شاہ محمود قریشی کی سعودی دفتر خارجہ آمد

97

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سعودی دارالحکومت ریاض میں سعودی دفتر خارجہ آمد کے موقع پر ان کے ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے پرتپاک خیرمقدم کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی صورت حال سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا کہ خطے میں موجود کشیدگی خصوصاً ایران امریکا تعلقات کے حوالےسے کشیدگی باعث تشویش ہے اور صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کو سفارتی سطح پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کو اعتدال پر لانے اور خطے کے امن و استحکام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاملات کو سفارتی ذرائع بروئے کار لا کرحل کیا جائے۔
شاہ محمود قریشی نے سعودی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان کی کوشش ہمیشح یہی رہی ہے کہ فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمیں تشویش ہے کہ اگر اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بروقت اقدام نہ کیے گئے تو یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے خطے کے دیگر وزرائے خارجہ سے ہونے والے روابط سے بھی سعودی ہم منصب کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ایران اور امریکا اپنے اپنے بیانات میں واضح کر چکے ہیں کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے تاکہ معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ پر امن انداز میں طے پا سکیں۔
وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب کو پاکستان کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں اضافے سے ’’افغان امن عمل‘‘ جو اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی بحرانی کیفیت پر قابو پانے اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی امن کے لیے کاوشوں کو سراہا۔