو دیا گیا اور بیت المقدس کو بین الاقوامی حیثیت دی گئی۔ لیکن یہودی اس تقسیم سے راضی نہ ہوئے اور قتل و غارت گری کے ذریعےعربوں کو نکالنا اور ملک کے زیادہ سے زیادہ حصے پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ صیہونی قیادت کو اسرائیل کے ایک کمزور ریاست ہونے کا خوف تھا جس کی اکثریت فلسطینیوں اور اقلیت یہودیوں پر مشتمل تھی۔ اس ریاست کے شمالی اور جنوبی حصوں کا رابطہ 10 کلومیٹر چوڑی پٹی پر مشتمل تھا۔ کسی بھی جنگ کی صورت میں اس ریاست کو مغربی امداد پہنچنے سے قبل ہی تباہ و برباد ہونے کا خطرہ موجود تھا۔ اس لیے صیہونی قیادت نے 1948ء میں اس ریاست میں توسیع کی غرض سے فلسطینیوں پر جنگ مسلط کی، جسے عرب اسرائیل جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس جنگ میں اسرائیل نے فلسطینیوں پر ظلم کےپہاڑ توڑ ڈالے۔ ہزاروں معصوم فلسطینیوں کی جان لی، لاکھوں کو بے دخل کیا اور ان کی زمینوں پر یہودی ریاست تعمیر کی۔
14 مئی 1948ء کو عین اس وقت جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطین کے مسئلے پر بحث کر رہی تھی، یہودی ایجنسی(یہودیوں کی مرکزی تنظیم) نے رات کے 10 بجے تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کے قیام کااعلان کیا۔ سب سے پہلے امریکا اور روس نے اس ریاست کو تسلیم کیا حالانکہ اس وقت تک اقوام متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین میں اپنی قومی ریاست قائم کرنے کی باقاعدہ اجازت نہیں دی تھی۔ اس اعلان کے وقت تک 6 لاکھ سے زیادہ عرب بے گھر کیے جا چکے تھے اور اقوام متحدہ کی تجویز کے بالکل خلاف بیت المقدس کے آدھے سے زیادہ حصے پر اسرائیل قبضہ کر چکا تھا۔ عرب ممالک نےاس ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور مصر، شام، اُردن، لبنان اور عراق کی افواج نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ یہ جنگ 1949ء کے امن معاہدوں کے تحت ختم ہو ئی اور 11 مئی 1949ء کو اسرائیل اقوام متحدہ کا رکن بنا لیا گیا۔ اسرائیل نے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے مزید 10 لاکھ یہودی تارکین وطن کو آباد کیا اورایک سریع الحرکت فوج تیار کرتے ہوئے نئے آنے والوں کے لیے فوجی خدمات دینا لازمی شرط قرار دیا۔
مذکورہ یہودی ایجنسی سے اُردن کے شاہ حسین کے دادا شاہ عبداللہ کے خفیہ روابط تھے۔ انہوں نے 1948ء میں پہلے سے طے شدہ برطانوی انخلاء کے بعد زمین کو آپس میں بانٹ لینے کے لیے گٹھ جوڑ کر رکھا تھا۔ 1951ء میں ایک فلسطینی قوم پرست نے شاہ عبداللہ کو بیت المقدس کی الاقصیٰ مسجد میں ہلاک کر دیا۔ اس کے ایک سال بعد شاہ حسین بادشاہ بنے۔ اس وقت غرب اُردن کی اکثریتی آبادی فلسطینی پناہ گزینوں پر مشتمل تھی۔ 1955ء میں اسرائیل نے غزہ اور اُردن کی آبادیوں پر چھاپا مار حملے کیے، جس سے بے شمار فلسطینی مسلمان شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوجی کارروائی پر فلسطینیوں میں خوب شور شرابہ ہوا۔ شاہ حسین کافی عرصےتک اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کرتے رہے لیکن اسرائیل اپنی کاروائیوں سے باز نہیں آیا۔ جب شاہ حسین کو یقین ہو گیا کہ غم اور غصے سے بھرے فلسطینی ان کا تخت الٹ دیں گے، تو انہوں نے غرب اُردن میں مارشل لا نافذ کر دیا جس سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
1956 میں اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کر کے مصر پر حملہ کیا اور کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ روس اور امریکا کی وجہ سے اقوام متحدہ نے نہ صرف اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا بلکہ اسے ان علاقوں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا جن پر یہ قبضہ کر چکا تھا۔ اسی دوران سویت یونین نے مصر کو جدید فضائی طیارے فراہم کیے۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل نے بھی جدید اسلحہ و جنگی ٹیکنالوجی کےحصول کا منصوبہ بنایا۔ اسرائیل کے امریکا کے ساتھ قریبی دوستی تھی لیکن اس وقت تک یہ امریکی دفاعی امداد حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک نہیں بنا تھا۔ 1960ء میں اسرائیل نے فرانس سے طیارے اور برطانیہ سے ٹینک حاصل کیے اور 1967ء میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی بھی کوشش کی۔
5 جون 1967ء کو اسرائیل نے امریکا اور کئی دیگر ممالک کی پشت پناہی سے مصر، اُردن اور شام پر حملہ کیا اور غزہ، صحرائے سینا، مشرقی بیت المقدس، گولان کی پہاڑیوں اور دریائے اُردن کے مغربی علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اسرائیلی ہوائی جہازوں نے مصر کے ہوائی جہازوں کو زمین ہی پر تباہ کر دیا۔ 10 جون 1967ء کو اقوام متحدہ نے ایک قرار داد 242 کے ذریعے اسرائیل کو تمام مفتوحہ علاقے خالی کرنے کو کہا جس پر آج تک مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس جنگ کے بعد مزید 5لاکھ فلسطینیوں کو اپنے ملک فلسطین سے مصر، شام، لبنان اور اُردن کی طرف دھکیل دیا گیا، اور ان کا جانی، مالی اور اقتصادی استیصال کیا گیا۔
اس جنگ میں عرب افواج کے 21 ہزار فوجی ہلاک، 45 ہزار زخمی اور 6 ہزار قیدی بنالیے گئے اور 400 سے زائد طیارے تباہ ہوئے جبکہ اس کے مقابلے میں اسرائیل کے 779 فوجی ہلاک، 2563 زخمی اور 15 قیدی بنائے گئے۔ اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔ عالمی صیہونی تنظیم نے مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل تعمیر کرنے کے لیےخصوصی فنڈ کا اجرا کیااور اس کے ساتھ ہی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مسجد اقصیٰ کے دروازے یہودیوں کے لیے کھولے گئے۔ وہ اپنے کتوں کو ساتھ لے کرمسجد اقصیٰ میں جوتوں سمیت گھومنے لگے۔
اس جنگ کے بعد اسرئیل، مصر اور شام کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے لیکن بے نتیجہ ثابت ہونے پر مصر اور شام نے 6 اکتوبر 1973ء میں اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ کامیاب رہا۔ شام نے گولان کی پہاڑیوں پر اور مصر نے صحرائے سینا میں پیش قدمی کی۔ اگر امریکا اسرائیل کی بھر پور امداد نہ کرتا تو شاید اس جنگ کے نتیجے میں فلسطین کامسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ امریکا بظاہر جنگ میں حصہ نہیں لے رہا تھا مگر اس کا طیارہ بردار بحری جہاز سینائی کے شمالی سمندر میں ہر طرح سے لیس موجود تھا۔ اس کے راڈاروں اور ہوائی جہازوں نے اسرائیل کے دفاع کے علاوہ مصر میں پورٹ سعید کے پاس ہزاروں اسرائیلی کمانڈو اتارنے میں بھی رہنمائی اور مدد کی۔24 اکتوبر 1973ء کو امریکا اور روس نے جنگ بندی کرادی اور اقوام متحدہ کی امن فوج نے چارج سنبھال لیا۔ 18 جنوری 1974ء کو اسرائیل نہر سویز کے مغربی کنارے سے واپس چلا گیا۔ مذاکرات میں اسرئیل کا پلڑا بھاری رہا اورامریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی وجہ سے انورسادات اپنے تمام موقف سے جن میں فلسطینی علاقوں کی آزادی بھی شامل تھی، پیچھے ہٹ گئے اور صحرائے سینا کی واپسی کی شرط پر امن معاہدہ تسلیم کر لیا۔ انور سادات نے نہر سویز کے حوالے سے اضافی مراعات بھی دے دیں۔ اس پر حافظ الاسد ناراض ہو گئے اور مصر سے تعلقات ختم کر لیے۔
نومبر 1977ء میں مصر کے صدر انور السادات نے اسرائیل کا دورہ کیا اور 26 مارچ 1979ء کو مصر اور اسرائیل نے امن معاہدے پر دستخط کیے۔ دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے 3 سال بعد اسرائیل نے مصر کو صحرائے سینا کا علاقہ واپس کر دیا۔ جولائی 1980ء میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت پورے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردیدیا۔ 1981ء میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو بھی اسرائیل کا حصہ قرار دیا حالانکہ بین الاقوامی طور پر اس فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ 7 جون 1981ء کو اسرائیلی جہازوں نے بغداد کے قریب عراق کا ایک ایٹمی ری ایکٹر تباہ کیا۔ 6 جون 1982ء کو اسرائیلی فوج نے تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی مرکزیت کو تباہ کرنے کے لیے لبنان پر حملہ کیا اور مغربی بیروت پر تباہ کن بمباری کے بعد پی ایل او نے شہرخالی کر دیا۔
9 اپریل 1980ء کو یہودی راہبوں کے ایک گروپ نے معبد کوہ (ٹیمپل ماؤنٹ) پر قبضہ کرنے کے لیے ایک کانفرنس کی۔ 30 مارچ 1982ء میں مسلم اوقاف کے ذمے داروں نے اسرائیل کو خطوط لکھ کر ان حرکتوں سے باز رہنے کا کہا۔ 11 اپریل 1982ء ایلن گڈ نامی ظالم اسرائیلی فوجی نے اپنے ایم۔ 16 ایزالٹ رائفل سے فائرنگ کرکے بیشمار لوگوں کو قتل اور زخمی کیا۔ مارچ 1983ء میں یروشلم کا اندرونی دروازہ کھدائی کرکے منہدم کیا گیا۔ اگست 1986ء میں یہودی راہبوں نے حرم میں عبادت کرنے اور وہاں ایک صومعہ بنانے کا مطالبہ کیا بعد ازاں اسرائیلی ہائی کورٹ نے اس کی اجازت دے دی جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور پوری دنیا میں احتجاج ہوئے۔ 12 مئی 1988ء کواسرائیلی سپاہیوں نے مسلمانوں کے پر امن احتجاج پر حرم کے سامنے فائرنگ کر دی جس سے 100 کے لگ بھگ فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ 8 اگست 1990ء کو اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصی میں قتل عام کیا جس سے بے شمار نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔
16ستمبر 1982ء میں لبنان کے عیسائی شدت پسندوں نے اسرائیل کی مدد سے 2 مہاجر کیمپوں میں گھس کر سیکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ اس سفاکانہ کارروائی پر اسرائیل کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے۔ 1980ء تا 1988ء عراق ایران جنگ سے فلسطینی مزاحمتی تحریک کو نقصان پہنچا۔ اس طویل جنگ سے نہ صرف دونوں ملک تباہ ہوئے بلکہ عرب ملکوں کے سامنے بھی ایک سے زیادہ سیاسی مسائل کھڑے ہو گئے اور دوسری طرف تحریک مزاحمت فلسطین کی مالی اعانت میں بھی کمی واقع ہوئی۔
1988ء میں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کارروائی کی اور اسی سال نومبرمیں فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمتی مہم ’’پہلی انتفاضہ‘‘ کا آغاز کیا۔ حماس بھی اس مزاحمتی تحریک میں شامل تھی اور غزہ و غربی کنارے میں مظاہرے ہوئے۔ اگلے 6 سال میں اس تحریکی سلسلے کو زیادہ مربوط بنایا گیا، اس تحریک نےعرب ریاستوں کے علاوہ بین الاقوامی طور پر توجہ حاصل کی اور مسئلہ فلسطین ایک مرتبہ پھر بین لاقوامی سطح پر نمایاں ہوا۔ اسی سال اقوام متحدہ نے اپنی قرار دادنمبر 181کے ذریعے فلسطین کی تقسیم کا اعلان کیا۔ اس قرار داد کے مطابق فلسطین کے ایک حصے پر عرب اور دوسرے پر یہودیوں کا حق تسلیم کیا گیا۔ اس قرار داد میں مہاجر فلسطینیوں کی وطن واپسی کے علاوہ تمام اہم مطالبات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ (جاری ہے)