(کل ہند جنوبی‘ مشرقی اجتماعات اراکین (۱۹۴۷ء) باب ششم )

145

محمود عالم صدیقی

دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی ملک کے لوگوں نے اشتراکیت کو اختیار کیا ہے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ظالمانہ سرمایہ داری نظام اور اشراکیت کے درمیان ان کے سامنے کوئی تیسرا راستہ نہیں تھا۔ اس تیسرے راستے کا نام اسلام ہے اور مسلمان یہ تیسرا راستہ پیش کرسکتے ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان میں اشتراکیت کے مقابلے میں اسلام کے لیے کامیابی کے کم سے کم ساٹھ فی صد امکانات ہیں۔ یہ مسلمانوں کی انتہائی بدقسمتی اور سخت نالائقی ہوگی کہ ان کے پاس اسلام جیسا ایک کامل اور صحیح نظام موجود ہو اور وہ اسے لے کر اٹھنے کے بجائے پورا میدان اشتراکیت کے لیے خالی چھوڑ دیں۔
اسلامی انقلاب کا راستہ
۱۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو قومی کشمکش اب تک برپا ہے اور اس کا خاتمہ کردیا جائے۔ اب یہ انتہائی ضروری ہے کہ مسلمان اپنے طرز عمل کو بالکل بدل دیں۔ انتخابات کی دوڑ دھوپ‘ ملازمتوں کی کشمکش اسمبلیوں میں نمائندگی کے تناسب کا سوال‘ اور دیگر قومی حقوق اور مطالبات کی چیخ وپکار سے دستبردار ہوجائیں۔ اب جن لوگوں کے ہاتھ میں ہندوستان کی حکومت آرہی ہے وہ مخلوط انتخابات اور ملازمتوں میں اکثریت کے بل بوتے پر صرف قابلیت کے لحاظ کا اصول مقرر کرکے مسلمانوں کی جداگانہ سیاسی ہستی کو ختم کردینے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور ان کے فیصلے کو نافذ ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔ ان حقوق کے حصول کے لیے مسلمان جتنی کوشش کریں گے وہ ہندوؤں کے قومی تعصب کو اور زیادہ مشتعل کردے گا۔ اپنی شکایات کے ازالے کے لیے وہ اگر پاکستان کی مدد حاصل کرنا چاہیں گے تو نہ صرف یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان کشمکش اور بین الاقوامی پیچیدگی کا سبب بن جائے گا بلکہ ہندو قوم پرستی کی زندگی مزید طاقتور ہوجائے گی۔ وہ بحیثیت قوم متحد ہوکر حکومت اور اس کے نظام سے بے رخی اختیار کرلیں اور ہندو قوم پرستی کو اپنے طرز عمل سے یہ یقین دلادیں کہ میدان میں کوئی دوسری قومیت ان کے ساتھ کشمکش کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔ یہی ایک طریقہ ہے اس غیر معمولی تعصب کو ختم کردینے کا جو اس وقت غیر مسلم اکثریت میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پیدا ہوگیا ہے۔ اور اسی طریقے سے ان کا یہ اندیشہ بھی دور کیا جاسکتا ہے کہ اگر اسلام کو مزید اشاعت کا موقع دیا گیا تو کہیں پھر کسی علاقے کے مسلمان ایک اور پاکستان مانگنے کے لیے کھڑے نہ ہوجائیں۔
دوسرا اہم کام یہ ہے کہ ہم مسلمانوں میں وسیع پیمانے پر اسلام کی آگہی پھیلائیں ان میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا عام جذبہ پیدا کردیں اور ان کی اخلاقی‘ تمدنی اور معاشرتی زندگی کی اس حد تک اصلاح کردیں کہ ان کے ہمسایہ غیر مسلموں کو خود اپنی سوسائٹی کے مقابلے میں مسلمانوں کی سوسائٹی صریحاً بہتر محسوس ہونے لگے۔ اور جو لوگ بھی اس سوسائٹی میں شامل ہونا چاہیں‘ خواہ وہ کسی طبقے کے ہوں ان کو بالکل مساویانہ حیثیت سے اپنے اندر سمولیا جائے۔ یہ کام برسوں کی انتھک اور لگاتار محنت چاہتا ہے۔ جب تک ہم مسلم سوسائٹی کے ایک بڑے حصے کو ہر لحاظ سے اسلام کا صحیح نمائندہ نہ بنالیں یہ امید فضول ہے کہ ہندوستان کی غیر مسلم آبادی کی رائے عامہ کو اسلام کے حق میں ہموار کیا جاسکے گا۔ غیر مسلموں کے سامنے آپ تحریری یا تقریری طور پر اسلام کو کتنے ہی دل پزیر انداز میں پیش کریں۔ وہ بہرحال ان کو اپیل نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ اسلام کے پیروکاروں کا جو تجربہ انہیں دن رات ہورہا ہے وہ آپ کے بیان و تحریر کی تصدیق نہیں کرے گا۔ کیوں کہ ہندوستانی مسلمانوں میں اسلام میں آجانے کے باوجود ابھی تک قدیم ہندوانہ جاہلیت کے موروثی تعصبات‘ اونچ نیچ کے امتیازات‘ اور ذات برادری کے تفرقے جوں کے توں محفوظ ہیں۔ اس بنا پر ایک نو مسلم کے لیے جو مسلمانوں کے بجائے اسلام کے اصولوں کو دیکھ کر اسے قبول کرتا ہے نہ صرف موجودہ مسلم سوسائٹی میں کھپنا مشکل ہوگا بلکہ اسے ان ہی معاشرتی خرابیوں کا یہاں بھی سامنا ہوگا جنہیں چھوڑ کر وہ ہندو سوسائٹی سے نکلا تھا۔ برعظیم میں مسلمانوں کی تعداد پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اس تعداد کا اگر بیسواں حصہ بھی اسلام کو سمجھ کر اس کی تبلیغ شروع کردے۔ تو کوئی دوسری تحریک ایسی موجود نہیں جس کے پاس اتنے مبلغ (تقریباً پچیس لاکھ) ہوں۔ پھر مسلمان ہندوستان کی آبادی میں کھچڑی کی طرح غیر مسلموں کے ساتھ ملے جلے رہتے ہیں اور دن رات زندگی کے ہر شعبے میں ان کو ہر جگہ غیر مسلموں سے سابقہ پیش آتا ہے اور ان تک اپنے خیالات پہنچانے اور اپنے اچھے برتاؤ کا اثر ڈالنے کے مواقع میسر ہیں۔ کسی دوسری تحریک کو ہندوستان میں یہ مواقع حاصل نہیں اور نہ ہی ا ن کی اپنی کوئی مستقل سوسائٹی اور تمدنی نظام ہے جیسا کہ مسلمانوں کے پاس ہے جو معاشرتی زندگی میں پست لوگوں کی پناہ گاہ بن جائے گی۔
تیسرا کام جو بہت ضروری ہے وہ یہ کہ ہم اپنی ذہنی طاقت کا زیادہ سے زیادہ حصہ اس دعوت کے لیے باقاعدگی سے فراہم کریں۔ ہندوستانی مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ اپنے ان مقاصد میں ناکام ہوچکا ہے جن پر اس نے اب تک نظریں جمارکھی تھیں اس ناکامی کے شعور نے اس پر یاس طاری کردی ہے۔ اس موقع پر اگر ان کے سامنے ایک روشن نصب العین امیدوں اور بشارتوں کے ساتھ آئے تو وہ ان کے ایک بڑے حصے کو اپنی طرف راغب کرے گا۔ جیسے جیسے ہمیں یہ طاقت حاصل ہوتی جائے گی اسے نتیجہ خیز کاموں پر لگایا جاتا رہے گا اور اسلامی انقلاب اور قریب آجائے گا مثلاً مسلمانوں کی اخبار نویسی موجودہ رجحانات اور معیار کو بالکل بدل دینا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ بہتر قسم کے منصف مزاج اہل قلم اب انگریزی اردو اور دوسری زبانوں میں اخبارات جاری کریں اور یہ لو گ حقوق کی چیخ و پکار‘ ملازمتوں کے تناسب پر شوروغل‘ ہندوگردی پر واویلا مچانے کے لیے رائج الوقت نظام پر اصولی تنقید کریں اس کی خامیوں کو اجاگر کریں اور اس سے بہتر نظام زندگی پیش کرکے رائے عامہ کو اس کے حق میں ہموار کریں۔ اسی طرح ہمارے نوجوان ادیب اور شعراء ارباب نشاط کا پیشہ چھوڑ کر اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو ایک اعلیٰ درجہ کا تعمیری ادب پیدا کرنے میں صرف کریں جو انسانیت کا شعور بیدار کرے۔ پھر جن لوگوں کو خدا نے زیادہ بلند درجہ کی دماغی صلاحیتیں دی ہیں وہ دنیا کی ذہنی امامت اور رہنمائی کرسکتے ہیں۔ وہ علم کے ہر گوشے اور مسائل حیات کے ہر پہلو کا جائزہ لے کر تحقیق و کاوش کے ساتھ اسلامی نظام حیات کی پوری تصویر دنیا کے سامنے پیش کردیں۔ ان کے علاوہ اس اہل دماغ طبقے سے لیڈر شپ کی صلاحیتوں کے حامل افراد بھی نکل سکتے ہیں جو اسلامی دعوت کو عمومی تحریک بنانے میں بہترین رہنمائی کرسکتے ہیں۔
(جاری ہے)