ہزاروں خواہشیں ایسی!!

253

 

شبیر ابن عادل

اب تو معاشرے میں رجحان یہ ہے کہ نوجوان ملازمت حاصل کرنے سے قبل ہی پُرتعیش یا لگژری زندگی گزارنے کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ کار، بنگلہ اور اعلیٰ معیارِ زندگی، بے حساب پیسہ۔۔۔!! جس میں بنیادی اہمیت پیزا، برگر اور اسی قسم کی چیزیں ہوتی ہیں اور ان کے آن لائن آرڈر ہوتے ہیں۔ اِن کے علاوہ نوجوانوں کی جنسِ مخالف سے آزادانہ میل جول اور اس کے وسیع راستے، اپنا زیادہ تر وقت موبائل پر نازیبا سائٹس پر ویڈیوز دیکھنے میں گزارنا اور دیگر آرزوئیں اور خواہشیں۔ جو ختم ہی نہیں ہوتیں، اور بقول مرزا غالبؔ ؂
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے
لیکن ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت اپنی ان خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے بنیادی کام ہی نہیں کرتی اور نہ ہی اس کی امنگ ہے۔ یعنی اعلیٰ تعلیم کا حصول اور بہترین ملازمت یا کاروبار کے لیے عملی اقدامات۔ اُن میں سے اکثر کسی معجزے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ یعنی یا تو اگر باپ امیر ہے تو اس کی دولت، ورنہ کسی امیر لڑکی کے خواب، جس سے شادی کرکے دولت مل جائے یا پرائز بانڈ یا کوئی لاٹری نکل آئے۔ زندگی میں اس کمال کے ہونے تک ان کے مشغلے جاری رہتے ہیں اور عملی زندگی میں قدم رکھنے تک نوجوان اپنے اخراجات اتنے بڑھا لیتے ہیں کہ انہیں پچیس تیس ہزار روپے کی نوکری بے وقعت لگتی ہے اور اگر وہ ایسی نوکری کر بھی لیں تو اپنی شامیں فضول سے ریستورانوں میں گزار کر اور مضر صحت کھانے یا junk foods کے اخراجات میں مہینے کے ابتدائی دو ہفتوں ہی میں اپنی تنخواہیں اُڑا دیتے ہیں۔
میرے ذہن میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہی زندگی ہے؟ کبھی نوجوانوں پر غصہ بھی آتا ہے۔ مگر اس میں ان کا کیا قصور ہے؟ ان کے والدین نے ان کی تربیت پر توجہ ہی نہیں دی، کیوں کہ وہ بھی تربیت سے نا آشنا ہیں۔ اور نہ ہی اساتذہ یا کسی بھی ریاستی ادارے نے اپنے نوجوانوں کی تربیت اور انہیں زندگی کے اصل مقاصد سے آگاہ کیا اور اس حوالے سے کبھی کوئی پلاننگ کی ہی نہیں گئی۔ تعلیمی اداروں میں تعلیم پر تو تھوڑی بہت توجہ دے دی جاتی ہے۔ مگر تربیت کے لفظ سے وہ نا آشنا ہیں یا دانستہ طور پر اس حوالے سے کچھ کرتے ہی نہیں۔ میڈیا کی طرف نگاہ ڈالیں تو تربیت تو بہت دور کی بات ہے، وہ نوجوانوں کو رقص و موسیقی اور عریانی اور فحاشی کے طوفان میں غرق کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ میں چالیس سال میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرونک دونوں) میں گزارنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میڈیا خاص طور پر ٹیلی ویژن ہمارے معاشرے کے لیے زہر سے زیادہ خوفناک ہے۔ جبکہ موبائل فون تو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے معاشرے کے ہر فرد کو سوچنا چاہیے اور صرف سوچنا ہی نہیں بلکہ فکرمندی، دردمندی اور پوری تڑپ کے ساتھ اس حوالے سے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
نوجوانوں کی صحیح سمت میں رہنمائی، معاشرے کے ایک مفید، ذمے دار اور دوسروں کے کام آنے والے شہری کے طور پر ان کی تربیت اور اس حوالے سے دیگر عملی اقدامات میں بنیادی کام تو ریاست کا ہے۔ لیکن اگر ریاست خوابِ غفلت میں پڑی ہو تو ہمیں انتظار کرنا چاہیے کہ ریاست اور اس کے ادارے جب نیند سے جاگیں گے، تب ہی کچھ ہوسکے گا؟ نہیں، ریاست کے جاگنے اور ہوش میں آنے کا انتظار معاشرے کو مزید تباہی اور بربادی کی طر ف دھکیل دے گا۔ اس کے لیے ہر سطح پر مختلف نجی اداروں، جماعتوں اور تنظیموں اور لوگوں کو انفرادی طور پر اس سنگین مسئلے کا ادارک کرنا ہوگا اور اس کے تدارک کے لیے پوری دردمندی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ اس سوچ کے ساتھ کہ گویا کسی کی لانچ سمندر میں ڈوب رہی ہو اور وہ اسے بچانے کی دیوانہ وار کوشش کررہا ہو۔ کیوں کہ سمندر میں لانچ ڈوبنے کا نتیجہ موت ہوتا ہے۔
اول تو اس امر کا ادراک کہ زندگی کیا ہے؟ کس نے ہمیں زندگی دی؟ اور ہمیں اس دنیا میں کیوں بھیجا گیا؟ اس کا جواب کوئی سائنس دان، فلسفی یا دنیا کے ترقی یافتہ ملک کے نامور دانشور نہیں دے سکتے۔ بلکہ اس کا جوا ب اسی ذات سے مل سکتا ہے، جس نے نہ صرف انسان بلکہ پوری کائنات کو پیدا کیا۔ یعنی ذاتِ باری تعالیٰ اور اُس کے رسولؐ۔ ہمیں قرآن وسنت کے بنیادی ماخذ سے ان سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہوں گے۔ نفسانی خواہشات کو پورا کرنا تو زندگی نہیں۔ ایسی زندگی تو حیوان بھی گزارتے ہیں۔ اللہ ربّ العزت نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ یعنی ہم سوچنے سمجھنے اور کسی کام کوکرنے یا نہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمار ے وجود کے دو حصے ہیں، جسمانی اور روحانی۔ ہم اپنی پوری زندگی جسمانی یا نفسانی خواہشات کو پورا کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ جس سے ہمارا جسم تو طاقتور ہوجاتا ہے۔ مگر روح کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ روحانی بالیدگی کے لیے روح کو تسکین دینے والے اعمال ضروری ہیں اور ان کے بغیر روح کمزور ہی رہے گی۔ جسمانی غذا زمین سے حاصل ہوتی ہے اور روحانی غذا آسمان سے۔ اس بات کو سمجھیں۔
اپنے بچوں اور بچیوں یعنی نوجوانوں کو ہمیں اس بنیادی حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا۔ اس کام کے لیے پہلے تو افراد کو تیار کیا جائے کہ وہ اس حوالے سے اپنے اپنے گھروں میں کام کریں۔ بہت سے لوگ یہ کام پہلے سے کررہے ہیں۔ ان کو مزید واضح تصور دینا ہوگا۔ نوجوانوں کی اصلاح اُس طریقے سے تو نہیں ہوسکتی، جیسی مطلوب ہے۔ کیوں کہ پورے معاشرے کا اسٹرکچر ایک خاص ڈگر پر چل رہا ہے اور شاید اس حوالے سے کوئی بھی کوشش بارآور نہ ہوسکے۔ لیکن کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ نوجوانوں اور معاشرے کی اصلاح کے حوالے سے مندرجہ ذیل حکمت عملی بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے:
* مختلف ورکشاپس اور اجتماعات کے ذریعے نوجوانوں کو ان کی زندگی کا اصل مقصد یاد دلانا۔ یعنی اللہ اور اس کے رسولؐ کیا چاہتے ہیں؟ یعنی متوازن اور مفید زندگی کیسے گزاری جائے؟
* انہیں یہ یقین دلایا جائے کہ قرآن و سنت پر عمل کرکے دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ دین پر عمل کا مقصد دنیا میں قلاش اور مفلوک الحال زندگی گزارنا نہیں۔
* اس حوالے سے مختلف تعلیمی اداروں کو تیار کرنا کہ وہ طلبہ وطالبات کی تربیت کا خصوصی اہتمام کریں۔
* ایسے خاندانوں کو وجود میں لانا، جو مطلوبہ زندگی گزاریں۔ یعنی ایسے نوجوان جن کا دنیا میں کوئی نہیں، جب وہ شادی کریں تو اپنے خاندان کی بنیاد اسلام کے ابدی اصولوں پر رکھ سکیں:
(۱) یعنی ان کا گھر ہر لحاظ سے مثالی ہو، اس میں نہ تو ٹیلی ویژن ہو اور نہ موبائل فون کا دیوانہ وار استعمال۔ اگر ٹیلی ویژن ہو تو کیبل کی لعنت نہ ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ ٹیلی ویژن، موبائل، لیپ ٹاپ، Tabاور جدید دور کی اس طرح کی اشیاء ہی تمام خرابیوں کی جڑ ہیں۔ لیکن ایک مصیبت یہ ہے کہ ان کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنا ممکن نہیں۔
(۲) ایسے خاندان اپنے بچوں کے پیدا ہوتے ہی ان کی تربیت پر پوری توجہ دیں۔ جب وہ تھوڑے بڑے ہوں تو قرآن سمیت ان کی دینی تعلیم کا پہلے بندوبست کریں۔ پھر انہیں اسکولوں میں داخل کرائیں۔ اور نام نہاد انگلش اسکولوں میں نہیں اور نہ ہی مخلوط تعلیم والے اسکولوں میں۔
(۳) مذکورہ خاندانوں کو اپنی زندگیاں اپنے بچوں کی مثالی تعلیم و تربیت پر وقف کرنا ہوں گی۔
* چھوٹے بچوں کو موبائل فون اور لیپ ٹاپ یا ٹیب (Tab) دینے سے گریز کیا جائے۔ جبکہ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر ضرور دیے جائیں۔ مگر اُن کے بیڈروم میں نہیں، بلکہ گھر کے ایسے حصوں میں جہاں سب کی نظریں ان پر پڑ سکیں۔