جموں و کشمیر کمیونٹی اوورسیزکے تحت یومِ شہدائے کشمیر پر تقریب

163

جموں وکشمیرکمیونٹی اوورسیز (جے کے کے او) کے تحت 89 ویں یومِ شہدائے کشمیر کی تقریب جدہ میں عقیدت واحترام سے منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے اہل کشمیر کو سلام پیش کیا۔ تنظیم کے ترجمان مصطفیٰ خان نے نمایندہ جسارت سید مسرت خلیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر ہم جموں و کشمیر پر غیرقانونی و جابرانہ بھارتی قبضے کے خلاف جاری جدوجہد پر کشمیریوں کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ 13 جولائی 1931ء کے شہدا کی قربانیاں آج کی کشمیری مزاحمت کی بنیاد ہیں۔ ان کی اولادوں نے نسل در نسل آزادی کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کی ہیں اور آج بھی وہ آبادیات سے مصنوعی چھیڑچھاڑ (ڈیموگرافک انجینئرنگ) کے ذریعے کشمیریوں کو مٹانے اور ان کی شناخت گم کرنے پر بضد ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت کے خلاف پوری جرات کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کمیونٹی اوورسیز کے چیف آرگنائزر عبداللطیف عباسی، چیئرمین سردار محمداشفاق خان، سینئر وائس چیئرمین چودھری خورشید احمد متیال، وائس چیئرمین سردار کامران اعظم، وائس چیئرمین انجینئر محمد عارف مغل، وائس چیئرمین چودھری معروف حسین، وائس چیئرمین انجینئر سردار محمد ابرار خان، وائس چیئرمین سردار محمد آصف، وائس چیئرمین خالد گجر، سیکرٹری جنرل سردار وقاص عنایت اللہ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل راجا پرویز احمد، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل راجا محمد ریاض، سیکرٹری نشرواشاعت ارشد محمود بٹ، ڈپٹی سیکرٹری نشرواشاعت کامران انور بیگ ، ایڈیشنل سیکرٹری نشرواشاعت چودھری افتخار عالم، سیکرٹری مالیات راجا شمروز خان، ڈپٹی سیکرٹری مالیات راجہ معروف اختر، ڈپٹی سیکرٹری مالیات محمد محفوظ چودھری، سیکرٹری رابطہ غلام مصطفی خان، ڈپٹی سیکرٹری رابطہ عمران اکرم، ڈپٹی سیکرٹری رابطہ انجینئر رضوان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی غاصبانہ بھارتی تسلط سے مکمل آزادی تک جدوجہد میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب کشمیریوں کو آزادی کی صبح نصیب ہو گی۔ تقریب کے شرکا نے کشمیریوںکے ساتھ ہونے والے دہشت گردانہ بھارتی رویے کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ کو بھی چاہیے کہ وہ کشمیر کے اندر ہونے والے ظلم پر بھارت کو لگام دے اور کشمیریوں کے ساتھ حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کرے۔ نہتے کشمیری کئی ماہ سے کرفیو اور لاک ڈاؤن میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کشمیر میں ذرائع ابلاغ، صحت کی سہولیات، تعلیم، روزگار سب بند ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر اکثر بھارت کی جانب سے معصوم کشمیریوں کو شہید اور ان کے مکانات اور کاروبار کو تباہ کیا جا رہا ہے اور اس پر عالمی خاموشی ظلم کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔