بچوں اور نوجوان نسل کو بچانا ہوگا

38

4 ستمبر کو جرمنی کی مسلم خاتون ’’مروۃ الشربینی‘‘ کو باحجاب ہونے کے باعث قتل کردیا گیا اور وہ الحمدللہ شہادت پاگئی۔ اسلام کی اس شہیدہ کا نام ہمیشہ کے لیے شہید حجاب کے نام سے پہچانا جائے گا۔ دشمنان دین ہر طرف سے اسلام کو دبانے کے لیے ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں پر۔۔۔ ’’اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے، اتنا ہی اُبھرے گا کہ جتنا کہ دبادیں گے‘‘۔
32 سالہ مصری خاتون مروۃ علی الشربینی کو 28 سالہ جرمنی نسل پرست نوجوان نے کمرہ عدالت میں سب کے سامنے شہید کردیا۔ افسوس یہ ہے کہ اس خاندان کا جرم صرف اور صرف حجاب تھا اسی جرم کی پاداش میں انہیں اپنے تین سالہ بیٹے اور شوہر کے سامنے عدالت کے اندر تمام لوگوں کی موجودگی میں بے دردی سے شہید کیا گیا۔ مروۃ علی الشربینی نے اپنی جان کی قربانی دے کر پوری امت مسلمہ کی خواتین کو یہ پیغام دیا کہ ’’حجاب تمہاری پہچان ہے اس کی حفاظت کرو‘‘۔ یہ شہادت مسلم خواتین کے لیے بہترین رول ماڈل ہے۔ آج حجاب کا مسئلہ بنا کر پابندیاں عاید کی جارہی ہیں، فرانس، اسکاٹ لینڈ، ڈنمارک اور تقریباً تمام یورپی ممالک میں حجاب پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔ پر مسلم خواتین اس جانب متوجہ ہوگئی ہیں اور اس معاملے پر ڈٹ گئی ہیں۔ اسلام نے مسلمانوں کو مکمل ضابطہ حیات بخشا ہے، آج اگر اسلامی معاشرے میں عورتیں اپنے اس عظیم مقام سے آشنا ہوجائیں تو پھر نام نہاد مغربی معاشرے کی چمک و دمک کو خیر آباد کردیں۔ ہم اپنی نوجوان نسل کے اندر اسلامی شعائر پیدا کرکے مغربی زہر گھولنے سے روکنا ہوگا۔ آج ہمارے ٹی وی ڈراموں و مارننگ شوز اور اشتہارات نے فحاشی و بے حیائی و عریانیت و مادیت پرستی کو معاشرے میں عام کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوان نسل کو بچانا ہوگا اور حیا کے کلچر کو عام کرنا ہوگا۔
عائشہ بی، گلشن اقبال

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.