کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ویبینار کا انعقاد

185

جمعیت علمائے اسلام جدہ کے زیر اہتمام بھارت کے جابرانہ تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے ویبینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستانی کمیونٹی، سیاسی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مہمانان خصوصی میں جے یو آئی جموں و کشمیر کے امیر علامہ سعید یوسف اور قونصل جنرل پاکستان خالد مجید شامل بھی شامل تھے۔
پروگرام کا آغاز قاری حفیظ نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ جس کے بعد جے یو آئی (سعودی عرب) کے انجینئر محمد عبدالصبور نے پروگرام کا مقصد بیان کرتے ہوئے شرکا کو خوش آمدید کہا اور کشمیر کی تازہ صورتحال سے شرکا کو آگاہ کیا۔ مہمان خصوصی خالد مجید نے کہا کہ بھارتی حکومت کے متنازع فیصلوں سے جہاں دنیا کو حقیقت کا علم ہوا وہیں، تحریک آزادی کشمیر میں بھی نئی روح پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سفارتی مشن بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی جنگ اس وقت تک لڑتا رہے گا، جب تک کہ کشمیریوں کو ان کی منزل نصیب نہیں ہو جاتی۔
علامہ سعید یوسف کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط و مستحکم پاکستان ہی کشمیری قوم کا پائیدار وکیل ثابت ہو سکتا ہے۔ دعا کریں کہ پہلے پاکستان معاشی، دفاعی اور سفارتی سطح پر مضبوط ہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیریوں کی تاریک رات ختم ہونے کو ہے۔ تحریک کشمیر اصل میں تحریک استحکام پاکستان ہے اور کشمیری وہ قوم ہے جس نے اپنی جانیں،نسلیں اور عزتیں قربان کر کے نظریہ پاکستان کی آبیاری کی ہے۔
پروگرام میں کشمیر یکجہتی فورم اور ق لیگ کے ریاض گھمن، تحریک انصاف اور پاکستان ویلفیئر فورم سے بشیر خان سواتی، پیپلزپارٹی سے شمس الدین الطاف، ن لیگ سے سردار اقبال معاون خصوصی وزیراعظم آزاد کشمیر برائے اوورسیز کشمیریز، جمعیت علمائے اسلام سے مولانا سمیع الحق، قاری حفیظ اللہ، انجینئر سجاد خان، صحافیوں اور کمیونٹی کے دیگر افراد نے شرکت کی۔ آخر میں کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی مضبوطی اور سالمیت کے لیے دعا کی گئی۔