پاکستانی خواتین میں تمباکونوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے،رپورٹ

270

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں مردوں کے ساتھ ساتھ اب خواتین میں بھی تمباکو نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے،سگریٹ نوشی کو خواتین نے اسٹیٹس سمبل سمجھ لیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال قریباً ایک ٹن سے زائد تمباکو فروخت ہوتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال تمباکو نوشی سے ہزاروں افراد ابدی نیند سو جاتے ہیں۔ اس رجحان میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف اشتہاری مہمات کی کمی اور حکومت کی عدم
توجہی ہے جن کی وجہ سے نوجوان لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی اس جان لیوا نشے میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ ایک غیر ملکی رپورٹ کے مطابق نوجوان لڑکیوں میں سگریٹ نوشی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ سگریٹ نوشی کو خواتین نے اسٹیٹس سمبل سمجھ لیا ہے۔ انہی خیالات کے سبب خواتین میں سگریٹ نوشی اس قدر عام ہوگئی ہے کہ دفتری خواتین ہی نہیں بلکہ اسکول، کالج اور دیگر درس گاہوں میں فرائض انجام دینے والی خواتین بھی اس لت میں مبتلا ہوگئی ہیں۔ ایک مشاہدے کے مطابق اکثر نوکری پیشہ خواتین دفتری اوقات میں پورٹیبل شیشے کا استعمال کرتی ہیں جس کی وجہ سے اس کی ڈیمانڈ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عورتوں میں تمباکو نوشی کی وجہ سے منہ، پھیپھڑے اور چھاتی کا کینسر عام ہے، خاص کر حاملہ خواتین پر تو اس کا بہت ہی برا اثر پڑتا ہے۔