کشمیریوں پر مظالم کا انجام بھارت کی تباہی

90

ضیا الرحمٰن
بھارت نے کشمیریوں کو کیوں قید کر رکھا ہے؟ بھارت کشمیری نوجوانوں کو کیوں قتل کررہا ہے؟ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کے درپے کیوں ہے؟ بھارت کشمیریوں میں کیوں خوف و ہراس پھیلا رہا ہے؟ بھارت کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں موجود فوج میں کیوں اضافہ کررہا ہے؟ بھارت کشمیری خواتین، بچوں اور بزرگوں کو کیوں تشدد کا نشانہ بنارہا ہے؟ بھارت کو کس بات کا خوف ہے اور کس بات نے اسے کشمیریوں پر ہر طرح کا ظلم روا رکھنے پر آمادہ کر رکھا ہے؟ بھارت دنیا کو کشمیر تک رسائی کیوں نہیں دے رہا اور کشمیریوں کی چیخیں کیوں دبانا چاہ رہا ہے؟
ان تمام سوالات کا جواب چند روز قبل کشمیری مجاہدین کی طرف سے بھارتی فوج پر ہونے والے حملے میں مل ہی گیا، جس میں بھارتی افسر سمیت 5 دیگر فوجی مارے گئے۔ واقعے میں 4 مجاہدین بھی شہید ہوئے۔ اس حملے نے بھارت کی چیخیں نکال دیں۔ یہ دراصل اس ردعمل کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا جو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے جواب میں بھارت کو آیندہ بھی دیکھنا پڑے گا اور جس سے بھارت خوفزدہ ہوکر مزید غلطیاں کررہا ہے اور وہ کشمیریوں میں غم و غصہ کی آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے۔ اب وہ وقت دور نہیں جب بھارت کو کشمیریوں کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بات سے بھارتی حکومت بھی بخوبی واقف ہے، کیوں کہ انہوں نے کشمیریوں پر ظلم ہی اتنے کیے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ بھارتی حکومت نے اسی ردعمل سے بچنے کےلیے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کررکھا ہے۔ انہیں ایک دوسرے سے دُور کیا ہوا ہے تاکہ وہ منظم ہو کرجلسے جلوس نہ نکالیں اور بھارت کے لیے کوئی پریشانی نہ کھڑی کرسکیں۔
وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کشمیری نوجوان انٹرنیٹ وغیرہ کا استعمال بھی خوب جانتے ہیں، اگر انہیں ایک دوسرے سے دُور رکھا تو وہ انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع استعمال کرکے ایک دوسرے سے رابطہ کریں گے اور اس طرح وہ ایک بھرپور تحریک چلانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ان کے سامنے برہان وانی شہید اور ان کے ساتھیوں کی مثال موجود ہے، جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھارتی فوج کی نیندیں حرام کردی تھیں، جس کی پاداش میں بھارتی فوج نے انہیں شہید کردیا تھا۔ اس لیے بھارت نے نوجوانوں کو ایک دوسرے سے دُور رکھنے اور ایک دوسرے کے حالات سے بے خبر رکھنے کےلیے انٹرنیٹ اور فون سروسز وغیرہ بند کر رکھی ہیں۔
بھارت کشمیریوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بھارتی فوجی ہر روز مسلمانوں کے گھروں پر چھاپے مارتے ہیں اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی گھروں کو منہدم کردیا جاتا ہے اور کبھی نذر آتش۔ کبھی جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو شہید کردیا جاتا ہے تو کبھی خواتین کی عصمت دری کا سلسلہ شرع ہو جاتا ہے۔یہ سب مظالم کشمیریوں میں غصے کا ایسا لاوا بھر رہے ہیں جو عنقریب پھٹنے کو ہے۔ جس دن یہ لاوا پھٹے گا اس دن بھارت بربادی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہوگا۔ بھارتی فوجی کشمیر میں ٹھہر نہیں سکیں گے، اس لیے کہ فوج فوج کے ساتھ تو لڑ سکتی ہے لیکن عوام کے ساتھ نہیں۔ جب انسان دیکھتا ہے کہ اب اس کےلیے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تو پھر وہ اپنے دفاع کےلیے ایک بھرپور حملہ کرتا ہے کہ شاید اس طرح اس کی جان بچ جائے۔
مشہور کہاوت ہے: ’’کیا تو نہیں دیکھتا کہ جب بلی عاجز آجاتی ہے تو پنجوں سے چیتے کی آنکھیں نکال لیتی ہے‘‘۔
چیتا بہت طاقتور ہوتا ہے، بلی اس کے ایک پاؤں کے برابر بھی نہیں۔ اس کے مقابلے میں بلی ایک بہت ہی کمزور جانور ہے۔ جب چیتا اس پر حملہ کرتا ہے تو بلی پہلے تو جان بچانے کے لیے بھاگتی ہے لیکن جب وہ دیکھتی ہے کہ اب کوئی اور راہ نجات باقی نہیں رہی تو وہ آخری حربے کے طور پر اپنے پنجوں سے چیتے پر حملہ کرکے اس کی آنکھیں نکال دیتی ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت کو اقلیتوں کےلیے بدترین ملک قرار دیا ہے۔ اب پوری دنیا میں بھارت کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر میں لگائی گئی آگ پورے بھارت میں پھیل رہی ہے۔ پورا بھارت اس آگ میں جل رہا ہے۔ وہاں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں، بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ نہایت غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ سیکولر بھارت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ مودی بھارت کو ایسے اندھیروں میں دھکیل رہا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن ہوجائے گا۔