آئی ایم ایف پیکج ماضی سے مختلف نہیں، بوجھ عوام پر ہی پڑیگا، ذوالقرنین عباسی

35

اسلام آباد (نامہ نگار) فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے مرکزی رہنما ذوالقرنین عباسی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف پیکج لے رہی ہییہ پیکج 3 سال کیلیے ہوگا اور یہ پیکج ماضی میں ہونے والے معاہدوں سے کسی بھی صورت مختلف نہیں ہوگا اس سے عوام پر بوجھ پڑے گا۔ دریں اثنا فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے مرکزی رہنما اسرار الحق مشوانی نے کہا ہے کہ او پن فائیلیں فروخت کرنے والی ہائوسنگ سوسائٹیاں ملک میں قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہی ہیں اس کی تمام سرگرمیاں قومی خزانے میں رقم جانے نہیں دیتیں۔ بدھ کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بعد 2 برس میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ کئی شعبوں میں دی جانے والی سبسڈی ختم کر دی جائے گی، سبسڈی کے خاتمے سے بھی عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نئے بجٹ میں اربوں روپے کے نئے ٹیکس بھی لگائے جائیں گے۔ آئی ایم ایف پیکج کے بعد ایف بی آر کا ریونیو ٹارگٹ بھی 5 ہزار ارب سے زائد مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ اس پیکج کے بعد عوام پر شدید بوجھ آنا ہے یقینی طور زندگی مشکل ہوگی۔علاوہ ازیں فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے مرکزی رہنما اسرار الحق مشوانی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کو ایسی تمام سرگرمیوں کا نوٹس لینا چاہیے جس سے پیسہ قومی خزانے میں نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی دہرائی جاتی ہے اربوں روپے کی سبسڈی کمزور معیشت کیلیے ایک بہت بڑا بوجھ ہے لیکن اوپن فائلوں کے کاروبار کو روکنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نہ دینے میں جہاں عوام شامل ہیں وہیں پر ان ٹیکسز کی وصولی سے متعلق محکموں کے ملازمین بھی کسی سے کم نہیں جو کہ خود ٹیکس چوری کرنے کے طریقے بتاتے ہیں۔ عوام بھی خریداری کرنے کے بعد کم و بیش ہی اصل والا کیش میمو طلب کرتے ہیں جو کہ ٹیکس چوری کا ایک عام طریقہ ہے۔ بڑے بڑے اعلیٰ عہدوں پر فائز حضرات ٹیکس دینے سے اجتناب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث سہولتوں کا فقدان اسی لیے ہے کہ مقامی انتظامیہ کی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس ساری صورت حال میں ہر کسی کو اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا اور اپنے حصے کا ٹیکس دیے بغیر گزارا نہیں۔