کورونا، تباہی سے زیادہ خوف

361

سالار سلیمان
قدرتی آفات کسی سے پوچھ کر حملہ آور نہیں ہوتیں، یہ آتی ہیں، تباہی مچاتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔ دنیا اس کا علاج تلاش کرتی ہے اور کسی حد تک خود کو اِس سے محفوظ کر لیتی ہے، اس کے بعد پھر اپنے معمولات میں مگن ہو جاتی ہے۔ پچھلی صدی میں بہت سی بیماریاں ایسی تھیں جن کا علاج نہیں تھا، یہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کو نگل گئی تھیں۔ سائنس نے ترقی کی، انسان نے اپنے جسم کو سمجھا اور نتیجتاً بہت سی بیماریوں پر قابو پا لیا۔ اس صدی میں بھی بہت سی بیماریاں حل طلب رہی ہیں لیکن اُن کی تباہ کاریاں مخصوص دورانیے یا آبادی تک محدود تھیں۔ آج کورونا وائرس نے دنیا میں تباہی سے زیادہ خوف پھیلا رکھا ہے، جس نے دنیا بھر کی معیشت کو برباد کر کے رکھ دیاہے۔ اسٹاک مارکیٹیں جس بری طرح سے کریش کر رہی ہیں، دیگر منڈیوں میں جیسی مندی ہے، ملک لاک ڈاؤن ہو رہے ہیں، یہ مناظر سب آنے والے وقت کی خوفناک تصویر دکھا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ بڑے ممالک نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں اور وہاں یا تو جزوی لاک ڈاؤن ہے یا پھر مکمل۔
کورونا درحقیقت 1918ء میں پھیلنے والے وائرس کا جدید ورژن ہے۔ اُس وقت یہ اٹلی سے یورپ پہنچا تھا اور اِس نے تب بھی تباہی مچا دی تھی ۔ دنیا بھر کے سائنس دان آج بھی اِس کا علاج دریافت کرنے میں مصروف ہیں، تاہم اس نئے وائرس نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ اگر کوئی خدا موجود ہے تو وہ اب تک کیوں سامنے نہیں آیا، کیوں خانہ کعبہ، ویٹی کن سٹی، دیوار گریہ سمیت تمام مذاہب کی عبادت گاہیں بند کر دی گئی ہیں؟ یہ بات درست ہے کہ دنیا کی تمام تر عبادت گاہیں بند ہیں، لیکن کیا خریداری مراکز، مارکیٹیں، بازار یا عوامی ہجوم کے دیگر مقامات آباد ہیں؟ اگر نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بیماری کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب تحقیق سے منع نہیں کرتا، بلکہ اسلام تو خود سوچ بچار اور تحقیق کا درس دیتا ہے۔ ان شااللہ جلد ہی اس مہلک وبا کا علاج بھی دریافت ہو جائے گا۔ تا دم تحریر اگر علاج سامنے نہیں آیا ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ابھی تک اللہ کا ’کن ‘ نہیں ہوا ہے، جب اس کی مرضی ہوگی، تب ہی ’فیکون‘ ہوگا۔ تب تک انسان پر لازم ہے کہ وہ اس کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کرے اور جن کا یہ کام ہے وہ کر بھی رہے ہیں۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ کراچی اور لاہور میں طب کے طلبہ بھی اس وقت کورونا پر تحقیق اور اس کے علاج کے لیے تجربات کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ تجربات دستیاب سہولیات و وسائل کے ساتھ ہی ہیں۔ اسی طرح چین، امریکا، جاپان سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی اس کے علاج کی دریافت میں لگے ہوئے ہیں۔ بس اللہ کے حکم کی دیر ہے اور علاج سامنے آ جائے گا۔
کورونا وائرس نے دنیا بھر کی معیشت کا بھرکس نکال کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ بھی مندی کا شکار ہے اور گزشتہ چند ہفتوں میں کریش بھی کر رہی ہے۔ دنیا بھر کے ہوائی اڈے، بندر گاہیں، ہوٹل، خریداری کے مراکز، ٹرینیں، میٹرو، سڑکیں وغیرہ سب ویران ہو چکی ہیں۔ لوگ گھروں میں بند ہو رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ پاکستان میں بھی 2 ہفتوں کا جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے۔ اس وبا نے سب سے پہلے تیل کی منڈی پر حملہ کیا تھا ۔ چین سب سے زیادہ تیل خریدتا تھا، لاک ڈاؤن کی وجہ سے چین بند ہوا اور وہاں تیل کی سپلائی معطل ہوگئی۔ دوسری جانب تیل کی پیداوار گھٹانا آسان کام نہیں۔ سعودیہ، روس اور امریکا تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔ روس اور سعودیہ کے اپنے اختلافات ہیں۔ اس صورتحال میں روس کا یہ خیال تھا کہ ہمیں تیل کی پیداوار میں کمی کے بجائے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کر دینی چاہیے تاکہ امریکا موقع سے فائدہ اٹھا کر مارکیٹ پر قبضہ نہ کر سکے۔ سعودیہ امریکی کیمپ کا حصہ ہے اور واشنگٹن سے آنے والی ہدایات کی وجہ سے اُس نے واشنگٹن کا ساتھ دیتے ہوئے روس کی تجویز ماننے سے انکار کر دیا۔ سعودیہ نے فیصلہ کیا کہ پیداوار میں کمی کے ساتھ ہم بغیر کسی فارمولا کے منڈی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں ردو بدل جاری رکھیں گے۔ اس کا ایک ہی مقصد تھا کہ امریکی مارکیٹ بھی برقرار ہے۔ یہاں سے کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے دوران تیل کی سرد جنگ شروع ہوئی اور آج تیل کی قیمت 25 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہے۔ اس وقت تو سعودی معیشت یہ جھٹکا برداشت کر لے گی، تاہم چند ماہ بعد اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا روسی معیشت یہ سب برداشت کر سکے گی؟ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو عالمی کساد بازاری اپنے عروج پر ہوگی، جس کا کسی حد تک آغاز ہو چکا ہے۔ درحقیقت دنیا بھر کی معیشت کسی نہ کسی طور پر چینی معیشت کے ساتھ جُڑ چکی ہے۔ اب چین کی برآمدات اور درآمدات عملی طور پر رُک چکی ہیں۔ چین نے مزید تیل کی خریداری سے انکار کر دیا ہے کیونکہ اُن کے پاس اس کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں۔ چین کی مجموعی داخلی پیداوار کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آج بھی چین میں تجارت دوبارہ شروع ہو جاتی ہے تو چین کو دوبارہ اپنے قدم جمانے میں 14 سے 18 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ پاکستان کی پیداوار اور موجودہ معاشی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ چین کی معیشت اگر سست روی کا شکار ہوتی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔ یعنی دنیا کی دوسری بڑی معیشت اگر دیوالیہ ہوتی ہے تو یہ دیگر ممالک کے لیے اچھا پیغام نہیں۔
اُدھر چینی حکام اور وزارت خارجہ کورونا وائرس کو پھیلانے کا الزام امریکا پر عائد کررہے ہیں، جس سے متعلق بیجنگ کے پاس کچھ دلائل بھی ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ ووہان میں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ ویٹ مارکیٹ یہاں دہائیوں سے کام کر رہی ہے اور ایسی کوئی بھی بیماری اس سے قبل سامنے نہیں آئی تھی۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ عسکری مشقوں کے ساتھ ہی یہاں پر کورونا وائرس نے سر اُٹھایا؟ چین کا کہنا ہے کہ ان مشقوں میں امریکا کے 300 فوجیوں نے بھی حصہ لیا تھا اور انہوں نے یہ وائرس یا تو فضا میں چھوڑا ہے اور یا ویٹ مارکیٹ کی چمگادڑوں میں داخل کیا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں یہ وائرس پھیلا۔ چین نے ایک اور خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ نومبرمیں جب کورونا اِتنا تباہ کن نہیں  ہوا تھا، تو امریکا میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جو اسی موضوع پر تھی۔ اس میں وائرس کے ممکنات، پھیلاؤ اور روک تھام پر گفتگو کی گئی تھی ۔ چین کہتا ہے کہ امریکا کو کیسے علم تھا کہ ایسا کوئی وائرس پھیلنے والا ہے؟ چین نے یہ بھی کہا کہ چین سے امریکا جانے والا ایک امریکی اہل کار سب سے پہلے کورونا سے مرا تھا۔ امریکا نے یہ موت چھپائی کیوں؟ کیا امریکی جانتے تھے؟ چین کے اس خدشے کی اہمیت اس بات سے مزیدبڑھتی ہے کہ انسانی جانیں تو جا ہی رہی ہیں لیکن دوسری جانب چین جو کہ امریکا کے لیے ہر محاذ پر خطرہ بنا ہوا تھا، وہ ایک دم سے دنیا سے بالکل کٹ گیا ہے۔ اس کی معیشت تباہی کے دہانے پر آکھڑی ہوئی ہے اور وہ چین جو امریکا کو معاشی ٹکر دینے کی پوزیشن میں تھا، وہ راتوں رات ہی بالکل دیوار سے لگایا جا چکا ہے۔ دوسری جانب امریکیوں نے ان سارے الزامات کو رد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ہمارے خفیہ ذرائع یہ بتاتے تھے کہ چین کی ویٹ مارکیٹ میں چمگادڑوں اور کتوں کے گوشت کی وجہ سے کوئی جان لیوا وائرس پیدا ہو سکتا ہےاور ہم نے چین کو پیشگی اس کی اطلاع بھی دے دی تھی لیکن چینی حکام نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین میں پہلی موت نومبر نہیں بلکہ ستمبرکے آخر میں ہوئی تھی اور چین نے اس کو چھپایا تھا۔ اگر کورونا وائرس ان کے قابو میں رہتا تو یہ دنیا کو اس کی خبر بھی نہ ہونے دیتے تاہم بدقسمتی سے یہ وائرس ان کی پہنچ سے باہر نکل گیا۔ غرض یہ کہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کئی ذرائع ابلاغ اور تحقیق کاروں کی رپورٹ میں اس بات کے مضبوط دلائل دیے گئے ہیں کہ کورونا وائرس کو باقاعدہ تخلیق کرکے پھیلایا گیا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی غور طلب ہے کہ اگر چین نے بھی اسی طرح کوئی جوابی بائیولاجیکل اٹیک (کسی جاندار کو ختم کرنے کے لیے جرثومے کا استعمال کرنا) کر دیا تو کیا دنیا اس کے لیے تیار ہے؟ بل گیٹس نے 2015ء ہی میں کہہ دیا تھا کہ دنیا کی جنگیں اب ہتھیاروں سے آگے بڑھ چکی ہیں۔ دنیامیں اگر کبھی لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے تو اس کی وجہ کوئی ہتھیار نہیں بلکہ ناقابل علاج کوئی وائرس ہوگا۔ ہم دفاعی بجٹ میں کھربوں ڈالر سرمایہ کاری کر رہے ہیں جب کہ بیماریوں سے دفاع کے لیے ہم بہت ہی کم سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
اچھی بات یہ ہے کہ گلوبل ولیج دنیا کو اب سمجھ آ رہی ہے کہ اگر کہیں کسی کا نقصان ہو رہا ہوتا ہے تو بغلیں بجانے کے بجائے اس کا حل ڈھونڈنا چاہیے کیوں کہ اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جاتےہیں۔ آج اگر بہتر وسائل کی دستیابی اور موزوں حالات میں بھی ایسی بیماریوں یا حیاتیاتی حملوں کا علاج و حل دریافت نہیں کیا گیا تو آنے والے وقت میں صورت حال مشکل یا ممکنہ طور پر ناقابل برداشت ہوتی چلی جائے گی۔ لہٰذا فی الوقت اس بات کی ضرورت ہے کہ دفاع کے ساتھ طبی اور حیاتیاتی تحقیق میں بھی غیر معمولی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی اور ابتدا کسی ایسے نظام سے کرنی پڑے گی کہ اگر مستقبل میں کوئی فطری یا انسانی ساختہ تباہ کاری سامنے آتی ہے تو اس کے خطرات کو کم سے کم کیا جائے تاکہ وہ ایسی شکل اختیار نہ کر جائے جو آج ہمیں کورونا وائرس کی صورت میں دیکھنی پڑ رہی ہے۔
جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو یہاں فی الوقت یہ وبا پھیل رہی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے تاحال مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر نئے کیس رپورٹ ہو رہے ہیں جب کہ مجموعی طور پر سامنے آنے والے کیسوں کی تعداد 7 سو سے تجاوز کر چکی ہے اور 4 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ پاکستان میں یہ مرض چین نہیں بلکہ ایران سے آیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ہمارے عوام اس موضوع پر بات تو خوب کررہے ہیں لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں غیر سنجیدہ نظر آ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہی غیر سنجیدہ رویہ اٹلی میں دیکھنے میں آیا تھا اور آج وہاں کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہو چکی ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 4 سے 6 سو اموات رپورٹ ہو رہی ہیں جبکہ اٹلی میں صحت کی سہولیات پاکستان سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔
پاکستان کی معیشت البتہ اس صورتحال سے مستقبل میں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات کر کے چھوٹ لینا بھی ممکن ہو چکا ہے۔ ٹیکس وصولیوں کے اہداف میں نظر ثانی کرنا بھی ممکن ہے اور اگر حکومت موجودہ صورتحال ٹھیک سے پڑھ لیتی ہے تو تیل کی گرتی ہوئی قیمتو ں کے ساتھ ہی شرح سود کم کرتے ہوئے معیشت میں جان پھونکی جا سکتی ہے۔
فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجی اجتماعات سے گریز کیا جائے اور بلا ضرورت گھر سے باہر بالکل بھی نہ نکلیں۔ تمام عوام حفظان صحت سے متعلق جاری کی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ عمومی زندگی میں صفائی ستھرائی کو اپنائیں، اس سے جہاں نصف ایمان کی تکمیل ہوگی، وہیں آپ کی جان کا تحفظ اور بیماریوں کا بچاؤ بھی ممکن ہے۔کورونا کا واحد علاج حد درجہ احتیاط ہی ہے، لہٰذا احتیاط کیجیے کہ یہ وقت بھی جلد گزر جائے گا۔ بس اللہ کے ’کن ‘ کا انتظار ہے ۔