مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی

101

بھارتی دہشت گردی ایک لاکھ جانوں کی قربانی دینے والے کشمیریوں کا جذبہ اور جدوجہد آزادی میں ذرہ برابر کمی نہ کر سکی

سمیع اللہ ملک

کشمیر کے مظلوم گزشتہ 7 دہائیوں سے بھارتی مظالم، جارحیت اور قبضے کے حوالے سے عالمی ضمیرکوجگانے کی کوشش کررہے ہیں، بالخصوص گزشتہ 2 عشروں سے آزادی کی تحریک میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر آزادی حاصل کرنے کاعزم پوری قوت سے جاری رکھا ہوا ہے۔ بھارتی ظلم وستم اورجبری تسلط کے خلاف مزاحمت کی شکل میں کچھ دیر کے لیے یہ تحریک مسلح جدوجہد کی صورت میں بھی جاری رہی لیکن اب تک بھارت نے کشمیرمیں ظلم وستم کاوہ بازار گرم کررکھاہے جس سے پوری مہذب دنیابھی آگاہ ہے لیکن تاحال کسی بھی عالمی ادارے کو بھارت کے اس بہیمانہ ظلم وستم کو روکنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدام اٹھانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اگر کسی انسانی ہمدردی کے ادارے نے کشمیرکے معاملے میں کسی دلچسپی کااظہاربھی کیا تودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کانعرہ لگانے والی بھارتی سرکارنے کشمیرتک رسائی دینے سے صاف انکارکردیالیکن اس کے باوجودکشمیرمیں ہونے والے ظلم وستم کی داستانیں اکثرعالمی ضمیرکو جھنجھوڑتی رہتی ہیں،تاہم ایک بات طے ہے کہ یہی غیر انسانی رویہ اور سلوک مسلمانوں کے سوا کسی اور کے ساتھ ہوتا تو عالمی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے نام نہاد علم برداروں کی نہ صرف نیندیں حرام ہو چکی ہوتیں بلکہ قوی امکان ہے کہ امریکا تو پوری طاقت کے ساتھ حملہ کرکے خطے کا امن تہ و بالا کر چکا ہوتا۔ کشمیریوں کا سب سے بڑا جرم صرف یہ قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور جدوجہد آزادی کے نتیجے میں پاکستان کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں۔
8 برس قبل بعض مشروط پابندیوں کے ساتھ بھارت نے یورپی یونین کے ایک وفدکوبھولے سے کشمیرجانے کی اجازت دیدی تواس وفدنے محدود وقت اور بے شمارپابندیوں کے باوجود جو 70 صفحات پرمشتمل ایک چشم کشارپورٹ مرتب کی، اس کاحاصل ایک جملہ یہ بھی تھا کہ’’کشمیر دنیاکی خوبصورت ترین جیل ہے‘‘۔ 18سے 24مئی2011ء کو ایمنسٹی انٹرنیشنل کے 4 رکنی وفدنے بکرم جیت بتراکی سربراہی میں وادی کے سیاسی، غیرسیاسی اور سول سوسائٹی کے کئی افراد سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ کئی دوسرے آزادذرائع سے معلومات حاصل کیں۔ اس رپورٹ کے باضابطہ اجرا کے لیے ایمنسٹی کے اس وفدنے دوبارہ سری نگرکا دورہ کیا اور اپنی پریس کانفرنس میں اس رپورٹ کوایک کتابی شکل میں کشمیری عوام اورذرائع ابلاغ کے نمایندوں کے سامنے پیش کیا ۔
حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے رہنماؤں سیدعلی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق کے علاوہ دیگر کشمیری رہنماؤں شبیراحمد شاہ، لبریشن فرنٹ کے ملک یاسین اور نعیم خان نے اس رپورٹ کازبردست خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی برادری کواس کانوٹس لینے کی اپیل بھی کی۔ رپورٹ کے حقائق کو اس وقت کے کشمیرکے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ بھی جھٹلا نے کی ہمت نہ کرسکے اورکچھ تحفظات کے ساتھ اس رپورٹ کی روشنی میں اصلاحی اقدام کرنے اوراس کو ردی کی ٹوکری میں نہ پھینکنے کاسیاسی وعدہ کیے بغیرنہ رہ سکے لیکن وہ وعدہ ہی کیاجووفاہوگیا کے مصداق اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی جبکہ اس رپورٹ کے بعد درجن سے زائد مزید رپورٹس بھی منظرعام پرآچکی ہیں۔
70 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کشمیریوں کے حالِ زار کا جو نوحہ بیان کیا گیا تھا، اس میں سرِفہرست پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے ظالمانہ قانون کوہدفِ تنقیدبنایاگیاتھاجس کوخود بھارتی سپریم کورٹ کالاقانون قراردے چکی ہے۔ اس رپورٹ میں بھارتی حکومت کے ساتھ عدلیہ کوبھی برابرکاقصورواراورشریک مجرم قرار دیا گیا۔ انہی ظالمانہ قوانین کی بناپرحکومت عدلیہ کے کسی بھی فیصلے اورکسی بھی حکم کونہ صرف نظراندازکردیتی ہے بلکہ بعض معاملات میں عدلیہ کے فیصلوں کی کھلم کھلا دھجیاں بھی اڑائی گئیں اورکئی مقدمات میں عدلیہ کوناکامی کاسامناکرناپڑا۔ زمینی حقائق تویہ ہیں کہ سیکورٹی وانٹیلی جنس ادارے اور پولیس خودکو قانون سے بالاترسمجھتے ہوئے نہ صرف عدلیہ کے فیصلوں کی کوئی پروا نہیں کرتے بلکہ اب توان کے جاری مظالم کوروکنے والاکوئی ایساآہنی ہاتھ موجودہی نہیں جوان کو کشمیری عوام پرغیرقانونی ظلم وستم روا رکھنے سے روک سکے۔
پبلک سیفٹی ایکٹ جو کہ بین الاقوامی قانون کی بھی صریحاًخلاف ورزی ہے اورخود بھارت کی اعلی عدالتیں بھی اسے کالا قانون قراردے چکی ہیں لیکن اس کے باوجوداس قانون کاپہلے سے کہیں زیادہ بے ہنگم استعمال ہورہا ہے۔ دنیا کا کوئی قانون معصوم بچوں پرظلم وستم روارکھنے کی اجازت نہیں دیتالیکن کشمیرمیں ہزاروں نابالغ بچے اس کالے قانون کے تحت نظربند ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی کئی رپورٹس میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس کی تصدیق کی ہے کہ اس کالے قانون کے نام پرلاقانونیت کابازارگرم ہے۔ پہلی رپورٹ میں صرف2003ء سے لے کر 2010ء تک کے اُن مقدمات کا جائزہ لیاگیاجواس کالے قانون کے تحت درج کیے گئے۔ اس تحقیق سے پتا چلا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے ظالمانہ قانون کے تحت انسانی حقوق کی زبردست پامالی کی گئی اوراس عرصے میں اس وحشیانہ قانون کے تحت 8 ہزار سے زائدلوگوں کوقیدکیا گیا جبکہ صرف جنوری 2010ء سے لے کر 31 دسمبر 2010ء کے آخرتک 322 افرادکوگرفتارکرکے بے پناہ اذیتوں سے دوچار کیا گیا۔ اس رپورٹ میں مزیدیہ انکشاف بھی کیاگیاکہ اس انسانیت سوزقانون کے تحت جن افرادکو گرفتار کیاگیا،انہیں نہ توفوری طورپرگرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیاگیااورنہ ہی ان کواپنی صفائی کے لیے کسی قانونی امدادکی سہولت فراہم کی گئی۔ ایک طرف تو عسکری ادارے نے اس بات کا اعتراف کیاکہ اب وادی میں کوئی جنگجوسرگرم نہیں اوردوسری طرف 10 لاکھ فوج کے علاوہ سیکورٹی اورانٹیلی ایجنسیوں اداروں کی بھرمارنے ہرکشمیری مرد و زن اوربچوں کودنیاکی اس خوبصورت جیل میں ہراساں کرنے کاکام جاری رکھا ہوا ہے۔ اس قانون کے تحت جہاں آزادی پسندقیادت کی پہلی اوردوسری صف کے رہنماؤں کوجیل میں رکھ کران کی آوازکودبانے کے لیے استعمال کیاجارہاہے وہیں مجبور و مقہور بوڑھے مرد و زن اوربچے بھی اس قانون کی زد سے محفوظ نہیں۔ اپنے بنیادی انسانی حقوق کامطالبہ کرنے والے مظاہرین کوبھی اسی ’’غیرقانونی‘‘ قانون کے تحت انتقام کانشانہ بنایاجارہا ہے ۔
رپورٹ میں دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کادم بھرنے والی بھارتی سرکارکے چہرے سے یہ نقاب بھی اٹھایاگیاکہ کشمیرمیں حکومتی ادارے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کوعدالت میں مجرم ثابت کرنے اورانہیں سزادلوانے کے بجائے ان بے گناہ افرادکوجیلوں میں بندرکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اوران مبینہ قوانین کے تحت متوازی ظالمانہ فوجداری نظام چلایاجارہاہے۔ رپورٹ میں اس ظالمانہ قانون،انتظامی حراست کوفوری منسوخ کرنے، نظربند افراد پرفوری باقاعدہ فردِجرم عائد کرنے، مجسٹریٹ کے سامنے فوری پیشی یقینی بنانے، اسیروں کے لیے قانونی مشورے، طبی معاینے کی سہولت اورعزیزواقارب کے ساتھ رابطے میں سہولت کی فراہمی کویقینی بنانے کامطالبہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کئی اور سفارشات کوبھی شامل کیاگیاجس میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اقوام متحدہ کے خصوصی اداروں کی رسائی کویقینی بنایاجائے اورانسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس برائے ایذارسانی اور ورکنگ گروپ برائے غیرقانونی گرفتاری کی سفارشات کابھی فوری جائزہ لیاجائے۔
دوسری طرف اب بھارت نے کشمیرمیں جہاں مزید 2 لاکھ فوج کااضافہ کردیاہے وہاں بھارتی فوجیوں کو کشمیری زبان سکھانے کاعمل محض اس لیے شروع کر دیاگیاکہ ڈوگرہ سرٹیفکیٹ کے تحت ان کوکشمیری شہریت دے کر وادی میں آبادی کا توازن تبدیل کرکے مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کردیاجائے تاکہ وادی کومستقل طورپرمذہبی بنیادپرتقسیم کردیاجائے اور مستقبل میں اس تقسیم سے فائدہ اٹھا کر کشمیر کو قانونی طورپربھارت کاحصہ قراردینے میں کوئی مشکل باقی نہ رہے لیکن سازشی عناصر کبھی اپنے اس پروگرام میں کامیاب نہ ہوسکیں گے۔ کیاوہ اس بات کوبھول گئے ہیں کہ ایک لاکھ جانوں کی قربانی کے بعد بھی کشمیریوں کے عزم میں ذرہ بھر کمی نہیں آئی۔ وہ بھلا اس سازش کوکیسے کامیاب ہونے دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کل جماعتی کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی اوردیگر رہنماؤں نے ایسے کسی بھی منصوبے کی بھرپورمزاحمت کااعلان کیاہے اوردنیابھرمیں بسنے والے کشمیریوں نے اظہارِ یکجہتی کے لیے اس غیرقانونی سازش کے خلاف سخت ردعمل کااعلان بھی کیاہے۔