متوسط اور غریب طبقہ مہنگے علاج کامتحمل نہیں ہوسکتا،صدرممنون

98
راولپنڈی، صدرمملکت ممنون حسین تقریب سے خطاب کررہے ہیں
راولپنڈی، صدرمملکت ممنون حسین تقریب سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(صباح نیوز)صدرمملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ غریب اور پسماندہ علاقوں کے عوام تک علاج معالجے کی سستی سہولتیں پہنچانے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ساتھ طبی ادارے اور پیشہ ورانہ انجمین اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔صدر مملکت نے یہ با ت بین الاقوامی کارڈیک الیکٹروفیزیالوجی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔صدر مملکت نے کہا کہ دل کے امراض کی تشخیص، علاج اور جراحی کے مراحل اتنے مشکل ، طویل اور مہنگے ہیں کہ متوسط اور غریب طبقہ ان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں طبی تحقیق کا فقدان ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسے امراض کی تشخیص اور علاج کے لیے درکار آلات اور مشینری درآمد کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے علاج کی لاگت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی جان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ علاج معالجے کے لیے استعمال ہونے والی دواؤں اور مشینری کا معیار بہترین ہو لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ پیچیدہ امراض کے علاج میں آسانی پیدا کرنے پر توجہ دی جائے تاکہ پسماندہ اور کم آمدنی رکھنے والے طبقات بھی اس سے مستفید ہو سکیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں اس سلسلے میں کامیاب تجربات ہوئے ہیں ۔ اگر آرمی میڈیکل کو ر، دیگر طبی ادارے اور پیشہ ورانہ تنظیمیں ان معاملات پر توجہ دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ صدر مملکت نے توقع کا اظہار کیا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے پر توجہ دے کر ایک بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔