’’ڈونلڈ ٹرمپ کسی طور منصب کا اہل نہیں‘‘

219

سمیع اللہ ملک

امریکامیں شائع ہونے والی کتاب ’اے وارننگ‘میں انکشاف کیاگیاہے کہ ایک سال قبل ٹرمپ انتظامیہ کے افسران نے اجتماعی طوپرمستعفی ہونے کافیصلہ کیاتھامگراس فیصلے پرعمل کرنے سے انہوں نے اس لیے گریزکیاکہ ایسی صورت میں ملک کو درپیش مسائل کی شدت میں بھی اضافہ ہوجاتا۔ مصنف نے یہ بتایاکہ ٹرمپ کسی بھی اعتبارسے اس منصب کے اہل نہیں۔ وہ انتہائی سفاک مزاج کے ہیں اورقوم کے لیے خطرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے مزاج کے بارے میں بتایاگیا کہ ان کے دورمیں یکے بعد دیگرےکئی بحران اِس طرح آئے ہیں جیسے کسی بچے کوائرٹریفک کنٹرول کے سوئچ بورڈپربٹھادیاجائے اوروہ سوچے سمجھے بغیربٹن دباکرطیاروں کواِدھرسے اُدھرروانہ کرتارہے اورکسی بھی طیارے کومنزل تک نہ پہنچنے دے۔
یہ ٹرمپ کے مزاج میں پائی جانے والی اخلاقی اقداراورذہنی قوت کے جائزے کے حوالے سے بہت اہم ہے۔مصنف کادعویٰ ہے کہ وائٹ ہاوس کے بہت سے موجودہ اورسابق مردوخواتین ملازمین نے بھی اس کتاب کوزیادہ وقیع بنانے کے لیے اپنے مشاہدات اورتجربات بیان کیے ہیں۔
259صفحات کی اس کتاب میں کسی بھی واقعے کومتعلقہ جزئیات کے سا تھ پیش کرنے سے گریزکیاگیاہے۔ یہ بات بہت عجیب لگتی ہے کہ ٹرمپ کے مواخذے کا عمل شروع کرنے کے لیے کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ کے بہت سے ملازمین کوگواہی کے لیے طلب کیا تھا اورگواہی دینے سے گریز بھی نہیں کیا گیا۔ ساری بحث اِسی نکتے پر مرکوز رہی کہ ایوان صدراورصدرکامنصب دونوں ہمارے ملک کی جھلک پیش کریں، کسی اورچیزکی نہیں۔
وائٹ ہاوس کی پریس سیکرٹری اسٹیفنی گریشم نے اپنی ای میل میں اس کتاب کوبے بنیادواقعات کاپلندااورمصنف کوبزدل قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نے اپنانام ظاہراس لیے نہیں کیاکہ پوری کتاب میں جھوٹ کے سواکچھ بھی نہیں۔ سچ لکھنے والے سامنے آکرحقائق کاسامنا کرتے ہیں تاکہ جوکچھ بھی وہ لکھیں اس میں سچائی دکھائی دے۔اس کتاب کے مصنف نے انتہائی بنیادی حصے ہی کوبیچ سے نکال دیاہے۔جوتجزیہ کاراورمصنفین اس کتاب پرقلم اٹھائیں ان میں اتنی پیشہ ورانہ دیانت توہونی ہی چاہیے کہ کھل کر بیان کریں کہ یہ کتاب جھوٹ، صرف جھوٹ ہے۔امریکی محکمہ انصاف نے پبلشر ’’ہیچیٹ بک گروپ‘‘ اورمصنف کے ایجنٹس جیولین کے میٹ لیٹمراورکیتھ اربان کو خبردارکیاتھاکہ ہوسکتاہے گمنام مصنف،نان ڈسکلوزرایگریمنٹ کی خلاف ورزی کررہاہو۔
5ستمبر2018ء کونیویارک ٹائمزمیں مصنف نے ’’میں ٹرمپ انتظامیہ کے اندرمزاحمت ہوں‘‘کے عنوان سے اپنے مضمون میں لکھا تھاکہ چندسینئرافسران ملک کوٹرمپ کی غیرذمے دارانہ سوچ اوربے عقلی پرمبنی اقدامات کے شدیدمنفی اثرات سے بچانے کی بھرپورکوشش کررہے ہیں۔ تب ٹرمپ نے اس مضمون کے مندرجات کوبغاوت سے تعبیرکیاتھا۔ مصنف نے نیویارک ٹائمزکے مضمون کے حوالے سے اپنی سوچ میں پائی جانے والی غلطی کااعتراف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں اندرونی سطح پرمزاحمت کے حوالے سے میرااندازہ بالکل غلط تھا۔ غیرمنتخب افسران اورکابینہ کے ارکان کسی بھی حالت میں ٹرمپ کودرست راہ پرگامزن کرنے کی تحریک دے سکتے تھے نہ ان میں ایساکرنے کی لگن ہی تھی۔ٹرمپ جوکچھ ہیں وہی ہیں، کچھ اورنہیں ہوسکتے۔
کتاب کے مندرجات کے مطابق بہت سے اعلیٰ افسران صبح اٹھتے تھے توانہیں شدید بدحواسی کاسامناہوتاتھا۔یہ بدحواسی ان احمقانہ اعلانات کے نتیجے میں پیداہوتی تھی،جوٹرمپ نے ٹوئٹرپرکیے ہوتے تھے!یہ منظرایساہوتاتھاجیسے آپ کسی نرسنگ ہوم میں اپنے بوڑھے انکل کی عیادت کوجائیں اوروہاں آپ دیکھیں کہ انکل کیفے ٹیریاکے کھانے کی شکایت کرنے کے نام پرغل غپاڑہ کررہے ہوں اورنرسنگ اٹینڈنٹس ان پرقابو پانے کی کوشش کررہے ہوں! یہ دیکھ کرآپ حیران ہوں گے، سوچتے ہی رہ جائیں گے اورگھبراہٹ کاشکاربھی ہوں گے، ہاں،ایک فرق ہے۔ کہ آپ کے انکل شایدیہ سب کچھ روزانہ نہ کریں،ان کے کہے ہوئے الفاظ پوری قوم بلکہ دنیاکوسنائی نہ دیں!
تاب کے مندرجات کے مطابق ٹرمپ کواپنے ساتھ کام کرنے والوں اوردوسرے بہت سے لوگوں کے بارے میں انتہائی اہانت آمیز اندازسے رائے دینے کاشوق ہے۔کوئی بھی عورت کیسی دکھائی دیتی ہے اورکس طرح کی کارکردگی کامظاہرہ کرتی ہے یہ سب کچھ بیان کرنے میں انہیں ذرابھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ وہ غیرمعمولی پروفیشنل ازم کی حامل خواتین کوسویٹی یاہنی کہنے میں ذرابھی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ خواتین کے میک اپ،لباس،جسمانی ساخت،وزن اورچلنے کے اندازکے بارے میں کچھ بھی کہناان کے لیے ذرابھی مشکل نہیں۔کسی بھی ادارے میں اورکسی بھی سطح پرباس کوزیب نہیں دیتاکہ خالص ورکنگ کنڈیشنز میں اس طرح کی زبان استعمال کرے۔ایک میٹنگ کے دوران انہوں نے میکسیکوسے سرحدعبورکرکے امریکامیں داخل ہونے والوں کی شکایت کرنے کے لیے ہسپانوی لہجے کی نقالی بھی کی۔ اس میٹنگ میں ٹرمپ نے کہامیکسیکوسے آنے والی عورتیں عام طور پر بہت سے بچوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔یہ ہمارے لیے کسی کام کی نہیں ہوتیں۔اگریہ اپنے شوہرکے ساتھ آئیں توپھربھی اتناتوممکن ہے کہ ہم انہیں بھٹے کے کھیتوں میں کام پرلگا دیں۔
مصنف کے مطابق ٹرمپ میں کسی بھی بڑے بحران سے ملک کونکالنے کی صلاحیت نہیں۔وہ انٹیلی جنس اورقومی سلامتی سے متعلق اجلاسوں کے ماحول کوبھی سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اس بات کوبھی درست نہیں مانتے کہ دنیابھرمیں یہ تاثرپایاجاتاہے کہ وہ اپنے اطراف خوشامدی لوگوں کودیکھناپسندکرتے ہیں۔وہ اپنے بارے میں پائے جانے والے اس مضبوط تاثرکوبھی غلط قرار دیتے ہیں کہ وہ بہت تیزی سے دوسروں کی باتوں میں آجاتے ہیں اوریہ کہ کوئی بھی ان کے کان بھرکررائے تبدیل کرسکتاہے۔
کتاب کے مندرجات کے مطابق2018ء میں واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشق جی کے قتل کے بعدٹرمپ نے اپنے مشیروں کوبلایا اورکہاکہ اس معاملے میں سعودی ولی عہدمحمدبن سلمان کے سامنے کھڑا ہونا حماقت ہی کہلائے گاکیونکہ بحران نے زور پکڑا تو عالمی منڈی میں خام تیل کا بھاؤ 150 ڈالر فی بیرل سے بھی بلند ہوجائے گا اور اگر ایسا ہوا تو عالمی معیشت کاحلیہ بگڑجائے گا۔اس کتاب میں چندایسے دعوے بھی کیے گئے ہیں جن کے حوالے سے ثبوت یاشواہدفراہم کرنے کی زحمت گوارانہیں کی گئی مثلاً یہ کہ ایک مرحلے پرپوری کابینہ اس بات کے لیے تیارتھی کہ آئین کے آرٹیکل25کاسہارالے کرصدرکوعہدے سے ہٹادے اوریہ کہ اس معاملے میں نائب صدرکی طرف سے بھی بھرپورمعاونت کی امیدتھی۔ نائب صدر مائیک پینس نے اس دعوے کوبے بنیادقراردیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ انتہائی بے بنیادہے کیونکہ نائب صدرکی حیثیت سے میں نے کبھی آئین کے آرٹیکل25کے بارے میں نہیں سنااورمیں بھلاکیوں صدرکوان کے منصب سے ہٹانے کے بارے میں کچھ سوچوں گایاکروں گا؟