ترکی کے قریب کشتی ڈوب گئی،12 مہاجر جاں بحق

72
انقرہ: تُرک ساحلی محافظ اور بحریہ کے اہل کار ڈوبنے والی کشتی کے مسافروں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں
انقرہ: تُرک ساحلی محافظ اور بحریہ کے اہل کار ڈوبنے والی کشتی کے مسافروں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کے مغربی ساحلی علاقے کے قریب تارکین وطن کی کشتی سمندر میں ڈوبنے کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے، جب کہ کشتی پر سوار دیگر 31 افراد کو بچا لیا گیا۔ ترک کوسٹ گارڈز کے مطابق حادثہ ساحلی شہر موغلاکی تحصیل بودرم کے کھلے سمندر میں پیش آیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے پر ساحلی سیکورٹی اور غوطہ خور ٹیموں کو جائے وقوع کی جانب روانہ کر دیا گیا، جنہوں نے کئی گھنٹے کی محنت کے بعد 8 مہاجرین کی لاشیں تلاش کرلیں، جب کہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ واضح رہے کہ یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن ترکی سے بذریعہ کشتی غیر قانونی طور پر یونانی جزائر تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری جانب یورپی یونین نے 50 ہزار تارکین وطن کو قانونی طور پر یورپ آنے کی اجازت دے دی۔ اس سے قبل یورپی یونین نے وعدہ کیا تھا کہ وہ یورپ کی طرف پناہ کے لیے غیر قانونی ہجرت کے رجحان کو روکنے کے لیے تارکین وطن کو محفوظ اور قانونی طریقے سے براہ راست یورپ آنے کا موقع فراہم کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ غیر یورپی تارکین وطن کو یورپ آنے کے لیے اسمگلروں کی مدد اور سمندری سفر جیسے پرخطر طریقے اختیار کرنے سے روکا جائے اور ان کی جانیں بچائی جائیں۔ یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس اکتوبر کے آخر تک بحیرہ روم کے ذریعے اٹلی، یونان اور اسپین پہنچنے والے ڈیڑھ لاکھ تارکین وطن میں سے 12 فیصد پناہ گزینوں کا تعلق افریقی ملک نائیجیریا سے تھا۔ یورپی یونین کے مہاجرین اور تارکین وطن سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر دیمتریس آوراموپولوس کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ یورپی یونین نے شمالی افریقا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے جن افراد کو قانونی طور پر یورپ لا کر مختلف ممالک میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا تھا، ان میں سے اب تک 32 ہزار 700 تارکین وطن یورپ پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے 4100 کو سیدھا جرمنی لایا گیا، جو یورپی یونین کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے۔