ایک اور دریا کا سامنا!

84

جوں جوں تحریک انصاف کی حکومت پرانی ہورہی ہے ’’نیا پاکستان‘‘ بھی پرانا ہورہا ہے۔ عمران خان اپنی باری کا انتظار بڑی بے صبری سے کررہے تھے، اپنی تقاریر میں اکثر یہ دہائی دیا کرتے تھے کہ ’’میاں صاحب! جانے دو، ساڈی باری بھی آنے دو‘‘۔ علاوہ ازیں اپنے مخالفین کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے وہ ان کی جھنجھلاہٹ کا ناقابل برداشت ردعمل ہوا کرتا تھا مگر اکثر دانش ور اور متحمل مزاج سیاست دان یہ سوچ کر خاموشی اختیار کرلیا کرتے تھے کہ قطار میں لگا ہوا آدمی قطرہ قطرہ مرتا ہے اور مرتے ہوئے آدمی کی ہر حرکت کو نظر انداز کرنا ہماری تہذیب ہے۔
تحریک انصاف برسراقتدار آچکی ہے اور عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن چکے ہیں۔ اقتدار کی قطار سے باہر آکر عمران خان کا رویہ خاصا مہذب اور شائستہ ہوگیا ہے مگر ان کا معاملہ منیر نیازی سے مختلف نہیں۔ دریا کے پار جانے کے بعد انہیں بھی ایک اور دریا کا سامنا ہے۔ قوم نے وزیراعظم عمران خان سے بہت سی توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں مگر یہ توقعات خواب جیسی ہیں جن کو تعبیر دینے والا کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ جن بزرگوں نے عمران خان کو وزیراعظم بننے کا موقع دینے کا مشورہ دیا تھا ان کا کہنا ہے، فی الحال کوئی رائے قائم نہ کی جائے۔ تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو۔ یوں بھی اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔ ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندہ کردیتی ہے مگر ایک صاف ستھری مچھلی گندے پانی کو شفاف نہیں کرسکتی۔ المیہ یہ بھی ہے کہ عمران خان دوست نما دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ خدا جانے! وزیراعظم عمران خان کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ غلام احمد قادیانی کے پوتے کو اقتصادی مشیر بنادیا جائے۔ محب الوطن افراد نے اس غلطی کا احساس دلایا تو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی چودھراہٹ جھنجھلا اُٹھی اور موصوف نے اعتراض کرنے والوں کو انتہا پسند قرار دے ڈالا اور کہا کہ ہم قائد اعظم کے پیروکار ہیں اور ان کے نقش قدم پر گامزن ہونا اپنی خوش بختی سمجھتے ہیں۔ قائد اعظم نے قادیانی سر ظفر اللہ کو وزیر خارجہ بنایا تھا گویا چودھری صاحب اس عزم کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ کسی قادیانی کو وزیرخارجہ بناسکتے ہیں مگر جب قوم کا ردعمل سامنے آیا تو غلام احمد کے پوتے کو معطل کردیا گیا اور فرمایا کہ ہم عاشق رسول ہیں کسی منکر ختم نبوت کو اہم عہدہ کیسے دے سکتے ہیں؟!!!۔
کہتے ہیں کسی اندھے کے ہاتھ بٹیر آگئی مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ بٹیر کا شوربا بنایا جائے یا یخنی بنائی جائے، کبھی یہ سوچ حاوی ہوجاتی کہ بٹیر کو بھون لیا جائے مگر کوئی حتمی فیصلہ نہ ہوسکا، اسی کشمکش اور سوچ بچار میں بٹیر اُڑ گئی۔ اس حکایت کے پس منظر میں اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ اقتدار کی بٹیر بھی اُڑ سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کے ہمنوا کہتے ہیں کہ تین ماہ کا وقت دیا جائے سب ٹھیک ہوجائے گا۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان وزیراعظم بننے سے قبل بائیس سال تک موجودہ طرز حکمرانی کی خامیاں بیان کرتے رہے ہیں، سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کی تجاویز دیتے رہے ہیں مگر جب سے برسراقتدار آئے ہیں شش و پنچ میں مبتلا ہیں۔ اقتدار کی دلہن ان کے سامنے ہے مگر وہ گھونگھٹ اُٹھانے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ آخر اس کا سبب کیا ہے؟ کہیں ان کی سوچ شادی مرگ میں تو مبتلا نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.