ماہ رمضان اور تربیت اولاد

58

 

عبدا لصبور ندوی

گھر بچوں کا پہلا مدرسہ ہوتا ہے، اگر گھر میں تربیت ٹھیک رہی تو بچہ سماج اور اسکول دونوں کی آنکھ کا تارا بن جائے گا، اگر گھر میں اسلامی تربیت کا فقدان ہے تو اس بچے کو نہ اسکول صحیح کر سکتا ہے اور نہ سماج۔
علامہ ابن قیمؒ کہتے ہیں:
’’کتنے بد بخت ہیں وہ والدین جو اپنے جگر گوشوں کے ساتھ دنیا وآخرت میں کھلواڑ کرتے ہیں، ان کی جائز وناجائز خواہش پوری کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کی ہمت افزائی کر رہے ہیں، حالانکہ یہ اس کی توہین ہے، والدین اس کے گناہوں پر پردہ ڈال کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شفقت کا معاملہ کررہے ہیں، حالانکہ اس پر ظلم ہورہا ہے اور اس صورت میں والدین بچوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ضائع کردیتے ہیں، دنیا اور آخرت میں اپنا حصہ کھو بیٹھتے ہیں اور وہ اخلاقی فساد کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کا اصل سبب والدین ہی ہیں‘‘۔
روزے دارو! اولاد کی پرورش کے دوران ہم سے بہت ساری غلطیاں ہوتی رہتی ہیں، جن سے پرہیز ضروری ہے۔ بچے کے رونے یا ضد کرنے پر جانوروں یا لوگوں کا نام لے کر ڈرانا جس سے بچے بزدل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح بچے کو چوٹ لگنے پر ماں کا بلکنا اسے ہمیشہ کے لیے خوفزدہ کردیتا ہے۔ بچوں کی ہر جائز وناجائز خواہش پوری کرنا، جس سے اس کی فطرت و شرافت تباہ ہوجاتی ہے۔ بچوں کی ہر چھوٹی بڑی غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ کرنا، یا معمولی غلطیوں پر ان کی پٹائی سے یا ان کے ضروری اخراجات نہ دینے سے بچے باہر نکلتے ہیں اور چوری نیز بروں کی صحبت اختیار کرکے اپنی زندگی خراب کرلیتے ہیں۔ بچوں کی عصری تعلیم پر خوب خرچ کرکے دینی تعلیم سے برگشتگی اختیار کرنا، یعنی ان کے لیے دینی تعلیم کا اہتمام نہ کرنے سے وہ اخلاقی و مذہبی حیثیت سے بے وقعت ہوکر رہ جاتے ہیں۔ اولاد کے درمیان تفریق سے کام لینا یعنی کسی چیز کو دینے میں برابر نہ بانٹنا، چاہے وہ محبت و شفقت ہو چاہے ہدیہ و تحفہ، اس سے آپس میں نفرت پھیلتی ہے۔ استطاعت کے باوجود بچوں اور بچیوں کی شادی وقت پر نہ کرنا، یہ خائن ہیں جو بچوں کے اندر بدبختی کا روگ پھیلاتے ہیں۔ غیر اسلامی نام رکھنا۔ بچوں پر بددعا کرنا، اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’بچوں پر بددعا نہ کرو اس لیے کہ والدین کی دعا یا بددعا بچوں کے حق میں جلد قبول ہوجاتی ہے‘‘۔ (مسلم) بچوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا، جس سے ان کی عزت نفس اور شجاعت متاثر ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان غلطیوں سے محفوظ رکھے اور اسلامی طریقے پر بچوں کی تربیت کی توفیق دے۔ آمین
مذہب اسلام نے بچوں کی تربیت سے متعلق رہنما اصول مرتب کیے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکر ہم سماج کو ایک شائستہ، غیور اور مہذب نسل دے سکتے ہیں اور جس کی آج اشد ضرورت ہے۔ آئیے ملاحظہ کریں کہ کن راستوں پر چل کر یہ نتیجہ حاصل کرسکتے ہیں۔
نیک بیوی کا انتخاب: بیوی، بچوں کی ماں ہوتی ہے اور ان پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے، شادی کے لیے بااخلاق اور دیندار خاتون کا انتخاب ہونا چاہیے۔
ابوالاسود الدولی اپنے بچوں سے مخاطب ہوتے ہیں: بیٹو! میں نے تم پر بچپن، جوانی اور پیدا ہونے سے پہلے بھی احسان کیا ہے۔ بیٹوں نے پوچھا: آپ نے ہماری پیدائش سے قبل کیا احسان کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے تمہارے لیے ایسی ماں کا انتخاب کیا جودیندار اور شریف تھیں‘‘۔
امام سفیان ثوریؒ کی ماں اپنے بیٹے سے کہتی تھیں: ’’بیٹا توصرف علم حاصل کر، تیرے اخراجات کے لیے میرا چرخا چلانا کافی ہے‘‘۔ یتیمی کی حالت میں سفیان ثوری پلے بڑھے اور وہ بھی اپنی ماں کی محنت سے، آگے چل کر آپ نے ایک عظیم امام اور محدث کی حیثیت سے شہرت پائی۔