دوحہ: سفارت خانہ پاکستان کے تحت یوم دفاع کی تقریب‘ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

37

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سفارت خانہ پاکستان میں یوم دفاع پاکستان کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر تمام شرکا نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ دوحہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور مسعود گل نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم دفاع پاکستان ہماری ملکی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ 6 ستمبر 1965ء کو ہماری بہادر افواج نے دشمن کی جارحیت کو ناکام بنا کر وطن عزیز کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال اس تاریخی دن کے موقےع پر ہم اپنے شہدا اور غازیوں کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرتے ہیں اور اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ ہم بھی اپنے ہیروز کی ان روایات کو سربلند رکھتے ہوئے وطن کے دفاع کا فریضہ جاری رکھیں گے۔
ناظم الامور مسعود گل نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری مسلح افواج کی قربانیاں ملک میں امن و امان لانے میں کلیدی کردار رکھتی ہیں۔ اس سال یوم دفاع پاکستان خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ آج کا دن یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر بھی منایا جا رہا ہے ۔ بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کر دیا ہے جو کہ کشمیر کے عوام اور پاکستان کو کسی طور پر بھی قبول نہیں ۔ بھارت اپنی 8 لاکھ فوج کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے اور گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے مسلسل کرفیو کا نفاذ کیا ہوا ہے ۔ اس موقع پر پاکستان سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر کشمیریوں کے حقوق کی جنگ لڑتا رہے گا اور کبھی بھی اپنے کشمیری بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر تمام شہدا و غازیوں اور ان کے اہل خانہ و رشتے داروں کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں-
مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے قطر یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر ڈاکٹر فرحان چک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا پاکستان سے خاص رشتہ ہے۔ اس وقت کشمیری پاکستانیوں سے بہت خوش ہیں کیوں کہ پوری دنیا میں پاکستانی لاکھوں کی تعداد میں باہر نکلے ہیں اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہم ظلم نہیں سہیں گے، اب جب کشمیر کی بات کریں تو کہیں کہ کشمیریوں کی رائے اول ہوگی۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں سے رائے لی جائے تو وہ یقیناً پاکستان سے الحاق کا کہیں گے ۔گزشتہ عرصے میں جو کچھ ہوا، اس سے بھارتی ظلم پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ہے۔ ہمیں ہمت نہیں ہارنی، اپنا کام جاری رکھیں۔ کشمیر دل سے آپ سب کا شکرگزار ہے۔
تقریب کے اختتام پر پاکستان کا قومی ترانہ گایا گیا۔