جنگ سے بچنا بہتر تھا……

70

مظفر اعجاز

ہم نے پاک بھارت کشیدگی پر مباحثوں کو ٹاک شو کہا تھا۔ کچھ لوگ ناراض ہوئے تھے۔ اب لگتا ہے ٹاک شو ہلکا ہوگیا ہے یا ختم ہونے کے قریب ہے، پھر بھی ایک بحث چھڑی ہوئی ہے کہ جنگ کیوں نہیں ہوئی۔ پاکستانی حکومت یا عمران خان کی فراست تھی۔ بھارت کی کمزوری تھی یا دونوں ممالک کی ملی بھگت۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حوالے سے میڈیا پر دفاعی تجزیہ نگار کے عنوان سے جو لوگ پیش ہورہے ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق دفاعی امور سے کم ہے وہ اس حوالے سے حاصل کردہ تعلیم یا سفارش کی بنیاد پر تجزیے کررہے ہیں۔ بلکہ سفارشی زیادہ ہیں۔ اس موضوع پر سماجی ذرائع ابلاغ المعروف سوشل میڈیا پر خوب بحث چل رہی ہے۔ فوج کو بتایا جارہا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے تھا، حالاں کہ فوج کم از کم سوشل میڈیا سے زیادہ جانتی ہے کہ اسے کیا کرنا تھا اور حکومت بھی سیاستدانوں کو تو فوج ہی بتاتی ہے۔ مرکزی دھارے کا (مین اسٹریم) میڈیا اور سماجی میڈیا بھی بتاتا ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے اور وہ جو بھی کریں غلط ہی نکلتا ہے۔ اب ذرا غور کریں کہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر جنگ چھڑنی چاہیے تھی یا نہیں۔ جب کہ بھارت نے ایک دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تین سو دہشت گرد مار دیے ہیں۔ یہی کام پاکستان نے کیا اور کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ بھارت کی بدقسمتی کہ اس کے طیارے پاکستان میں پھنس گئے اور ایک طیارہ پاکستانی حدود میں مارا گیا۔ پائلٹ گرفتار ہوا۔ لیکن کیا اس پر جنگ ہوجاتی ہے؟ دنیا میں ایسے سیکڑوں واقعات ہوتے ہیں لیکن کبھی جنگ نہیں ہوئی۔ جنگ تو جب ہوتی ہے تو ہوجاتی ہے حالات ضرور کشیدہ ہوتے ہیں۔ پھر کیا ہوا۔ کیا عمران خان کی جانب سے پائلٹ کو رہا کرنے کے اعلان سے جنگ رُک گئی۔ ممکن ہے ایسا ہی ہوا ہو۔ لیکن یہ اہم اعلان عمران خان اپنی تقریر کے دوران کیوں نہ کرسکے۔ جب اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کا نام پکارا جا چکا وہ کھڑے ہوگئے اور لوگ ان کی طرف متوجہ ہورہے تھے تو عمران خان کھڑے ہوئے اور کہا کہ ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ امن کے پیغام کے طور پر ہم کل بھارتی پائلٹ کو رہا کررہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم اتنی اہم بات کیسے بھول گئے۔ پھر کیا کسی نے انہیں یہ یاد دلایا تھا یا ازخود یاد آگئی۔ بہرحال ہر صورت میں یہ بات بڑی حیرت کی ہے۔ یہ بھولنے والی بات نہیں تھی۔ اسی طرح پاکستانی میڈیا، سیاستدان اور نومولود سوشل میڈیا کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ اصولاً یہ فیصلہ کرنا کہ جنگ ہوگی یا نہیں، کب کہاں ہوگی، کب شروع کی جائے گی اور کیوں شروع کی جائے گی۔۔۔ یہ سیاسی قیادت کا کام ہے۔ لیکن چوں کہ طویل عرصے سے گملے اور پنیری والے سیاستدان ہی حکمرانی کررہے ہیں اس لیے وہ یہ اختیار استعمال کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے اپنے حق اور فرض سے ناآشنا ہیں۔ سارا کام تنہا فوج کرتی ہے۔ یا اسے کرنا پڑتا ہے۔ یہ ’’کرنا پڑتا‘‘ بھی اسی لیے ہے کہ ملکی سیاست میں اس کا اپنا عمل دخل ہے اور جیسے لوگ یا سیاستدان گملے سے پارلیمنٹ میں پہنچائے جاتے ہیں ان کی موجودگی میں یہ کام فوج ہی کو کرنا ہوگا۔ یہاں سے خرابی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ چوں کہ سیاستدان اور حکمران اس صلاحیت ہی سے عاری ہیں کہ جنگوں جیسے امور کا فیصلہ کرسکیں اس لیے وہ بھی مطمئن ہیں کہ یہ کام فوج ہی کرلے۔ حالاں کہ کاندھا سیاستدانوں اور پارلیمنٹ ہی کا استعمال ہوتا ہے۔
اب اس پر غور کریں کہ اس کشیدگی اور پھر جنگ نہ ہونے کے اثرات کیا ہوتے۔ اب سیاسیاست، صحافت اور بین الاقوامی تعلقات کے اساتذہ بھی نوٹ کرلیں کہ اس کا ایک فائدہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں اور افواج کو یکساں طور پر ملا ہے دونوں ملکوں کی حکومتوں اور افواج کو بڑے پیمانے پر عوامی پزیرائی اور اپوزیشن کی حمایت حاصل ہوئی۔ اب دونوں ملکوں کی حکومتیں اور فوج اپنی مرضی کے فیصلوں میں زیادہ آرام اور آسانی محسوس کریں گی۔ البتہ اس معاملے میں پاکستانی فوج اور حکومت کا پلڑہ ہر اعتبار سے بھاری رہا۔ عجلت میں پائلٹ واپس کرنے سے قطع نظر بھارتی طیارے گرانا، پائلٹ گرفتار کرنا اور بھارتی اہداف تک پہنچ کر ان کے قریب فائر کرکے بحفاظت واپس آنا کمال ہے، اسے فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا کمال ہی کہا جانا چاہیے۔ بھارتی پائلٹ کو واپس کرنے سے جنگ کے خدشات بلاشبہ کم ہوئے کہ عجلت کیوں کی تھی کس کا اشارہ تھا کس کا دباؤ تھا اس کا اب تک پتا نہیں چلا۔ لیکن بہرحال اس کے نتیجے میں بھارت دباؤ میں آیا۔ یہ بات سب ہی سمجھ لیں کہ آج کل جنگیں کیوں تباہی کا پیغام لاتی ہیں۔ آج کل جو جنگیں دنیا میں لڑی جارہی ہیں ان میں سے بیشتر بڑی جنگیں حریف ممالک کی اپنی جنگیں نہیں ہیں۔ افغانستان میں سوویت یونین اور امریکا نے براہ راست جنگیں ایک فریق سے لڑیں اور وہ افغان تھے، دونوں نے بری طرح شکست کھائی۔ لیکن شام، عراق، ترکی، فلسطین وغیرہ میں جو جنگیں ہورہی ہیں ان کا جائزہ لیا جائے، شام کس ملک سے لڑ رہا ہے، عراق کس کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، ترکی کو کس سے خطرہ ہے، کس پر حملہ کررہا ہے، فلسطین، لبنان وغیرہ میں کون سا ملک برسرپیکار ہے؟ ہر جگہ صرف اور صرف بین الاقوامی اسلحہ ساز کمپنیاں اور امریکا مصروف ہیں، فائدہ بھی ان ہی کا ہورہا ہے، یہ امریکا اور مغربی ممالک نے کروڑوں لوگوں کو اپنی جنگوں میں مارا ہے۔ لہٰذا اب وہ دوسرے ممالک اور کمپنیاں کھیل کھیل رہی ہیں۔ یہ جس کا بھی فیصلہ تھا کہ جنگ سے بچا جائے اس لیے ٹھیک تھا کہ اب اگر خطے میں جنگ ہوگی تو سارے پہلوان پہنچ جائیں گے۔ پھر اِدھر سے چین للکارے گا تو اُدھر سے امریکا اور دوسرے مغربی ممالک۔ تو کہیں افغانستان اور ایران اور بھارت۔۔۔ ممکن ہے یہ فیصلہ کرنے والوں نے پی ایس ایل کے پاکستان میں ہونے والے میچوں کو پرسکون رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہو اور ان کی سوچ بھی وہاں تک نہ گئی ہو۔ لیکن اب ضرور سوچ لیں۔ ہمارے پاس بہت کچھ ہے خوفزدہ نہ ہوں، دباؤ قبول نہ کریں، دوسروں کی جنگ کو اپنے گھر سے دور رکھیں۔ ہمارے وسائل صرف پاکستان کے نہیں امت مسلمہ کے بھی ہیں، آج نہیں تو کل کوئی قیادت یہ سمجھ سکے گی۔