قبائل کو 100 ارب کا پیکج،این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دیا جائے ،سراج الحق

108
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق مدرسہ دارالعلوم تیمر گرہ میں ختم بخاری کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق مدرسہ دارالعلوم تیمر گرہ میں ختم بخاری کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

باجوڑ/دیر (نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ این ایف سی ایوارڈ سے قبائل کو 3 فیصد حصہ دینے کی منظوری دی گئی تھی اور بنیادی انفرااسٹرکچر کی مرمت اور تعمیر کے لیے مزید 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر ان وعدوں پر بھی عمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے قبائلی عوام میں سخت مایوسی اور محرومی پائی جاتی ہے ۔قبائلی عوام پاکستان کے محسن ہیں جنہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے بنیادی کردار ادا کیا تھا ۔ فوج کے شانہ بشانہ جنگ لڑ تے ہوئے انہوں نے کشمیر کا تیسرا حصہ آزاد کرالیا تھا ، آج آزا د کشمیر کی صورت میں ہمیں جو علاقہ نظر آتاہے ، یہ قبائلی عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں ہمیں ملا تھا ۔ قبائلی عوام آج بھی پاکستان کے لیے خون بہا رہے ہیں لیکن حکومت نے قبائل کے ساتھ کیے گئے وعدے آج تک پورے نہیں کیے ۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ لاہور سے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے عنایت کلے باجوڑ میں قبائلی مشران اور عوام کے اجتماع ، تیمرگرہ میں تقریب ختم بخاری شریف سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مشر سراج الدین بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت قبائلی عوام سے حکومت نے جو وعدے کیے تھے ، ان میں سے کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا ۔قبائل میں بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہے ۔ سڑکیں اور بازار جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔ اسپتال اور تعلیمی اداروں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں ۔ علاقے میں غربت ، بے روزگاری اور ناخواندگی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ لوگ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قبائلی علاقوں میں بچوں اور بچیوں کے لیے تعلیمی اداروں ، خاص طور پر بچیوں کے لیے کالجز کی ضرورت ہے ۔ باجوڑ سمیت 7 قبائلی ایجنسیوں میں سیکڑوں کلو میٹر تک بچیوں کے لیے میڈیکل کالج ہے نہ یونیورسٹی جس کی وجہ سے ان علاقوں سے بچیوں کو تعلیم کے لیے پشاور آنا پڑتاہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کالجز اور ایک یونیورسٹی بنائی جائے ۔ نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے علاقے میں انڈسٹری اور صنعتیں قائم کی جائیں تاکہ غربت اور بے روزگاری کو کم کیا جاسکے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سی پیک جیسے علاقائی ترقی کے منصوبے پر قبائل کا بھی حق ہے تاکہ پسماندہ علاقوں کو شہروں کے برابر لایا جاسکے اور ان علاقوں کے عوام کو بھی زندگی کی بنیادی سہولتیں مل سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر قبائل کے ساتھ اسی طرح سوتیلی ماں جیسا سلوک ہوتارہا تو ان کے اندر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف نفرت بڑھے گی ۔ وفاق کا فرض ہے کہ قبائلی عوام کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی اور فوری اقدامات اٹھائے ۔