فلسطینیوں پرعرصہ حیات تنگ

84

مرکز اطلاعات فلسطین
بیت المقدس کو یہودیانے کی اسرائیلی سازشوں کے تناظر میں القدس شہر میں فلسطینی قوم کا وجود ختم کرنے کے لیے اسرائیلی ریاستی مشینری دن رات سرگرم عمل ہے۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے القدس کےفلسطینی باشندوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔ فلسطینیوں کے مکانات مسمار کیے جا رہے ہیں۔ انہیں ہجرت پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ان پر زندگی تنگ کردی گئی ہے۔ صہیونی سازشوں اور آئے دن شروع ہونے والے منصوبوں کے نتیجے میں القدس میں ہزاروں سال سے آباد فلسطینیوں کا جینا محال ہو چکا ہے جب کہ دوسری طرف یہودی آباد کاروں کو ہرطرح کی سہولیات دی جا رہی ہیں۔
ان تمام سازشوں کا ہدف القدس میں فلسطینی قوم کے وجود کو ختم کرنا اور تاریخی شہر پر یہودی آباد کاروں کا آبادی کے لحاظ سے غلبہ قائم کرنا ہے۔ اسرائیلی مزاحمتی کمیٹی برائے دیوار فاصل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ القدس میں فلسطینیوں کا 70 مربع کلو میٹر کا رقبہ یہودیوں میں تقسیم کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ اس کے ساتھ فلسطینی شہریوں کو گھروں کی تعمیر سے روک دیا گیا ہے۔فلسطینی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے القدس میں فلسطینیوں کی 17 ہزار املاک جن میں بڑی تعداد میں گھر شامل ہیں کو مسمار کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں۔ ان میں سے 5 ہزار پرعمل کردیا گیا ہے۔
انسداد یہودی آبادکاری کمیٹی کے مطابق اسرائیل نے 2000ء سے 2020ء تک کے منصوبے کے تحت القدس میں فلسطینی آبادی 40 فی صد کم کرکے 12 فی صد کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے تاہم صہیونی حکومت اس ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس ناکامی کے بعد اسرائیل نے القدس کے فلسطینیوں پر زندگی مزید تنگ کردی ہے۔ القدس کے فلسطینیوں کے 16 ہزار شناختی کارڈ منسوخ کردیے گئے ہیں۔ القدس کی کفر عقب اور شعفاط کیمپ خاص طور پر صہیونیوں کا ہدف ہیں۔
القدس سے فلسطینی پارلیمان کے منتخب ہونے والے رکن احمد عطون کے مطابق اسرائیل القدس میں یہودیوں کی آبادی بڑھانے کے لیے فلسطینیوں کی آبادی میں ایک لاکھ 30 ہزار کو جبراً بے دخل کرنا چاہتا ہے۔ احمد عطون کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک طے شدہ منصوبے کے تحت القدس میں فلسطینی آبادی کی تعداد میں اضافے کو روکنے کی کوشش کررہاہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار ناصر الہدمی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے پہلے القدس میں فلسطینی آبادی کو کم کرنے کے لیے 2020ء کا منصوبہ تیار کیا۔ اس کا ہدف پورا نہ ہونے پر اب 2030ء کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس تک پہنچنے کے لیے اسرائیل نے القدس میں معالیہ ادومیم اور غوش عتصیون جیسی بڑی یہودی کالونیوں کی شرقاً غرباً توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ناصر الہدمی کا کہنا کہ القدس میں فلسطینیوں کی آبادی پرعرصہ حیات تنگ کرنے کے لیے اسرائیل مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کی تعداد کم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قیام اور صہیونی آباد کاروں کے غاصبانہ قبضے کے بعد ہی سے ان غاصبوں نے فلسطین کے قدرتی وسائل، خوراک اور آبی وسائل کی لوٹ مار شروع کر دی تھی۔ آبی اور خوراک کے وسائل پر قبضہ اسرائیل کے اہداف ومقاصد میں ہمیشہ شامل رہا ہے اور مختلف طریقوں سے فلسطینیوں کے وسائل کو چوری کیا جاتا رہا۔ 1948ء سے 1967ء تک اسرائیل نے نسل پرستانہ قانون سازی کے ذریعے وسائل پر قبضے، فلسطینیوں کی فوڈ سیکورٹی کے ذرائع پر براہ راست حملے کیے ہیں جو اب کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینی وسائل پر قبضے کا نیا اور تازہ اعلان غرب اُردن اور وادی اُردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنا ہے۔ فلسطینی اراضی کے الحاق کا متنازع منصوبہ فلسطینی خوراک اور پانی کے بڑے وسائل اور ذخائرسے فلسطینی قوم کو محروم کر دے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست نے پانی کے ذرائع اور زرخیز مٹی تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ فلسطینیوں کو دریائے اُردن کے پانی سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ وادی اردن میں الجفتلک ولیج کونسل کے چیئرمین احمد غوانمہ نے زور دے کر کہا کہ وادی اُردن تمام فلسطینی علاقوں کے لیے خوراک کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ صہیونی حکام روزانہ کسی نہ کسی سازش کے تحت فلسطین میں محفوظ خوراک کے ذرائع غصب کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وادی اُردن دردناک حقیقت اور نامعلوم مستقبل سے دوچار ہے۔ فلسطینی کسان اسرائیلی ’’الحاق کے منصوبے‘‘کا ہدف ہے اور اس کا اصل مقصد زرعی پیداوار ، سبزیوں اور پھلوں سے فلسطینی کسانوں اور آبادی کو محروم کرنا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وادی اُردن کے عوام روزانہ کی جانے والی خلاف ورزیوں کے باوجود اپنے دیہات میں ثابت قدم ہیں، حالانکہ روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی انتقامی کارروائیوں سے فلسطینی کاشت کاروں کا نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
وادی اُردن کا علاقہ شمال میں بیسان سے صفد تک پھیلا ہوا ہے جب کہ جنوب میں اس کی سرحد عین جدی سے جزیرہ النقب تک پھیلی ہوئی ہے۔وادی اُردن کا مجموعی رقبہ 7 لاکھ 20 ہزار دونم ہے۔ یہ انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے جو فلسطینی زراعت اور کھیتی باڑی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی مٹی انتہائی زرخیز اور پیداواری ہے جو سال میں 2 اور 3 فصلیں بھی دیتی ہے۔وادی اُردن کا مرکزی شہر اریحا ہے جب کہ وادی کی کل فلسطینی آبادی 56 ہزار 908 ہے۔ وادی اُردن کی فلسطینی آبادی کل آبادی کا صرف 2 فی صد ہے۔ 2021ء کے آخر تک وادی اُردن میں فلسطینی آبادی 6 ہزار سے تجاوز کا امکان ہے۔