آجر کسی بہانے سے مزدور کو مستقل کرنے سے منع نہیں کر سکتا، سائیں اللہ ڈنو میتلو

181

سندھ لیبر اپیلٹ ٹریبونل کے ممبر سائیں اللہ ڈنو میتلو نے کیپکو پلانٹ سروس اینڈ انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ ڈھرکی کے دس ورکرز کے خلاف اپیلیں خارج کرتے ہوئے کیپکو کو حکم دیا ہے کہ انہیں داد رسی کی درخواست مورخہ 10 مئی 2016ء سے ریگولرائز کریں اور پنشن اور دیگر بقایا جات اُن کی ملازمت اختیار کرنے کی تاریخ سے دیں۔
تفصیلات کے مطابق ورکرز نے داد رسی کی درخواست نمبر 7/2016 لیبر کورٹ سکھر میں داخل کی اور استدعا کی کہ اُن کی ملازمت کو ریگولرائز کیا جائے اور ان کو مراعات بقایا جات کے ساتھ دی جائیں جیسا کہ بونس، سالانہ چھٹی کی رقم، LFA، میڈیکل کی سہولت وغیرہ، جیسا کہ دیگر ملازمین کو دی جاتی ہیں۔ ورکرز کے مطابق انہوں نے آزمائشی مدت پوری کرلی ہے اور مستقل ملازم کا درجہ اختیار کرلیا ہے لیکن بار بار یاد دہانی اور داد رسی کے نوٹس 29 فروری 2016ء کے باوجود KEPCO انہیں ریگولرائز اور مراعات جو کہ ان جیسے دوسرے ورکرز کو دی جاتی ہیں دینے کے لیے تیار نہیں۔ KEPCO نے اپنے جواب دعویٰ میں موقف اختیار کیا کہ ورکرز مستقل ریگولرائز کرنے کے حقدار نہیں ہیں کیوں کہ 24-2-2014، CBA کے ساتھ معاہدہ ہوا اور یہ طے پایا تھا کہ یہ ورکرز مستقل کرنے کا تقاضہ نہیں کریں گے اور ورکرز نے بھی انفرادی طور پر اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ اس قسم کا تقاضا نہیں کریں گے۔ KEPCO نے مدت ملازم سے انکار نہیں کیا اور ان کا کیس یہ بھی نہ تھا کہ ان کا پروجیکٹ عارضی ہے اور جس عہدہ پر وہ کام کررہے ہیں وہ نو ماہ سے پہلے ختم ہوجائے گا۔ یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تین ماہ مکمل ہونے کے بعد انہوں نے مستقل ورکرز کا روپ اختیار کرلیا۔ لیکن KEPCO انہیں مستقل ورکرز نہیں مانتی تھی اور مستقل ورکرز جیسی مراعات سے محروم رکھا ہوا تھا۔
جب کہ انہوں نے آزمائشی مدت بھی پوری کرلی تھی۔ سی بی اے اور ورکرز نے تحریری طور پر اس بات کی ضمانت دی کہ وہ ریگولرائز اور مستقل کرنے کا تقاضا نہیں کریں گے۔ انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ (اسٹینڈنگ آرڈر) آرڈیننس 1968 جو اب سندھ ٹرم آف ایمپلائمنٹ (اسٹینڈنگ آرڈرز) ایکٹ 2015 صنعتی اور تجارتی اداروں میں ورکرز کی کم از کم مراعات کا تذکرہ دفعہ 3 آرڈیننس اور ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ ورکرز کی شرائط ملازمت اسٹینڈنگ آرڈیننس اور ایکٹ کی دفعہ 4 میں کہا ہے کہ باہمی رضا مندی سے تبدیل کی جاسکتی ہیں وہ بھی ورکرز کے حق میں ہوں، اس میں خاص طور پر کہا گیا ہے کہ اسٹینڈنگ آرڈرز کے تحت جو مراعات ہیں ان کو باہمی رضا مندی سے بھی کم نہیں کیا جاسکتا۔ اسٹینڈنگ آرڈرز 1(b) میں کہا گیا ہے کہ وہ ورکرز جو مستقل نوعیت کے کام پر رکھے گئے اور جو نو ماہ سے زائد ہیں ان کی آزمائشی مدت کے بعد مستقل ورکرز بن جاتے ہیں۔ یہ قبول کیا گیا ہے کہ ورکرز کو مستقل نوعیت کے کام پر رکھا گیا جو کہ نو ماہ سے زائد تھا اور تسلی بخش طریقہ سے آزمائشی مدت پوری کرلی تو قانون میں انہوں نے مستقل ورکرز کا روپ دھار لیا۔ معاہدہ یا یقین دہانی کہ ورکرز مستقل ہونے کا دعویٰ نہ کریں گے کہ ان کو مستقل کیا جانے کی اگر اجازت دے دی جائے تو اسٹینڈنگ آرڈرز کی دفعہ 1(b) کا مقصد ختم ہوجائے گا کیوں کہ قانون نے جو حق دیا ہے وہ لے لیا جائے۔ معاہدہ اور یقین دہانی بھی بغیر کسی متبادل کے ورکرز جنہوں نے مستقل ہونے کا درجہ حاصل کرلیا انہیں نہ تو کوئی چیز دی گئی اور نہ ہی کسی قسم کی اعانت کی گئی کہ وہ ریگولرائز کرنے اور مستقل ہونے کا دعویٰ نہیں کریں گے۔ معاہدہ اور یقین دہانی جو بارگیننگ پوزیشن کے مساوی نہ ہو ظاہراً وہ غیر ارادی ناجائز انتفاع اور امتیازی ہے۔ مراعات جو اس قسم کے دوسرے مستقل ورکرز کو دی جاتی ہیں وہ ان ورکرز کو نہ دینا درست نہ ہے۔ آئین کی دفعہ 3 کسی قسم کے امتیازی سلوک سے منع کرتا ہے۔ آئین کی دفعہ 4 اور 25 برابری کا سلوک کا حق دیتا ہے اور امتیازی سلوک سے منع کرنا ہے ظاہراً معاہدہ اور یقین دہانی ناجائز، امتیازی اور بغیر کسی متبادل اور پبلک پالیسی کے خلاف ہے اور اگر اجازت دی گئی تو اسٹینڈنگ آرڈرز ایکٹ اور آرڈیننس اور آئین کے خلاف ہوگا، اس لیے یہ مناسب نہ ہوگا کہ معاہدہ، یقین دہانی کو قابل عمل کیا جائے، جوابدار کے فاضل وکیل نے ڈاکٹر محمد جاوید شفیع (PLD 2015-S.C-212) جام پری (1992 SCMR-786) اور محمد صالح (1992 SCMR-33) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوابدار ورکرز نے معاہدہ، یقین دہانی کرکے اپنے ریگولرائزیشن کے حق کو کالعدم ختم کردیا ہے ان دلائل میں کوئی وزن نہیں ہے اور مقدمات بالا موجودہ مقدمات سے مختلف ہے، کوئی فیصلہ نہیں کہتا کہ کسی حق کو معاہدہ یا یقین دہانی کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ کسی کم تنخواہ ورکرز کی تنخواہ جو اس کی زندگی کی گزر اوقات کے لیے ہے وہ زندگی کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے، جس کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 9 میں دی گئی ہے جیسا کہ سپریم کورٹ نے میاں محمد نواز شریف کے مقدمہ (PLD 2007 S.C 642) میں کہا ہے کہ ختم یا دستبردار کسی معاہدہ یا یقین دہانی سے نہیں ہوسکتا۔ فاضل وکیل نے مزید کہا کہ لیبر کورٹ کو شہادت کے بغیر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ جب واقعات متنازعہ نہ ہیں تو شہادت کی ضرورت نہ ہے۔ ورکرز کے فاضل وکیل نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ مورخہ 8 دسمبر 2017 (CP No.409 to 414/2017) اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ کا حوالہ دیا جو ریگولرائزیشن سے متعلق ہے کہ آجر ملازمت ریگولرائز کرنے سے کسی شرمناک بہانے سے انکار نہیں کرسکتا۔ درج بالا وجوہات اور حقائق کی روشنی میں اپیل میں کوئی وزن نہیں ہے جسے خارج کیا جاتا ہے اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ ورکرز کی ملازمت داد رسی کی درخواست داخل کرنے کی تاریخ مورخہ 10 مئی 2016ء سے ریگولرائز کی جائے اور اس کی پنشن اور دوسری مراعات اس کی ملازمت اختیار کرنے کی تاریخ سے دی جائیں۔ KEPCO کی جانب سے مکیش کمار کرارا ایڈووکیٹ جب کہ ورکرز کی طرف سے ملک رفیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔