شمالی کوریا کے 8ماہی گیر  فرار ہوکر جاپان پہنچ گئے

294
ٹوکیو: شمالی کوریا کے مفرور ماہی گیروں کی کشتی جاپانی بندرگاہ پر کھڑی ہے
ٹوکیو: شمالی کوریا کے مفرور ماہی گیروں کی کشتی جاپانی بندرگاہ پر کھڑی ہے

ٹوکیو (انٹرنیشنل ڈیسک) جاپان میں حکام کے مطابق مبینہ طور پر شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے 8 ماہی گیروں کو جاپان کے ساحل پہنچنے پر حراست میں لے گیا ہے۔ جاپان کے ساحل پر پہنچنے والی اس کشتی پر 8 افراد سوار تھے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر ہیں اور ان کی کشتی طوفان کی وجہ سے جاپان آ پہنچی ہے۔ جاپان کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان 8 افراد کے بارے میں جمعرات کی رات گئے معلوم ہوا جس کے بعد انہیں حراست میں لے گیا۔ ان افراد نے حکام کو بتایا کہ ان کی کشتی میں خرابی پیدا ہو گئی تھی اور وہ شمالی کوریا سے بغاوت کر کے نہیں آئے۔ واضح رہے کہ شمالی کوریا کے ماہی گیروں کی کشتیاں باقاعدگی سے جاپان کے ساحلی علاقوں میں آ جاتی ہیں اور اس کے کوسٹ گارڈز کو کبھی کبھی ان ماہی گیروں کو بچانا پڑتا ہے۔ جاپان کے قومی پبلک سیفٹی کمیشن کے چیئرمین نے صحافیوں کو بتایا کہ ان افراد کا کہنا تھا کہ وہ جاپان کے شمال مشرقی ساحلی علاقے میں تھے جب ان کی کشتی میں خرابی پیدا ہو گئی۔ جاپانی میڈیا کے مطابق یہ افراد بظاہر سکویڈ نامی مچھلی کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جاپان کے میڈیا پر دکھائی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کی کشتی پر لائٹ بلب لگا ہوا تھا جسے ماہی گیر اکثر رات کو مچھلی کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ افراد جاپان رکنا چاہتے ہیں یا شمالی کوریا واپس جانا چاہتے ہیں۔
ماہی گیر؍ جاپان