روس نے امریکا سے تعلقات کو ابتر ہوتے قرار دیدیا

107
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ٹی وی چینل میر کو انٹرویو دے رہے ہیں
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ٹی وی چینل میر کو انٹرویو دے رہے ہیں

ماسکو/ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ جمعرات کے روز ایک مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کی موجودہ حکومت نے حالیہ عرصے میں روس پر درجنوں نئی اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، جو تعلقات میں خرابی کی بڑی وجہ ہے۔ ساتھ ہی صدر پیوٹن کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعلقات میں خرابی کے موجودہ رجحان کے باوجود انہیں امید ہے کہ ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ کریملن کی جانب سے روسی صدر کے انٹرویو کا متن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ایک روز بعد جاری کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے پولینڈ میں مزید ایک ہزار امریکی فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکا کے اس اعلان پر روس کا سخت ردِ عمل متوقع ہے۔ روس اپنے پڑوسی ممالک اور سابق سوویت ریاستوں میں امریکا اور نیٹو کی فوجی موجودگی کا سخت مخالف رہا ہے، اور اسے اپنی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امید ظاہر کی ہے کہ روس کے ساتھ ترکی کے دفاعی معاہدے کی وجہ سے امریکا ترکی کو ایف 35 طیاروں کی فراہمی کا فیصلہ واپس نہیں لے گا۔ امریکی انتباہ کے باوجود ترکی روس سے دفاعی میزائل نظام ایس 400 خریدنے کے فیصلے پر قائم ہے۔ صدر اردوان نے کہا کہ یہ میزائل نظام آیندہ ماہ ترکی کو مل جائے گا۔ صدر اردوان نے اپنی سیاسی جماعت اے کے پارٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انقرہ پہلے ہی روسی میزائل دفاعی نظام خرید چکا ہے۔ خیال رہے کہ امریکا نے ترک پائلٹوں کی ایف 35 طیارے اڑانے کی تربیت کا سلسلہ روک دیا ہے۔