امریکا، برطانیہ کے حوصلے

425

آسیہ ملعونہ کی رہائی کے عدالتی فیصلے سے امریکا اور برطانیہ کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ توہین مذہب کے الزام میں قید دیگر 40 افراد کو رہا کیا جائے۔ امریکا کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کو کس حد تک اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے سزائے موت کے خاتمے کو برطانیہ کا ٹھوس موقف قرار دیا ہے۔ حیرت ہے کہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں غیر عیسائی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے کھلم کھلا امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ اس کی بڑی واضح مثال تو دختر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے جسے کسی جرم کے بغیر امریکی عدالت نے 86سال قید کی سزا دے رکھی ہے۔ اس پر جو الزامات لگائے گئے وہ ثابت نہیں ہوسکے اور اس کا امریکی قید میں جانا ابھی تک ایک اسرار ہے۔ امریکا کی بدنام ترین جیل گوانتاموبے میں سارے ہی قیدی مسلمان ہیں جن کو کئی برس سے قید میں ڈالا ہوا ہے اور ان سے انتہائی بہیمانہ سلوک کیا جاتاہے۔ ان کو عدالتوں تک رسائی بھی نہیں دی جاتی۔ یہ صحیح ہے کہ کسی کو پھانسی نہیں دی جاتی،گولی سے اڑا دیا جاتا ہے یا طویل عرصے کے لیے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ امریکا، برطانیہ اور اس کے دیگر یورپی حواری یہی بتادیں کہ افغانستان اور عراق کے لاکھوں مسلمانوں کا کس بنیاد پر قتل عام کیا گیا جو اب بھی جاری ہے ۔ کیا یہ مذہبی اختلاف کی بنیاد پر نہیں۔ امریکی صدر نے تو اسے صلیبی جنگ قرار دے دیا تھا۔ رہا برطانیہ تو اسے شاید یاد نہیں رہا کہ برعظیم پر قبضہ کرنے کے بعد اس نے کتنے لوگوں کو پھانسی پر چڑھایا جب کہ وہ ایک غاصب تھا۔ اب کہتا ہے کہ وہ پھانسی دینے کے خلاف ہے۔ امریکا ایسا ہی انصاف پسند ہے تو عافیہ صدیقی کو رہا کرے ورنہ اپنا منہ بند رکھے۔ لیکن یہ موقع بھی تو اسے پاکستان کی عدلیہ نے دیا ہے۔ ایک دن پہلے ہی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والوں کو گولی سے اڑا دیا جائے گا۔ گو کہ اگلے دن انہوں نے بھی جارج بش کی طرح اپنا بیان واپس لے لیا لیکن ان کی درندگی تو سامنے آگئی۔