ایمنسٹی اسکیم :اظہار کنددہ کی معلومات کو رازداری میں رکھا جائے،جنید اسماعیل ماکڈا

49

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے وزیر اعظم عمران خان کو کراچی چیمبر کی جانب سے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروانے کے حوالے سے دی گئی تجویز کو ماننے پر سراہتے ہوئے طویل عرصے سے منتظر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا خیرمقدم کیا ہے ۔انہوں نے زور دیا کہ اس اسکیم کو واقعی کامیاب بنانے کے لیے حکومت کو ظاہر کی گئی معلومات کو ہر صورت میں خفیہ اور رازداری میں رکھنے کو یقینی بنانا ہوگا بصورت دیگر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ جنید ماکڈا نے کہاکہ اس ایمنسٹی اسکیم کا اختتام پچھلی ایمنسٹی اسکیم کی طرح نہیں ہونا چاہیے جس میں اثاثے ظاہرکر نے والوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے کے برخلاف مختلف سرکاری ایجنسیوں بشمول ایف آئی اے اورنیب کو دی گئیں۔انہوں نے اس اسکیم کوسہل اور قابل فہم بنانے کی حکومتی یقین دہانی کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اسکیم کو اس طریقے سے وضع کیا جائے جس میں کم سے کم سوالات پوچھیں جائیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ لوگ اپنی آمدنی کا ذریعہ اور دیگر سوالات کے جوابات دینے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ وہ آنے والے وقت میں کہیں کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔تاجربرادری دستاویزی معیشت کا حصہ خوشی سے بننا چاہے گی لیکن حکومت کو انہیں ایجنسیوں و اداروں کی جانب سے ہراساں کئے جانے سے بچانے کے لئے تحفظ فراہم کرنا ہو گا ۔انہوںنے کہاکہ اگرچہ حکومت نے 30جون 2019 تک اس ا سکیم کا حصہ بننے کا موقع فراہم کیا ہے لیکن اس اسکیم کو طویل میعاد تک جاری رکھا جائے۔سابقہ ایمنسٹی اسکیم کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے جس میں لوگوں کو نوٹسز کے ذریعے ہراساں کیا گیا یہ عین ممکن ہے کہ کئی افراد اس سکیم کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے سے گریز کریں لہٰذا حکومت اس اسکیم کا دورانیہ بڑھا ئے اور اسی دوران اپنی پالیسیوں پر لوگوںکا اعتماد بحال کرنے کے اقدامات عمل میں لائے۔ اس سال کی ایمنسٹی اسکیم سے مستفید ہونے والے افراد کی کامیاب داستانوں کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ دیگر لوگ بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے آگے آئیں گے لہذا اس اسکیم کو زیادہ مدت تک جاری رکھنا چاہئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اسکیم کے ذریعے حکومت کو غیر دستاویزی افراد،اثاثے اور آمدنی کو دستاویزی شکل میں لانے میں مدد ملے گی۔ یہ اسکیم ملکی معیشت کو بڑے اقتصادی و مالی استحکام میں لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔