ایف بی آر بڑےٹیکس چوروں کیخلاف ہنگامی کارروائی کرے،وزیراعظم 

69
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان ایف بی آر کی کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان ایف بی آر کی کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم جزو ہے‘ ماضی میں عوام اور خصوصاً بزنس کمیونٹی کو ٹیکس حکام کی جانب سے ہراساں کرنے، ٹیکس وصولیوں کے پیچیدہ عمل، کرپشن اور ٹیکس سے جمع شدہ رقم کو حکمرانوں کے شاہانہ رہن سہن کے لیے استعمال کرنے کی وجہ سے شہریوں کا ٹیکس نظام اور ایف بی آر سے اعتماد اٹھ چکا ہے جسے بحال کرنے کی ضرورت ہے‘ ٹیکس نظام میں موجود خرابیوں کو نظر انداز کرنا مجرمانہ غفلت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو وزیرِ اعظم آفس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے وزیرِ اعظم کو پاکستانی شہریوں کی بیرون ملک جائدادوں کی نشاندہی اور ان اثاثوں پر ملکی قوانین کے تحت قابلِ وصول ٹیکس کی وصولی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ مختلف ملکی اداروں، مختلف ممالک سے کیے جانے والے معاہدوں اور دیگر ذرائع سے بیرون ملک موجود پاکستانیوں کے اثاثوں کی تفصیلات موصول ہو رہی ہیں‘ موصول شدہ معلومات کا تفصیلی جائزہ لیکر قانون کے مطابق قابلِ وصول ٹیکس کی وصولی کے لیے سیکڑوں افراد کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں ۔ وزیراعظم نے بیرون ممالک اثاثہ جات سے متعلقہ کیسز کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آف شور ٹیکسیشن کمشنریٹس کو مزید مستحکم کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں نان فائلرز اور بڑی سطح پر ٹیکس بچانے والے افراد کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ایف بی آرکی تنظیم نو کا کام آئندہ چند ہفتوں میں شروع کر دیا جائے گا جس کے لیے جامع پلان مرتب کر لیا گیا ہے‘ عوام الناس کی سہولت کے لیے فوری طور پر نئی ویب سائٹ کا اجرا اور سہولت ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے‘ ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے انٹرنل آڈٹ کے شعبے کو ایف بی آر سے علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں ٹیکسٹائل سیکٹر سے متعلقہ ایشوز پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکسٹائل شعبے کی بحالی کے لیے ہر ممکنہ معاونت کرے گی‘ ملکی معیشت کی بہتری اور استحکام کے لیے دولت کی پیداوار اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سکل ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، سیکرٹری ٹیکسٹائل افتخار بابر و دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم کو سیکرٹری ٹیکسٹائل کی جانب سے آئندہ 5 سال میں ایک لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے مجوزہ پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔