گلی محلوں میں اسکول

160

ایک کثیر طبقہ آپ کے اخبار کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ میں اس موقر جریدے کے توسط سے ارباب اقتدار کی توجہ گلی محلوں میں کْھلنے والے اسکولوں کی طرف کروانا چاہتا ہوں۔ وزیر تعلیم اور اْن کے متعلقین کو چاہیے کہ اس وبا کا نوٹس لیں اور ضروری اقدام کے ذریعے ان علم و اقدار کا جنازہ نکالنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے جو میٹرک پاس ٹیچرز کو دو ہزار پر ملازمت دے کر ملک و قوم کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ متوسط طبقے کے ذہین بچے ان اداروں سے نہ اْردو سیکھ رہے ہیں نہ انگریری، اسلام کی ناقص معلومات دی جارہی ہیں اور سائنس اور ریاضی پر تو فاتحہ ہی پڑھی جاسکتی ہے۔
عمار یاسر، جامعہ کراچی
ٹیچرز سوسائٹی سے قبضہ ختم کرایا جائے
چیف جسٹس صاحب تجاوزات کا خاتمہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ضرور ہونا چاہیے، کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا میری دادی، نانی بتاتی تھیں کہ اس کی سڑکیں روز دھلا کرتی تھیں مگر اب شرمندگی ہوتی ہے سڑکوں پر گزرتے ہوئے اذیت وہ الگ…!! مگر صاحب گہیوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے، شہر پہلے کچرے کا ڈھیر تھا اب کھنڈر نظر آرہا ہے اس موہنجودڑو کو کون دوبارہ بسائے گا، غریب اور متوسط افراد کا چولہا کیسے چلے گا؟؟
جناب جب ہر طرف سے غیر ضروری اور تجاوزات کا خاتمہ ہورہا ہے تو آپ سے گزارش کرتی ہوں اسکیم 33 ٹیچرز کوآپریٹو سوسائٹی جو کوئٹہ ٹائون کے پاس ہے اس پر قبضہ مافیا سے نجات لدائی جائے تا کہ وہ کالج ٹیچرز یا ان کے لواحقین، بیوائیں جن کے پاس اس زمین کے مالکانہ حقوق ہیں وہ زمین ان کو مل جائے۔ اُمید کرتی ہوں کہ اس درخواست پر توجہ فرمائیں گے۔ اللہ مہربان ہم سب کا اور ملک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
شہناز جمیل، گلستان جوہر
کچرے کا ڈھیر۔۔۔۔۔۔۔ وبالِ جان
ہمارے دین نے ہمیں بتا دیا کہ صفائی ایمان کا حصہ ہے اور صفائی نہ ہو تو گندگی پھیلتی ہے، بیماریاں پھیلتی ہیں اور بھی بہت سے نقصان ہوتے ہیں،
اسی وجہ سے شہر کراچی جو روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے آج کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے اور یہاں پر جتنی بیماریاں ہیں وہ اسی گندگی کی وجہ سے پھیلتی ہیں۔ ہر گلی کے نکڑ پر کچرے کا ڈھیر نظر آتا ہے، کیا ہمارا کام صرف اپنے گھر کو صاف کرنا ہوتا ہے؟ دوسروں کو ایذا پہچانا ہوتا ہے؟ کیا ہمارا دین ہمیں گندگی کو پھیلانا سکھاتا ہے؟ نہیں!!۔ تو پھر ہم کیوں روشنیوں کے شہر میں گندگی کو پھیلارہے ہیں؟ کیوں ہم اسی جگہ کچرے کا ڈھیر لگادیتے ہیں جہاں لکھا ہوتا ہے ’’یہاں کچرا پھینکنا منع ہے‘‘۔ میری عوام سے گزراش ہے کہ خدارا اپنے شہر کو صاف کریں اور دوسروں کو تکلیف دینے کا باعث نہ بنیں۔
عائشہ شہزاد، جامعۃ المحصنات کراچی